ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا

حکومت نے کہا ہے کہ عمران خان کی جانب سے بچھائی گئی بارودی سرنگوںکی وجہ سے آئندہ
تین سے چار ماہ تک توانائی کی قیمتوں میں اضافہ ہوتا رہے گا اور پھر رواں سال نومبر سے دسمبر میں کمی کا رجحان شروع ہو جائے گا۔ علیحدہ علیحدہ نیوز کانفرنسز سے خطاب کرتے ہوئے توانائی کے وزرا ء خرم دستگیر اور مصدق ملک نے کہا کہ گزشتہ حکومت نے قیمتوں کے حوالے سے قانونی مجبوریوں کے ساتھ ہاتھ باندھ دئیے تھے اور درست اصلاحات مکمل ہونے سے پہلے عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے دلدل سے نکلنے کا کوئی راستہ نہیں تھا ۔ وزرا کے مطابق ممکنہ طور پر ایک کمیشن تشکیل دیا جائے گا جو اس بات کی تحقیقات کرے گا کہ حالات اس نہج پر کیوں پہنچے اور کیا اقدامات کیے جائیں تاکہ مستقبل میں ایسی تباہی نہ دہرائی جائے۔نیز حکومت رہائشی شعبے میں 5,000-6,000 میگاواٹ کی حد تک شمسی توانائی کے زیادہ سے زیادہ استعمال کو یقینی بنانے اور لوگوں کو ریلیف فراہم کرنے کے لیے اگلے دو مہینوں میں اسکیمیں لے کر آئے گی۔گزشتہ حکومت نے کہاں بارودی سرنگیں بچھائیں اور موجودہ حکمران ان سے کیوں ٹکرا گئے یہ عوام کو سمجھانے والا عمل نہیں عوام کا براہ راست سوال یہ ہے کہ اگرصورتحال اتنی ہی خراب تھی توموجودہ حکمرانوں نے ایڑی چوٹی کا زور لگا کر حکومت کیوں لی جب حالات پر گرفت اتنی ہی مشکل تھی تو کیا بہتر یہ نہ تھا کہ سیاسی حکومت کی بجائے عام انتخابات کے اعلان کے ساتھ عبوری مدت کی حکومت مختلف شعبوں کے ماہرین کودی جاتی یا پھر عمران خان کی حکومت کو ہی مدت پوری کرنے دی جاتی سیاسی چپقلش پر اگرملک کو نشانہ بنانے کا اگر کوئی عمل ہوا ہے تو اس کی ذمہ داری صرف سابقین پر ہی عائد نہیں ہوتی موجودہ حکومت میں شامل سیاسی جماعتیں بھی اقتدار کی کشمکش کے باعث بری الذمہ نہیں بہرحال اس سے قطع نظر وزراء بار بار جو الزام تراشی کر رہے ہیں اس بارے میں کمیشن کا قیام اور اس کی تحقیقات کے بعد اگر بدنیتی اور جان بوجھ کر کئے گئے اقدامات سامنے آئیں تو ٹھوس ثبوتوں کے ساتھ قوم کو آگاہ کیا جائے دو وزراء کی علیحدہ علیحدہ پریس کانفرنس میں عوام کے لئے اگر کسی ممکنہ سہولت کی بات کی جائے تو شمسی توانائی کے فروغ کے لئے اقدامات کا عندیہ ہے اس سے بجلی کے حوالے سے مزید ابتر صورتحال کا بھی اندازہ لگایا جا سکتا ہے حکومت اپنی سطح پر جو عندیہ دے رہی ہے اس پر عملدرآمد میں نجانے کتنا وقت لگے شمسی توانائی کے سازو سامان پر ٹیکس کی چھوٹ احسن ہے لیکن سولر پینلز اس کے باوجود عام آدمی کی دسترس سے باہر ہیں حکومت اگر شمسی توانائی کے حصول کے خواہشمندوں کو بلاسود قرضے یا قسطوں پر مقررہ نرخوں پرآسان اقساط میں سولر پینلز ہی فراہم کرنے کی سکیم کا آغاز کرے تو موزوں ہو گا فی الوقت حکومت سے اتنی ہی توقع وابستہ کی جا سکتی ہے اس کے باوجود یقینی نہیں کہ حکومت اس کی بھی متحمل ہو سکتی ہے یانہیں البتہ حکمرانوں کے لئے اور بیورو کریسی کے لئے اب بھی حکومت کے پاس کافی وسائل ہیں یہ صرف عوام ہیں جن کو ہر حکومت سابق حکومت کو الزام دے کر بہلانے کی سعی کرتی ہے حکومت کمیشن تشکیل دے کر حقائق کو ضرور سامنے لائے لیکن ساتھ ہی عوام کی بھی سنے اور عوام پر مزید بوجھ ڈالنے سے اجتناب کرے۔
مار گئی مہنگائی
ادارہ شماریات کی طرف سے جاری ماہانہ رپورٹ کے اعداد و شمار کے مطابق جون میں مہنگائی کی شرح بڑھ کر 21.32فیصد ہوگئی ہے جو دسمبر 2008کے بعد مہنگائی کی سب سے زیادہ شرح ہے۔پاکستان تحریک انصاف(پی ٹی آئی)کے دور حکومت میں زیادہ سے زیادہ مہنگائی14.6فیصد رہی تھی جبکہ رواں سال مئی کے مقابلے جون میں مہنگائی کی شرح میں 6.34 فیصد کا بڑا اضافہ ہوا۔جون میں شہری مہنگائی کی شرح 6.19 جبکہ دیہی علاقوں میں مہنگائی 6.57 فیصد بڑھی۔اعداد و شمار کے مطابق مئی 2022 میں مہنگائی کی شرح 13.76 فیصد تھی جبکہ جون 2021 میں مہنگائی کی شرح 9.7 فیصد تھی۔مہنگائی میں جس قدر اچانک اور تیزی سے اضافہ ہو گیا ہے اور حکومت تمام تر کوششوں کے باوجود مہنگائی کی معمول کی رفتارسے قطع نظر اس میں جس طرح بے بس نظر آرہی ہے اور مزید سے مزید مہنگائی کے اسباب و امکانات کی صورت بن رہی ہے اس کی وجوہات جو بھی ہوں کم از کم مہنگائی کی اس شدید لہر کو اب تو کہیں بریک لگنی چاہئے حالات اس قدر پریشان کن ہیں کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے نرخوں میں اضافہ در اضافہ کے باعث جولائی میں یہ شرح مزید بڑھ سکتی ہے مہنگائی کے سامنے صوبائی حکومت بھی پوری طرح ہاتھ باندھے کھڑی ہے اور جو انتظامی اقدامات ممکن ہیں اس کابھی مظاہرہ نہیں ہو رہا ہے کم از کم ضلعی انتظامیہ سرکاری نرخ نامہ کی پابندی کرانے کی ذمہ داری نبھائے تو یہ بھی غنیمت ہو گی۔

مزید دیکھیں :   ہر حد کی ایک حد تو ہوتی ہے