مشکلات کا شکار حکومت کی نئی مشکل

تحریک عدم اعتماد کو مل کر کامیاب بنا کر حکومت سازی کرنے والے اتحادیوں کی صفوں میں دوماہ بعد ہی دراڑ پڑنے کی صورتحال سامنے آرہی ہے اس قدر جلد شکوہ شکایات اور تنقید کرنے والے اکٹھے ہی کیسے ہوئے تھے اس کا اندازہ مشکل نہیں اخباری اطلاعات کے مطابق وفاق میں حکومتی اتحاد میں شامل اہم جماعت جمعیت علماء اسلام ‘ متحدہ قومی موومنٹ نے پیپلز پارٹی سندھ کے بلدیاتی الیکشن میں دھاندلی کا ا لزام لگاتے ہوئے اتحاد پر نظر ثانی کی دھمکی دے دی جبکہ بلوچستان عوامی پارٹی نے بھی گلے شکوے کئے ہیں۔نوخیز اتحادی حکومت کو ابتدائی مہینوں اور بجٹ کی منظوری کے دنوں ہی میں اپنی ہی صفوں میں تنقید کا سامنا سیاسی طور پر تو کسی خطرے کا باعث اس لئے نہیں کہ بجٹ کی منظوری کے دنوں اور انتخابات کے نتائج کے بعد عموماً اسی طرح کی صورتحال پیدا ہوتی ہے نیز جس قسم کی مشکلات سے حکومت گزر رہی ہے ان مشکلا ت سے کہیں بہتر آپشن انتخابات میں جانا ہے علاوہ ازیں کہیں نہ کہیں یہ تاثر بھی پایا جاتا ہے کہ آئی ایم ایف سے قرضے کی منظوری اور بجٹ کی منظوری کے بعد اس حکومت کا کام مکمل ہوجائے گا اس کے بعد سب کی ترجیح نئے انتخابات ہی ہوں گے خود حکمران جماعت کا ایک موثر گروپ اس امر کا خواہاں ہے کہ موجودہ حالات میں حکومت سے کہیں بہترفیصلہ انتخابات ہیں یہ سارے عوامل اور سیاسی ترجیحات اپنی جگہ لیکن دو ماہ بعد ہی حکومتی اتحاد میں چہ میگوئیوں اور تنقید کا آغاز ملکی معیشت اور خاص طور پر بیرونی سرمایہ کاری و استحکام کے حوالے سے پریشان کن امر ہے ایک اعلیٰ شخصیت کے دورہ چین اور سعودی عرب ملک میں سیاسی استحکام کی ضمانت کے حوالے سے اہم سمجھا جاتا ہے جس سے قطع نظر حکومت سازی اور حصول حکومت کا عمل اولاً شروع سے پوری طرح شفافیت کے تقاضوں کے مطابق ہونا چاہئے ایسا ہوتا تو بیچ چوراہے ہنڈیا پھوڑنے کی نوبت نہ آتی سیاسی جماعتوں اور تانگہ پارٹیوں کو اپنے پہلے اتحادی کے ساتھ کھڑا رہنا چاہئے تھا اس قدر عدم ہم آہنگی تھی تو سابق اتحادی سے دغا کی ضرورت ہی کیا تھی؟سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ جب ان کو فنڈز بھی ملتے تھے اور وہ خوش بھی تھے تو ایسی کیا مجبوری آں پڑی تھی کہ وہ حکومت کی حمایت سے دستبردار ہو گئے اب جبکہ وہ ایک نئی حکومت اور اتحاد کا حصہ بن چکے ہیں تو کچھ عرصہ ساتھ نبھاتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار نہ کریں جو ملک میں سیاسی عدم استحکام کے تاثر کا باعث بنے سیاسی طور پر وہ جو بھی فیصلہ کریں ہمیں اس سے کوئی سروکار نہیں لیکن اس کے معیشت پر اثرات سے تشویش کا اظہار اور فکرمند ہونا فطری امر ہے البتہ اصولی موقف کا اظہار ضرور ہونا چاہئے سود کے خاتمے کے خلاف اپیل کے حوالے سے جے یو آئی کے تحفظات ہیں جبکہ ایم کیو ایم کے حسب سابق بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے تحفظات دور نہیں کئے گئے ابھی یہ عالم ہے تو آگے چل کر ایم کیو ایم اور پی پی پی میں خلیج گہری ہو سکتی ہے ایسا ہونا عین ممکن اس لئے بھی ہے کہ دونوں ایک دوسرے کے سیاسی حریف ہیں اور کوئی بھی دوسرے کو جگہ دینے کی متحمل نہیں ہو سکتی۔ محسن داوڑ کو علی وزیر کے پروڈکشن آرڈر کے اجراء کے باوجود قومی اسمبلی کے اجلاس میں لانے کو یقینی نہ بنانے پر تحفظات ہیں جبکہ باپ والے بھی محرومی اور نظر انداز ہونے کی شکایت کر رہے ہیں اتحادیوں کے شکوے شکایات سنجیدہ ضرور ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ کچھ وقت نکال لیں گے بہرحال یہ وزیر اعظم کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی شکایات سنیں اور اس کا ازالہ کرنے کی سعی کریں ان حالات میں اکتوبر میں انتخابات عین متوقع ہوتے نظر آرہے ہیں سیاسی جماعتیں اگر ہوش کے ناخن لیں تو بجائے اس کے کہ اس طرح الجھنے اور بار بار کی بیساکھی زدہ کمزور حکومت حاصل کرنے کے اس مرتبہ تمام سیاسی اختلافات کے باوجود باہم اتفاق سے انتخابات کو اپنی حد تک شفاف بنانے اور ایسے امیدواروں کو ٹکٹ کے اجراء سے جو حقیقی معنوں میں اپنی سیاسی جماعتوں کے وفادار اور کارکن ہوں کا فیصلہ کریں جو خود ان کے اپنے حق میں بہتر ہوگا۔ سیاسی جماعتوں کو چاہئے کہ وہ الیکٹیبلز کے در پر سرنگوں ہونے کی بجائے سیاسی اتحاد بنائیں اور اپنے بل بوتے پر حکومت حاصل کریں تو اس طرح کے حالات سے دو چار ہونا نہیں پڑے گا اور مضبوط حکومت قائم کرنے کا خواب پورا ہو گا یا کم از کم کھلونا حکومت نہیں بنے گی اور اعتماد سے فیصلہ سازی اور پالیسی سازی ہوسکے گی۔

مزید دیکھیں :   جشن آزادی اور ہمارے رویے