ہندوکاسرقلم

بھارت میں نوپورشرماکے حمایتی ہندوکاسرقلم

اودھے پور(ٹی وی رپورٹ)بھارتی ریاست راجھستان کے ضلع اودھے پور میں ایک شخص کا سر تن سے جدا کیے جانے کے واقعے کے بعد حالات کشیدہ ہیں ۔

بتایاجارہاہے ایک ہندودرزی کادو مسلمان نوجوانوں نے سرقلم کیا ہے۔ ہندو درزی کے بارے میں مسلماننوجوانوں کی طرف سے جاری کردہ ویڈیو میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ بی جے پی کی ترجمان نوپورشرماکی طرف سے پیغمبر اسلام کی شان میں کی گئی گستاخا نہ گفتگوکی اس درزی نے حمایت کی تھی اورسوشل میڈیاپرگستاخانہ گفتگوکے حق میں پوسٹ بھی شیئرکی تھی جس سے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے ۔

ڈائریکٹر جنرل پولیس ایم ایل لاتھر کا کہنا ہے کہ قتل کے اس واقعے میں ملوث دوافرادکوگرفتارکرلیاگیاہے۔مقتول کنہیہ لال تیلی دھان منڈی پولیس سٹیشن کی حدود میں درزی کی دکان چلاتے تھے۔ منگل کو کچھ لوگ ان کی دکان میں کپڑے سلوانے کے بہانے آئے اور انھیں دکان سے باہر لے جا کر تلوار سے ان کی گردن اڑا دی۔خبر رساں ادارے اے این آئی نے کہا ہے کہ قتل کے واقعے کے بعد اودھے پور کے کچھ علاقوں میں احتجاج شروع ہو گیا ہے۔

وزیراعلی راجھستان اشوک گلہٹ نے کہا ہے کہ میں ہر ایک سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ پر امن رہےں اور واقعے کی ویڈیوشیئرنہ کریں۔اس واقعہ کے بعد ہندو تنظیموں میں غم و غصہ نظر آ رہا ہے اور ان کی جانب سے علاقے کی مارکیٹوں کو بند کرا دیا گیا ہے اورہندومسلم فسادات کاخطرہ پیداہوگیا ہے ۔قتل کے واقعے کے بعد راجھستان کی حکومت نے پوری ریاست میں ہائی الرٹ جاری کیا ہے۔ مسلم نوجوانوں کی طرف سے جاری کردہ ویڈیومیں دعویٰ کیاگیا ہے کہ مزیدنوجوان بھی مزاحمت کےلئے تیار ہیں،بتایاجارہاہے کہ انتہائی قدم اٹھانے والے نوجوانوں نے بھارتی وزیراعظم مودی کے قتل کی بھی دھمکی دی ہے۔

مزید دیکھیں :   حکومت کے ایک اور اتحادی کا پٹرول قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار