کہنے کے لئے ہم بھی زباں رکھتے ہیں ‘ لیکن

بجلی کم تو عوام بددعائیں دیتے ہیں ‘ وزیر اعظم شہباز شریف کی اس بات سے بھلا کون عدم اتفاق کر سکتا ہے ۔ بددعائیں کیوں نہ دیں ‘ پیپلز پارٹی کے پہلے دور میں جب مرحومہ نصرت بھٹو نے بحیثیت سینئر وفاقی وزیر صرف آدھا گھنٹہ کی لوڈ شیڈنگ پر بھی قوم سے معذرت کرتے ہوئے وعدہ کیا تھا کہ صورتحال پر جلد ہی قابو پالیا جائے گا مگر پھر یہ سلسلہ آنے والے ادوار میں بڑھتا ہی چلا گیا او کسی بھی حکومت کو پھر یہ توفیق نہ ہوسکی کہ وہ نئے منصوبے لگنے کے باوجود صورتحال کو مکمل طور پر قابو کر سکے ‘ آئی پی پیز کے ساتھ ہونے والے معاہدوں نے صورتحال خراب کرنے میں اہم کردار ادا کیا ‘اور ایسی شرائط پر معاہدے ہوئے جن سے آج تک کسی خیر کی توقع نہیں ہے یعنی ایک تو ان معاہدوں کے تحت فرنس آئل کی فراہمی سرکار کی اور دوسرا یہ کہ ان معاہدوں کے تحت بجلی کی کم مقدار حاصل ہونے کے باوجود مقررہ مقدار کی ادائیگی لازمی ہے ‘ یوں فرنس آئل کی کم فراہمی کے باوجود قیمت پوری ادا کرنا لازمی ہے ‘یعنی بقول شاعر
اک عمر اجالوں کے تعاقب میں گنوا کر
ہم شام کے منظر میں سحر ڈھونڈ رہے ہیں
میاں نوازشریف حکومت کے دوران اگرچہ صورتحال پر بہت حد تک قابو پالیا گیا تھا مگر ان کی حکومت کے آخری دنوں میں شاہد خاقان عباسی نے گیس کے سستے معاہدے کئے تھے ان پر اعتراضات کرکے انہیں عدالتی کٹہرے میں لا کر کھڑا کیا گیا اور ملک کے ”دوستوں” نے ان معاہدوں پر سوالیہ نشان اٹھا کرانہیں منسوخ کروایا جسکے بعد قوم کو مہنگی گیس کی وجہ سے ”لگ پتہ” چلا اور سابق حکومت نے سستی گیس کے نئے معاہدے کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہیں کی ‘ یوں نہ صرف گیس بحران بھی اب عوام کی چیخیں نکال رہا ہے ‘ کہ آئی ایم ایف کا ”گلوٹین”عوام کی ”گردنیں” اڑا رہا ہے ‘ حکومت کو تحریک انصاف دور کے معاہدے کی وجہ سے ”سخت بلکہ سخت ترین” اور انتہائی ناپسندیدہ فیصلے کرکے عوام کی بددعائیں سمیٹنا پڑ رہی ہیں ‘ اس صورتحال کے اصل محرکات پر حاشیہ آرائی کرنے کی ہم ہمت نہیں رکھتے ‘ کہ ایک تو بحث طویل اور رخ تبدیل کر لے گی اور دوسرا یہ کہ ہم مبینہ ٹرولز کویہ اجازت نہیں دے سکتے کہ وہ بلاوجہ لٹھ لیکر ہمارے پیچھے پڑ جائیں اور دیگر بہت سے اینکرز ‘ وی لاگرز ‘ کالم نگاروں اور صحافیوں کی طرح ہمیں بھی مغلظات کے ”تحائف” بھیجیں ‘ حالانکہ بقول صدیق فتح پوری
کہنے کے لئے ہم بھی زباں رکھتے ہیں لیکن
یہ ظرف ہمارا ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے
