جمعیت کی گورنرشپ

جمعیت کی گورنرشپ سے 90سالہ تاریخ تبدیل ہوگی

پشاور(نیوزرپورٹر)جے یو آئی کو خیبر پختونخوا میں گورنر کا عہدہ ملنے کے بعد گورنر ہائوس پشاور کی 90 سالہ تاریخ میں پہلی مرتبہ کسی مذہبی جماعت کا نمائندہ براجمان ہوجائے گا ۔

قبل ازیں جے یو آئی کے جد امجد مولانا مفتی محمود وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا منتخب ہوئے تھے تاہم ابھی تک اس پارٹی کا بلوچستان یا خیبر پختونخوا میں گورنر نامزد نہیں کیا گیا ہے ۔

سیاسی لحاظ سے خیبر پختونخوا میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے سب سے زیادہ سیاسی ممبران گورنر مقرر ہوئے ہیں جبکہ پی ٹی آئی اور عوامی نیشنل پارٹی کو بھی ایک، ایک بار گورنر مقرر کرنے کا موقع ملا ہے۔ جے یو آئی اور جماعت اسلامی کو ابھی تک موقع نہیں ملا ہے۔

مسلم لیگ ن کے سابق گورنر اقبال ظفر جھگڑا اور صوبے کے دوسر ے مسلمان گورنر ابراہیم خان جھگڑا کا تعلق ایک ہی گھر سے ہے جو مختلف ادوار میں صوبہ کے گورنر رہے ہیں۔

صوبے کے سب پہلا گورنرسر رالف گرفتھ تھا جو 1932سے1937 تک پانچ سال کیلئے گورنر رہے۔ ان کے بعد 16جولائی1949تک سات انگریز گورنر مقرر ہوئے جن میں سے سرجارج کننگھم تین مرتبہ کیلئے گورنر رہے ہیں۔ صاحبزادہ محمد خورشید صوبہ کے پہلے مسلمان گورنر تھے جس کے بعد محمد ابراہیم خان جھگڑا ، ابراہیم اسماعیل چند ریگر، خواجہ شہاب الدین ، قربان علی شاہ گورنر بنے ہیں۔ لیفٹیننٹ جنرل خواجہ محمد اظہر خان ، حیات محمد خان شیرپائو، ارباب سکندر خان خلیل ، اسلم خٹک ، میجر جنرل سید غوث ، میجر جنرل نصیر اللہ بابر، جسٹس عبد الحکیم خان، لیفٹیننٹ جنرل فضل حق، نوابزادہ عبد الغفور خان ہوتی ، جسٹس سید عثمان علی شاہ ، فدا محمد خان، بریگیڈیئر اسلم گلستان جنجوعہ، میجر جنرل خورشید علی خان، لیفٹیننٹ جنرل عارف بنگش، میاں گل اورنگزیب، لیفٹیننٹ جنرل محمد شفیق، لیفٹیننٹ جنرل افتخار حسین شاہ، کمانڈر خلیل الرحمن، لیفٹیننٹ جنرل عارف جان اورکزئی ، اویس احمد غنی ، سید مسعود کوثر، شوکت اللہ ، سردار مہتاب احمد خان ، اقبال ظفر جھگڑا کے بعد شاہ فرمان رواں سال اپریل تک گورنر رہے۔ ان کی جگہ قائم مقام گورنر کا چارج سپیکر مشتاق احمد غنی نے سنبھالا ہے۔

مزید دیکھیں :   حکومت کے ایک اور اتحادی کا پٹرول قیمتوں میں اضافے پر تشویش کا اظہار

اطلاعات ہیں کہ صوبے کا نیا گورنر جے یو آئی کا ہو گاا س لئے یہ پہلی مرتبہ ہوگا کہ کوئی مذہبی جماعت کا نمائندہ گورنر ہائوس میں جائے گا۔ صوبے کی تاریخ میں سب سے زیادہ گورنر آرمی سے تھے اس طرح مسلم لیگ کے سب سے زیادہ اور پیپلز پارٹی کے بھی1970ئ سے2008تک مختلف ادوار میں گورنر منتخب ہوئے ہیں۔ اے این پی کے ارباب سکندر خان خلیل واحد گورنر تھے۔ جبکہ پی ٹی آئی کے شاہ فرمان اور مشتاق غنی کا تعلق بھی ایک ہی پارٹی سے ہے۔

صوبے میں اس عہدے پر سیاست دانوں، عدلیہ اور آرمی کے علاوہ کاروباری شخصیات بھی گورنر منتخب ہوئی ہیں۔ مولانا فضل الرحمن کے چھوٹے بھائی گورنر بننے کی صورت میں آرمی آفیسرز کے بعد سول ملازم ہوں گے جو گورنر ہائوس پہنچ جائیں گے۔