اللہ تعالیٰ سے جنگ کب تک؟

گزشتہ روز تنظیم اسلامی کے زیراہتمام انسداد سود مہم کے حوالے سے ملک گیر احتجاجی مظاہرے ہوئے۔اسی نوع کا ایک بڑا مظاہرہ دارلحکومت اسلام آباد میں بھی ہوا۔ مظاہرین نے سپر مارکیٹ سے ہوتے ہوئے نیشنل پریس کلب تک مارچ کیا۔ مظاہرین نے بینرز اور پلے کارڈز اٹھائے ہوئے تھے جس پر ملک میں مروجہ سودی نطام کے خلاف نعرے درج تھے۔ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مظاہرین نے حکومت پر زور دیا کہ وہ اپریل دو ہزار بائیس کو سود سے متعلق وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کے عملی نفاذ کے لئے فوری اقدامات اٹھائیں تاکہ مملکت خداداد میں آئین اور شریعت کی روح کے مطابق سود سے پاک ایک صاف ستھرے معاشی نظام کا قیام عمل میں لایا جاسکے۔مقررین نے کہاکہ بحیثیت مسلمان ہمارا فرض ہے کہ ہم سود سے پاک معاشی نظام کے عملی نفاذ کیلئے اسی کوشش میں اپنا حصہ ڈال کر اللہ تعالیٰ سے جاری جنگ کا خاتمہ کریں تاکہ اس ملک پر اللہ کی رحمتیں نازل ہوں اور ہم بحیثیت قوم بین الاقوامی برادری میں آگے بڑھ سکیں۔حقیقت یہ ہے کہ سودی نظام نے اس ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے اور اسی سودی نظام کے نتیجے میں آج اس ملک کا بچہ بچہ تقریبا ایک لاکھ اسی ہزار روپے کا مقروض ہے۔اور ہرسال ہمارے قومی بجٹ کا ایک ضحیم حصہ سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ انیس سو چوراسی سے لے کر ہم نے بین الاقوامی مالیاتی اداروں سے ابھی تک تئیس بارقرضے لئے ہیں۔ اگر اسی سودی نظام میں ہمارے لئے کوئی خیر ہوتا تو آج ہمارا معاشی نظام مستحکم ہوتا لیکن ہم دیکھتے ہیں کہ ہم آئے دن سود کی بھنور میں اس طرح پھنسے چلے جارہے ہیں کہ اب اس سے نکلنے کی بظاہر کوئی امکانی صورت ہی نظر نہیں آرہی ۔ اسی سال اپریل کو جب وفاقی شرعی عدالت نے برسوں سے التوا میں پڑے مروجہ سودی نظام کے خلاف فیصلہ دے دیا تو عوامی حلقوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی ۔عدالت نے اپنے فیصلے میں حکومت پر واضح کیا کہ وہ سود سے پاک متبادل نظام کیلئے پانچ سال کے اندر اندر اقدامات کریں اور اکتیس دسمبر دوہزار بائیس تک سود سے پاک معاشی نظام کی تشکیل کے لئے پارلیمان سے تمام ضروری قانون سازی مکمل کریں لیکن حکومتی خاموشی اس بات کی عکاس ہے کہ وہ موجودہ استخصالی نظام کو ختم کرنے میں سنجیدہ نہیں ہے۔ اس فیصلے کو دوماہ مکمل ہوگئے ہیں لیکن حکومت اسی لعنت سے معاشرے کو پاک کرنے کے لئے ٹھوس اقدامات لینے میں مسلسل لیت و لعل سے کام لے رہی ہے ۔ اگر ایک عام آدمی عدالتی حکم نامے کے خلاف آواز اٹھا ئے تو توہین عدالت کا مرتکب ٹھہرتا ہے، آئینی نکات پر لب کشائی کرے تو غددار ٹھہرتا ہے، کسی فتنہ گر ملا کی فتنہ گری پرسوال اٹھائے تو اس پر کفر کا فتوی لگ جاتا ہے لیکن حکومت اپنے ہی ایک باوقار داراے کے فیصلے کو ردی کی ٹوکری کی نذرکرکے نہ ہی توہین عدالت کی مرتکب قرارپائی اور نہ ہی غددار ٹہری۔
وہی قاتل وہی گواہ وہی منصف ٹھہرا
اقربا میرے کریں خون کا دعویٰ کس پر
اسکی وجہ یہ ہے کہ اس سودی نظام سے ملک کے اشرافیہ، بڑے بڑے کاروباری افراد، قومی اورملٹی نیشنل کمپنیوں اور بالخصوص ملکی سیاسی اور معاشی نظام سے جڑے ایسے افراد کے مفادات وابستہ ہیں جس کے سامنے حکومت بے بس ہے۔اسی سودی نظام کا سب سے بڑا فائدہ ان بین الاقوامی مالیاتی اداروں کو پہنچتا ہے جو اسی قرض کی آڑ میں ہمارے سیاسی اور معاشی نظام کے سیاہ وسفید کے مالک بن جاتے ہیں۔اور پھر وہ ہمیں بتائیں گے کہ ہمیں ملک کو کیسے چلانا ہے اور ہماری خارجی اور داخلی پالیسیاں کیا ہونگی۔ یہی وجہ ہے کہ حکومت میں شامل پارٹیوں کے علاوہ اپوزیشن جماعتوں کی طرف سے بھی اس سلسلے میں کوئی دبنگ آواز نہیں اٹھ رہی۔ ستم ظریفی یہ ہے کہ برسوں سے اسلام کے نام پرسیاست کرنے والے مولانا فضل الرحمن بھی خاموش تماشائی بنے اللہ تعالیٰ سے اس جنگ میں حکومت کے ساتھ فریق بنا بیٹھا ہے۔ بات بات پر عوام کو سڑکوں پر لانے اور اسلام آباد کو بند کرنے کی دھمکیاں دینے والے مولانا کو اب نہ تو اس ملک میں کہیں مہنگائی نظر آرہی ہے اور نہ اسی سودی کاروبار میں کوئی گناہ۔نظام مصطفی کے قیام پر اپنی سیاسی دکان چمکانے والے مولانا موصوف کو اپنے بیٹے اور پیٹی بندوں کو عنان اقتدار تک پہنچانے کے بعد اس ملک میں اچانک سب کچھ ٹھیک نظر کیسے اور کیوں آنے لگا ۔ ؟ لیکن اس سے بھی افسوسناک امر یہ ہے کہ سٹیٹ بینک سمیت ملک کے چار بڑے بینکوں یونائیٹڈ بینک، حبیب بینک، مسلم کمرشل بینک اور نیشنل بینک نے وفاقی شرعی عدالت کے فیصلے کو سپریم کورٹ میں چیلنج کرنے کا اعلان کیا ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت نے عدالتی فیصلے کو چیلنج کرکیاللہ تعالیٰ سے اس جنگ کو جاری رکھنے کا اعلان کیا ہے ۔ اس مقدمے کی پیروی ملک کے نامور وکیل سلمان اکرم راجہ کرینگے۔ حکومتی پشت پناہی میں وکیل موصوف شائد یہ مقدمہ جیت بھی جائیں لیکن اللہ تعالیٰ سے جنگ کی قیمت اس ملک کو اور اسکے پسے ہوئے عوام کو کس طرح ادا کرنی پڑے گی اسکا اندازہ کوئی انسانی ذہن لگا ہی نہیں سکتا۔

مزید دیکھیں :   سیاسی گھمن گھیری