بات تو بہرحال وزیر اعظم کی درست ہے کہ گیس کم تو صنعتوں کو نقصان کیونکہ بہت سی صنعتیں گیس پر چلتی ہیں اور گیس کی فراہمی روک دی جائے یا کم کر دی جائے تو صنعتیں متاثر ہونے سے کام ٹھپ ‘ مزدور بے روزگار’ اندرون ملک سپلائی اور برآمدات منفی ہو جانے سے زرمبادلہ ملنا مشکل سے مشکل تر ہوجاتا ہے اگرچہ ان کے پاس جواب تو کوئی نہیں مگر ڈھٹائی کا لبادہ اوڑھنے میں انہیں کوئی عار نہیں محسوس ہوئی ‘ اب ان سے کوئی کتنا بھی کہے کہ
اٹھو یہ منظر ”شب تاب” دیکھے کے لئے
کہ نیند شرط نہیں خواب دیکھنے کے لئے
خیر جانے دیں ‘ اب انہیں کیا شرمندہ کرنا کہ ان کے نزدیک شرمندگی کی بھلا حیثیت ہی کیا ہے ‘ ہمیں تو گزشتہ روز کے اس بیان کاجائزہ لینا ہے جو جلی سرخیوں کے ساتھ اخبارات کی زینت بنا او جس کی رونامہ مشرق کے صفحہ اول پر تین کالمی سرخی کچھ یوں تھی کہ ”غیر اعلانیہ لوڈ شیڈنگ پر وزیر اعلیٰ برہم ‘ پیسکو حکام کو طلب کر لیا”اس خبر کی ذیلی سرخیاں بھی قابل توجہ تھیں اور اتنا سخت موقف اپنانے پر ہم نے دل ہی دل میں وزیر اعلیٰ کودعائیں دیں کہ کوئی تو ہے جو عوام کی مشکلات کا احساس کرتے ہوں عوام پر مصیبت کے پہاڑ توڑنے والوں کو للکار رہا ہے ۔ وزیراعلیٰ نے بالکل درست کہا ہے کہ پختونخوا کو بجلی پیداوار کا شیئر ملنا چاہئے ‘ یعنی وزیر اعلیٰ نے جو کہا کہ عوام نے بالکل یہی سمجھا کہ بقول مرزا غالب
دیکھنا تقریر کی لذت کہ جو اس نے کہا
میں نے یہ جانا کہ گویا یہ بھی میرے دل میں ہے
تاہم مسئلہ ہمارا یہ ہے کہ کبھی کبھی ہم ماضی میں بھی جھانک لیتے ہیں اور ماضی قریب کا قصہ یہ ہے کہ جب گزشتہ سردی کے دنوں میں پشاور میں گیس کا بحران پیدا ہوا(وہ بحران اب بھی ٹلا نہیں) اور وزیر اعلیٰ نے سوئی گیس حکام کو بلوا کر یہ مسئلہ اٹھایا تو محکمہ سوئی گیس والوں نے تین روزہ ”لالی پاپ” تھماتے ہوئے کہا تھا کہ شہر میں بڑے قطر کے پائپ بچھائے جارہے ہیں ‘ جس کے بعد گیس کی کمی ہمیشہ کے لئے ختم ہو جائے گی مگر اے بسا آرزو کہ خاک شدہ ‘ اس کے بعد ہم نے انہی کالموں میں کئی بار نہ صرف سوئی گیس حکام بلکہ وزیر اعلیٰ کی توجہ اس (تاحال) لاینحل مسئلے کی جانب دلاتے ہوئے ان کے وعدوں اور دلاسوں کی یاد دہانی کرائی مگر بقول شاعر
خود اپنے گھر میں صدا دی کہ ”کوئی ہے؟”
خود ہی کہا کہ ”کون ہو؟” خود ہی کہا کہ ”میں”
اب یہ باتیں بھی طفل تسلی کے سوا اور کیا قرار دی جا سکتی ہیں کہ جب ملک میں بجلی کا شارٹ فال بڑھ چکا ہے تو بھلا کون یہ وعدہ کر سکتا ہے کہ اگلے دوچار دنوں ‘ ہفتوں میں یہ کمی پوری ہوجائے گی اور ہر سو ”خوشحالی” کا دور دورہ ہو جائے گا۔ عوام ویسے بھی اتنی بے وقوف نہیں رہی (پہلے کبھی ہوتی ہو گی) کہ وہ اس قسم کے سٹیریو ٹائپ بیانات سے بہل جائیں
نامہ نہ کوئی یار کو پیغام بھیجئے
اس فصل میں جو بھیجئے ‘ بس آم بھیجئے

مزید دیکھیں :   مشرقیات