کورونا ریلیف فنڈ ٹیلی تھون نشریات جاری – وزیراعظم عمران خان کی نشریات میں شرکت

اسلام آباد : کورونا وائرس کی وجہ سے ہونے والے لاک ڈاؤن سے متاثرہ افراد کی امداد کے لیے کورونا ریلیف فنڈ ٹیلی تھون نشریات جاری ہے جس میں وزیراعظم عمران خان خود شریک ہیں۔

وزیراعظم عمران خان "احساس ٹیلی تھون" پروگرام کے تحت عوام سے براہ راست عطیات وصول کررہے ہیں۔

وزیراعظم کا کہنا ہے کہ حکومت پیسہ خرچ کررہی ہے لیکن متاثرین اتنے ہیں کہ اس کےلیے بہت زیادہ رقم درکار ہے لہٰذا لوگ دل کھول کر عطیات دیں۔

وزیراعظم نے مزید کہا کہ آنےوالے وقت میں پوری قوم کو مشقت کرنا پڑے گی، کوئی حکومت اس کورونا کا مقابلہ اکیلے نہیں کرسکتی،پوری قوم کو مل کر کورونا کا مقابلہ کرنا پڑے گا۔

وزیراعظم نے کہا کہ قوم سے کہتا ہوں کہ پوری طرح احتیاط کریں، اس وائرس کے پھیلنے کی رفتار دیگر وباؤں سے مختلف ہے، کوشش کریں کہ سماجی فاصلہ اختیار کریں اور احتیاط کریں۔

وزیراعظم نے کہا کہ میری کوشش ہےکہ شرح سود اور کم ہوجائے، جیسے جیسے چیزیں کھلتی جائیں گی کورونا وبا بڑھتی جائےگی البتہ پاکستان میں اب تک جو ٹرینڈ نظر آرہا ہے اس سے لگتا ہے کہ زیادہ کیسز نہیں ہوں گے۔

وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ کورونا وائرس کے خلاف جنگ قومی اتحاد اور تمام متعلقہ فریقوں کی مربوط کوششوں کے ذریعے ہی جیتی جاسکتی ہے۔

انہوں نے یہ بات کورونا وائرس سے نمٹنے کے لئے فنڈاکٹھا کرنے کی غرض سے پی ٹی وی اور نجی ٹی وی چینلز کی سب سے بڑی احساس ٹیلی تھون نشریات میں گفتگو کرتے ہوئے کہی ۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے غریب خاندانوں کے لئے بڑے تاریخی امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے جس کا مقصد کورونا وائرس پر قابو پانے کے لئے لگائے گئے لا ک ڈائون کے پیش نظر عوام کو درپیش مشکلات میں کمی لانا ہے۔

انہوں نے احساس نقد ہنگامی امدادی پرروگرام کو شفاف اور میرٹ پر مبنی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس پروگرام کے تحت ملک بھر میں چون لاکھ سینتس ہزار خاندانوں میں بارہ بارہ ہزار روپے کی نقد امداد تقسیم کی جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت نے احساس نقد ہنگامی امدادی پروگرام کے تحت معاشرے کے غریب طبقات کے لئے ایک سو چوالیس ارب روپے مختص کئے ہیں۔

وزیراعظم نے کہا کہ پوری دنیا کورونا وائرس کے خلاف جدوجہد کر رہی ہے جو عالمی سطح پر سنگین مسئلہ بن گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لاک ڈاؤن سے عالمی معیشت پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں جس سے دنیا بھر میں بالخصوص پاکستان جیسے ترقی پذیر ملکوں میں غربت میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ حکومت ملک میں سمارٹ لاک ڈاؤن لگانے پر غور کر رہی ہے تاکہ محنت کش طبقے، یومیہ ُاجرت پر کام کرنیوالے افراد اور معاشرے کے غریب طبقے کو سہولت فراہم کی جاسکے۔

احساس ٹیلی تھون کے ذریعے اب تک 2ارب 65کروڑ روپے سے زائد کے فنڈز جمع ہوچکے ہیں۔