صحت کارڈ

صحت کارڈ پر12لاکھ قبائلی خاندانوں کا علاج بند

پشاور(نیوزرپورٹر)وفاقی حکومت کی جانب سے صحت کارڈ کی تین سالہ مدت پوری ہونے پر سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن نے قبائلی اضلاع کے12لاکھ خاندانوں کا مفت علاج معطل کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس سلسلے میں وفاقی حکومت کو پروگرام میں توسیع کرنے کی درخواست کے ساتھ صوبائی حکومت کو بھی تحریری طور پر آگاہ کردیا گیا ہے.

ذرائع کے مطابق قبائلی اضلاع میں انشورنس کے ذریعے مفت علاج کی فراہمی کے منصوبہ کے دوسرے مرحلہ کے تحت سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کے پاس12لاکھ خاندان رجسٹرڈ تھے اس مقصد کیلئے وفاقی حکومت کے ساتھ تین سال کیلئے معاہدہ کیا گیا تھاجس کی مدت30جون کو مکمل ہوگئی ہے.

اس تناظر میں نیشنل ہیلتھ سروسز کو سٹیٹ لائف نے پروگرام کی توسیع کے بارے میں خط لکھا ہے جس میں بتایا گیا ہے کہ سابق وزیراعظم کے احکامات کی روشنی میںقبائلی اضلاع کو فیڈرل صحت سہولت پروگرام کے پی سی ون سے نکال دیا گیا ہے اس لئے یہ پروگرام ختم ہوگیا ہے جس کے بعد قبائلی اضلاع کے خاندانوں کو وفاقی صحت پروگرام سے علاج نہیں دیا جائے گا سٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن کی جانب سے صوبائی حکومت سے اس مقصد کیلئے مزید رائے طلب کی گئی ہے کہ آئندہ کیلئے قبائلی اضلاع کے مذکورہ12لاکھ رجسٹرڈ خاندانوں کیساتھ کیا کیا جائے۔

مزید دیکھیں :   آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کیلئے یو اے ای کا اعلیٰ ترین سول ایوارڈ