پی ٹی آئی کی انتخابی تیاریاں

اخباری اطلاعات کے مطابق پاکستان تحریک انصاف عام انتخابات کے دوران خیبر پختونخوا میں نئے چہرے اتارنے کی حکمت عملی تیار کر رہی ہے کہا جاتا ہے کہ عام انتخابات میں سو سے زائد حلقوں پر پی ٹی آئی نئے امیدوار سامنے لانا چاہتی ہے صوبائی کابینہ میں شامل چند ارکان کو قومی اسمبلی کا ٹکٹ دینے کی تجویز بھی زیر غور ہے ۔ پاکستان تحریک انصاف کے ذرائع کے مطابق صوبائی صدر اور سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے صوبہ بھر میں پارٹی ٹکٹ کے اجراء اور موزوں امیدواروں کی سکروٹنی کا عمل شروع کر دیا ہے اس حوالے سے پرویز خٹک پارٹی کے سرکردہ رہنمائوں سے مشاورت کر رہے ہیں اور انہیں اعتماد میں لیا جارہا ہے خیبر پختونخوا میں صوبائی اسمبلی کے 115 اور قومی اسمبلی کے 45 حلقے ہیں تحریک انصاف قومی و صوبائی اسمبلی کے 160 میں سے سو سے زائد حلقوں میں نئے چہرے میدان میں اتارنے کی منصوبہ بندی کر رہی ہے ۔واضح رہے کہ خیبر پختونخوا اسمبلی کے 74حلقوں پر تحریک انصاف کے ممبران منتخب ہوئے ہیں جبکہ 37قومی سمبلی کے حلقوں پر پی ٹی آئی کے ارکان ہیں مجموعی طور پر 160 حلقوں میں سے 111 پر پی ٹی آئی کے ارکان منتخب ہوئے ہیں۔اس اکثریت کو آئندہ انتخابات میں برقراررکھنا بڑا چیلنج ہو گا لیکن ناممکن اس لئے نہیں کہ صوبے میں ابھی پی ٹی آئی کی حمایت میں کوئی واضح کمی نظر نہیں آئی اس کے باوجود بھی شاید گزشتہ دو انتخابات کے مقابلے میں اس مرتبہ کی سیاسی و انتخابی لڑائی بڑے معرکے کا متقاضی ہے جس کا ایک بڑا انحصار الیکشن تک کے حالات اور ہوائوں کے رخ پر بھی ہو گا۔تحریک انصاف کی قیادت کا یہ ممکنہ فیصلہ جہاں ممکنہ طور پر پارٹی کے دیرینہ اور مخلص کارکنوں کو اس مرتبہ پورا موقع دینے کی حکمت عملی کا حصہ نظر آتا ہے وہاں اس فیصلے سے یہ بھی تاثر ملتا ہے کہ پی ٹی آئی کی قیادت نے اپنے اراکین کی کارکردگی سے پوری طرح مطمئن نہیں جس کے باعث نئے چہرے اتارنے کا ممکنہ فیصلہ کر لیا گیا ہے۔ بلدیاتی انتخابات کے موقع پر جہاں بعض حلقوں میں جماعتی ٹکٹ اور نشان کے لئے تگ ودو نظر آئی وہاں بعض حلقوں میں امیدوار بھی ملنا مشکل ہوگیا تھا اور تحریک انصاف کے اس حلقے کے منتخب اراکین اسمبلی شکوہ کناں نظرآئے جبکہ کارکنوں کا بہرحال اپنا موقف تھا علاوہ ازیں اسلام آباد لانگ مارچ میں کارکنوں کو لانے میں ناکامی پر بھی یقینی طور پر اراکین اسمبلی نظروں میں آئے تمام وجوہات سے قطع نظر اب تحریک انصاف کی قیادت اس نتیجے پر پہنچی نظر آتی ہے کہ وہ دیگر صوبوں میں خواہ کتنی بھی جدوجہد کرے ثمر آور ہونے کا امکان زیادہ نہیں البتہ خیبر پختونخوا اب بھی تحریک انصاف ہی کا صوبہ سمجھا جاتا ہے اسی طرح تحریک انصاف کے لئے خیبر پختونخوا کی اہمیت ہے سترہ اضلاع کے اولین مرحلے کے بلدیاتی انتخابات میں تحریک انصاف کی کارکردگی توقعات کے برعکس ضرور ثابت ہوئی لیکن دوسرے مرحلے میں اس کا بڑی حد تک ازالہ سامنے آیا ۔ سوات کے ضمنی انتخابات میں دیگر تمام بڑی سیاسی جماعتوں کے مقابلے میں تحریک انصاف کے امیدوار کی جیت سے تحریک انصاف کی حمایت میں اضافہ کا عندیہ ملتا ہے لیکن بہرحال کسی ایک نشست کی کامیابی کوسامنے رکھتے ہوئے پوری طرح اس امر کی پیشگوئی نہیں کی جا سکتی کہ صوبے کے دیگر اضلاع میں بھی اس طرح کی حمایت حاصل ہو پائے گی البتہ مرکز میں پی ٹی آئی کی حکومت کے خاتمے اور نئی حکومت کی شہباز سپیڈ سے مہنگائی دو ایسی وجوہات ہیں جس کا فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے سابق وزیر اعلیٰ پرویز خٹک اور صوبائی قیادت کی مشاورت سے حقیقی نظریاتی اور دیرینہ و مخلص کارکنوں کی چھان بین کرکے اگر ان کو بروقت حلقے حوالے کئے جائیں تو یہ موزوں فیصلہ ہو گا اس ضمن میں تحریک ا نصاف کوقبل ازیں جلد بازی سے ٹکٹوں کا جو فیصلہ کرنا پڑا تھا اس مرتبہ اس کا اعادہ نہیں ہونا چاہئے گزشتہ عام انتخابات میں پی ٹی آئی کی کامیابی کی جو لہر چلی تھی اس مرتبہ ا یسا ہی ہونا ضروری نہیں اس لئے ہوتا نظر نہیں آتا بلکہ کامیابی کے لئے ایڑی چوٹی کا زور لگانا ہوگا ۔ خیبر پختونخوا کے ساتھ ساتھ تحریک انصاف کی قیادت کو پنجاب ‘ سندھ اور بلوچستان میں نئی صف بندی اور آئندہ انتخابات کی تیاریوں پر توجہ مرکوز کرنے کی ضرورت ہے ایک ایسے وقت جب ملک کی ساری قابل ذکر سیاسی جماعتیں مشکلات کا شکار حکومت کا حصہ ہیں اور معاشی مسائل کے بوجھ تلے حکومت و سیاست دبائوکا شکار نظر آتی ہے تحریک انصاف کو اپنی حکومت کے خاتمے کے ماتم سے اب نکل آنا چاہئے تا کہ تحریک انصاف تمام ترمشکلات اور رکاوٹوں کے باوجود انتخابی سطح پر مقابلہ کرنے میں کسی غلط فہمی اور عدم تیاری کا شکار نہ ہو بلکہ عوام کی حمایت سے اپنی مقبولیت کو ثابت کرسکے۔ تحریک انصاف کو بطور حکمران جماعت بھی سب سے بڑا خطرہ اپنے اندر ہی سے درپیش تھا اور اب بھی تحریک انصاف کی قیادت جماعت کو متحد رکھ پائی اور عوامی حمایت کو سنبھال پائی تو مقابلہ زوروں کا ہو گا لیکن مشکل ا مر اور چیلنج اب یہی نظر آتا ہے کہ مجھے اپنوں نے لوٹا غیروں میں کیا دم تھاوالی صورتحال درپیش ہونے کا خطرہ ہے بلکہ زیادہ مشکلات کا شکار ہونے کے مکانات ابھر رہے ہیں ان حالات میںضرورت اس امر کی ہے کہ پی ٹی آئی سب سے پہلے اپنی صفوں پر نظر ڈالتے ہوئے صف بندی کرنے اور مخلص و یرینہ کارکنوں کو آگے لانے اور ناراض کارکنوں کو منانے کے لئے نئے عزم کے ساتھ میدان میں اترے اس وقت دیوار سے سر ٹکرانے کی بجائے آئندہ عام انتخابات خواہ وہ چھ ماہ بعد ہوں یا پھر مقررہ وقت پر اس کی بھر پور تیاری کرنی چاہئے تحریک انصاف کے لئے محاذ آرائی کی بجائے صف بندی پر توجہ اچھی سیاسی حکمت عملی ہو گی۔

مزید دیکھیں :   شہباز گل اور پاکستان