سود کی لعنت

مشرقیات

سیاست کو ایک طرف رکھ کر اپنے مسلے مسائل پر سوچیں ،مہنگائی نے آپ کا کچومر نکال دیا ہے اور ماہرین معیشت کے مطابق ابھی اس مہنگائی نے اس عالم کی آپ کو سیر کر انی ہے جہاں آپ بے ساختہ پکار اٹھیں گے” ہم تو اس جینے کے ہاتھوں مر چلے”۔مطلب یہ کہ ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ دنیا بھر میں غذائی بحران کمزور معیشت کے حامل ملکوںکو سب سے پہلے متاثر کرے گا اور بعد میں یہ امیر ملکوں کی قوت خرید پر اثرانداز ہو سکتا ہے۔اب اس کے سامنے بند باندھنے کی تیاری کرنی ہے توظاہر اس کے لیے ہر طرح کے اختلافات بھلا کرہماری لیڈرشپ کو سر جوڑ کر اتفاق سے ایک میز پر بیٹھنا ہی نہیں ہوگا بلکہ اس میز سے اتفاق رائے کر کے اٹھنا ہوگا۔سنا ہے فٹٰیف کی گرے لسٹ سے نکلنے کے لیے پنڈی والوں نے سوٹی بغل میں داب کے اس قانونی مسودے پر اتفاق رائے پیدا کرا دیا تھا جس پر آزاد رہ کر سیاسی جماعتوں کے اتفاق کا سوال ہی پید انہیں ہوتا تھا تب ایک نہیں کئی مرتبہ اس سوٹی کی جھلک نے وہ وہ کام کرائے کہ اصول پسندی اور جمہوریت کے پرفریب نعرے بھی لوگوں کی یادداشت سے مٹ گئے تو کیا اب ملکی مفاد کی خاطر اس سوٹی کا سہارا لے کر سیاسی قیادت کو ایک پیج پر نہیں لایا جاسکتا ویسے بھی پنڈی والوں کو سب نہیں صرف ایک سیاسی جماعت پر کام کرنا ہے وہ راضی تو باقی سب انتظار میں بیٹھے ہیں اس کے لیے نیوٹرل ازم میں تھوڑی سے گنجائش پیداکرنی پڑے گی کہ ملک وقوم کے فائدے بلکہ مستقبل شاد باد کا سوال ہے۔تو جناب ساری توانائیاں اس بات پر صرف کریں کہ کس طرح ملک معاشی بحران سے بچ بچاکر نکلے اور ساتھ ہی غذائی طور پر خود کفالت کی منزل بھی پالے ،دو چار دن کے غور وخوض کے بعد اس سلسلے میں کوئی حکمت عملی تشکیل دی جاسکتی ہے اور سیاسی جماعتیں سب کچھ بھول کر اس حکمت عملی پر عمل کرنے دوڑ پڑیں تو ہم کو اس کے حیرت انگیز نتائج بھی دیکھنے کو مل سکتے ہیں تو کیا یہ خوش نما خوش فہمی پال لی جائے کہ ہر بندہ بشر اس قوم کا مہنگائی کے ہاتھوں پامال ہے۔زیادہ نہیں صرف ایک بات پر فوری توجہ دینے کی ضرورت ہے سرکار جانتی ہے کہ اس کی راجدھانی میں زرخیز زمینوں پر بے تحاشا آبادی کر کے ملک میں زرعی پیداوار کا رقبہ کم کیا جا رہا ہے اس رحجان پر فوری پابندی ہونی چاہئے اس پر کوئی لمبی چوڑی بحت کی ضرورت ہے نہ ہی سوچنے کا وقت باقی ،زرعی زمین کے بدلے کسانوں کو اپنی آپادی کے لیے متبادل زمین سرکار کی طرف سے فراہم کی جاسکتی ہے رہیں ہائوسنگ سوسائٹیاں تو زرعی زمین پر انہیں بسانے کی قطعی اجازت نہیں ہونی چاہئے۔کوئی ایک شہر تو نہیں جہاں اس قسم کا نوحہ نہ پڑھا جارہا ہوں تمام ملک کی ہریالی کہاں کھو گئی ،سوچیں اور رک جائیں۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات