برطانوی سکھ فوجی

برطانوی سکھ فوجیوں نے 75 سال بعد پاکستان کے قبائلی ضلعے اورکزئی کا دورہ کیوں کیا؟

ویب ڈیسک : قیام پاکستان کے بعد پہلی بار برطانوی سکھ فوجیوں نے پاکستان کے قبائلی ضلعے اورکزئی کا دورہ کیا ہے اور وہاں 1897 میں مارے جانے والے برطانوی سکھ فوجیوں کو خراج عقیدت پیش کیا ہے۔

خیبر پختونخوا میں ضم اورکزئی ایجنسی کے علاقے سرہ گڑی میں سمانہ قلعہ کی چوکیوں پر 1897 میں انگریز افواج اور مقامی افغان قبائل کے مابین لڑائی میں برطانوی فوج کی طرف سے لڑتے ہوئے برطانوی فوج کے مطابق سکھ رجمنٹ کے سپاہیوں نے افغان قبائل قبائلیوں کا مقابلہ کیا تھا۔

برٹش سکھ فوجی وفد کے پاکستان آنے کی وجہ سرہ گڑی جنگ میں مارے جانے والے سکھ فوجیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کرنا تھا۔

نوجوان سکھ فوجیوں نے خود اینٹیں جمع کیں، سیمنٹ لگائی اور یادگار بنا کر اُس پر تختی نصب کرنے کے بعد پھول بھی چڑھائے۔ انہوں نے مذہبی رسومات کے ساتھ سوا سو برس قبل مارے جانے والے فوجیوں کو نذرانہ عقیدت پیش کیا۔

پاکستان آنے والا برطانوی فوجی وفد 12 رکنی تھا جس کی قیادت میجر جنرل سیلیہ ہاروے نے کی۔ انہوں نے بتایا کہ نو سکھ فوجیوں کو، جن میں ایک خاتون فوجی بھی شامل ہیں، لے کر وہ پہلی بار پاکستان آئی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ پاکستانی آرمی چیف نے انہیں اس دورے کی دعوت دی اور انتظامات کیے۔ دورے کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ بہادر برطانوی سکھ فوجیوں کی قربانی کو نام دینے آئے ہیں۔

مزید دیکھیں :   روس کی یوکرین کی رہائشی عمارت پرشیلنگ، 6افراد ہلاک

سطح سمندر سے تقریباً چھ ہزار فٹ کی بلندی پر واقع سمانہ ضلع ہنگو اور اورکزئی ایجنسی کا ایک چھوٹا سا سرحدی اور تاریخی گاؤں ہے۔ سیاحتی مقام کے ساتھ ساتھ اس کی ایک تاریخی حیثیت بھی ہے۔ پاکستان بننے سے قبل یہ پہاڑی مقام انگریزوں کا ایک مسکن تھا جہاں سے برطانوی افواج نے افغانستان پر نظر رکھنے اور قبائل کو کنٹرول کرنےکے لیے تین بڑے بڑے تاریخی قلعے تعمیر کیے تھے جن کی تباہ شدہ عمارتیں آج بھی اسی طرح قائم ہیں۔ ان قلعوں میں سرہ گڑھی، فورٹ لوکارٹ اور گلستان شامل ہے۔ ان میں سے ایک قلعہ ختم ہوچکا ہے جبکہ دو قلعے پاکستانی سکیورٹی فورسز کے کنٹرول میں ہیں۔

’پاکستان اور برطانیہ ہمیشہ سے دوست ہیں، ہماری مضبوط اقدار مشترک ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہم اچھائی کے لیے اور ایسے عناصر کو شکست دینے کے لیے اکٹھا کام کرتے ہیں جو ہمارے معاشروں کو تباہ کرتے ہیں۔‘
سارا گڑھی سے پہلے وفد نے لاہور کا بھی دورہ کیا جہاں انہوں نے واہگہ بارڈر پر پرچم اتارنے کی تقریب دیکھی اور قلعہ لاہور، علامہ اقبال کے مزار اور بادشاہی مسجد کا دورہ کیا۔

وہ سکھوں کی مقدس عبادت گاہ دربار صاحب کرتار پور اور دوسرے مذہبی مقامات کی زیارت کے لیے بھی گئے۔

مزید دیکھیں :   حکومت کا لگژری اشیاء کی درآمد پر پابندی ختم کرنے کا اعلان