دستخط سے انکار

پختونخواحکومت کاآئی ایم ایف معاہدے پردستخط سے انکار

پشاور(فقیرحسین)خیبر پختونخواحکومت نے عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کے ایم او یو پر غیرمشروط دستخط سے انکار کرتے ہوئے وفاقی حکومت سے صوبے کو فوری طورپر 1332ارب روپے جاری کرنے کا مطالبہ کردیا ۔

وزیر خزانہ خیبر پختونخواتیمور سلیم جھگڑا نے اس سلسلے میں ایک خط وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل کو ارسال کیا ہے خط میں کہا گیا ہے کہ وفاق صوبے کی مالی مشکلات کے پیش نظر فوری طور پر صوبائی حکومت کو فنڈز جاری کرے تاکہ صوبے کا متوازن بجٹ سرپلس بجٹ میں تبدیل ہوسکے۔ خط میںکہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ضم شدہ قبائلی اضلاع میں صحت کارڈ کی سہولت واپس لی ہے اس لئے وفاق مذکورہ پراجیکٹ کے لئے صوبے کو فنڈز جاری کرے تاکہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع میں صحت کارڈ کی سہولت جاری رکھ سکے ۔

خط میں کہا گیا ہے کہ وفاقی حکومت نے ضم شدہ اضلاع کے فنڈز بھی 77ارب سے کم کرکے60ارب کردئیے ہیں جبکہ صوبے کو پن بجلی کے خالص منافع کی ادائیگیاں بھی روک دی گئی ہےں خط میں قومی مالیاتی کمیشن ٟاین ایف سی ٞپر نظر ثانی کرنے کے ساتھ ساتھ پیڈو اور دوسرے صوبائی اداروں کے وفاق کے ساتھ جاری ایشوز کی بھی نشاندہی کی گئی ہے ۔

مزید دیکھیں :   جے یوآئی نے بنوں میں فیملی پارک بندکرنے کامطالبہ کردیا

خط میں صوبائی وزیر خزانہ نے واضح کیا ہے کہ خیبر پختونخوا حکومت اس وقت تک آئی ایم ایف کے ایم او یو پر دستخط نہیں کرے گی جب تک وفاقی حکومت صوبے کو 1332ارب روپے جاری نہیں کرتی ۔صوبائی وزیر خزانہ تیمور سلیم جھگڑا کے مطابق سندھ نے 35ارب روپے اور بلوچستان نے 100ارب روپے خسارے کا بجٹ پیش کیا جبکہ ہمار ا بجٹ متوازن ہے اس لئے وفاقی حکومت فوری طور پرخیبر پختونخوا سمیت دیگر صوبوں کے لئے فنڈز جاری کرے تاکہ صوبوں کا بجٹ سرپلس ہونے کی آئی ایم ایف کی شرط پوری ہوسکے۔

صوبائی حکومت نے آئی ایم ایف کے ساتھ معاہدہ کے تحت صوبائی ذمہ داریوں کے اہداف کے حصول یعنی اس معاہدہ پر مکمل عملدر آمد کیلئے وفاق کے سامنے6شرائط رکھتے ہوئے اس سلسلے میں اہم فیصلوں کیلئے صوبائی کابینہ کا ہنگامی اجلاس پیر کے روز طلب کر لیا ہے