بھارت میں مذہبی فسادات کی نئی لہر

26مئی کو ایک بھارتی ٹی وی چینل پر مذاکرے کے دوران بھارت کی حکمران پارٹی بے جے پی کی ترجمان نو پور شرما نے پیغمبرِ اسلام حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس کے خلاف ایسے گستاخانہ جملے ادا کئے جسے سن کر ہر مسلمان کا دل دکھ اور کرب کے سمندر میں ڈوب گیا۔ اس کے تھوڑی دیر بعد بی جی پی کے سرکاری میڈیا کے سربراہ نوین جندال نے یہ غلیظ گفتگو ٹوئیٹر پر شیئر کر دی جس نے جلتی پر تیل کا کام کیا۔ بھارت کے مسلمان صحافی محمد زبیرجو نہ صرف فیک نیوز کے خلاف عوام میں بیداری کی لہر پھیلانے بلکہ بی جے پی کی مسلم کش پالیسیوں کا پردہ چاک کرنے کے حوالے سے بھی شہرت رکھتے ہیں انہوں نے اپنے ٹوئیٹر کے ذریعے یہ ویڈیو شیئر کر دی۔ ویڈیو شیئر ہوتے ہی بھارت سے عرب ممالک تک مسلمانوں کی طرف سے نو پور شرما کے خلاف سخت ردعمل آنا شروع ہو گیا۔ سعودی عرب نے بھارت سے سخت احتجاج کرتے ہوئے دونوں گستاخوں کو کیفر کردار تک پہنچانے کا مطالبہ کر دیا۔ قطر نے بھارت کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کر دی جبکہ عمان کے مفتی اعظم نے اسے مسلمانوں کے خلاف کھلی جنگ قرار دے دیا۔ پاکستان، ایران اور متحدہ عرب امارات نے بھارتی سفیروں کو بلا کر ان کی خوب سرزنش کی۔انڈونیشیا،ملیشیا اور سوڈان سمیت تقریباً 15اسلامی ممالک نے بھارت سے سخت ناراضگی کا اظہار کیا۔ بھارت کیلئے یہ صورتحال غیر متوقع تھی کیونکہ اب تک وہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلتے اور بھارتی مسلمانوں کو دباتے ہوئے آیا تھا لیکن اسے محسن انسانیت نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مین گستاخی کے خلاف ایسے ردعمل کا اندازہ نہیں تھا کہ کمزور سے کمزور ایمان رکھنے والا مسلمان بھی ہر بات برداشت کر سکتا ہے مگر اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف ایک لفظ بھی اس کی برداشت سے باہر ہو جاتا ہے۔
چنانچہ بھارت نے عالمی ردعمل کو دیکھتے ہوئے فوراً نو پور شرما اور نوین جندال کو ان کے عہدوں سے برطرف کر دیا تاکہ عالمی ردعمل کی گرد بیٹھ سکے لیکن ان دونوں کے خلاف نہ تو کوئی کاروائی کی گئی اور نہ ہی ان کی پس پردہ حمایت چھوڑی گئی بلکہ الٹا مسلمان مظاہرین کو نشانہ بنایا گیا اور انہیں نہ صرف جیلوں میں ڈالا گیا بلکہ وہاں ان پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑے گئے۔ وزیراعظم مودی نے اتنے بڑے واقعہ کے بارے میں آج تک ایک لفظ بھی منہ سے نہیں نکالا اور مودی کی اس خاموشی کو بھارت کے سابق نائب صدر حامد انصاری نے معنی خیز قرار دے دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مودی کی اس خاموشی سے ثابت ہوتا ہے کہ گستاخ رسول نو پور شرما کو مودی کی خاموش حمایت حاصل ہے۔
مودی سرکار کی ان ہندو جنونیوں کو کھلی چھوٹ دینے اور ان کے خلاف کوئی ایکشن نہ لینے کا یہ نتیجہ نکلا کہ بھارتی ریاست راجھستان کے علاقے اودے پور کے ایک ہندو جنونی کنہیا لال جو پیشے کے اعتبار سے ہندو تھا اس نے پچھلے دنوں اپنے فیس بک پرنوپور شرما کی حمایت میں پوسٹ لگا دی جس سے مسلمانوں میں شدید بے چینی اور اضطراب پھیل گیا اس سے پہلے بھی کنہیا لال کو مسلمانوں کے خلاف اشتعال پھیلانے پر پولیس نے چند روز پہلے گرفتار کیا تھا مگر دو دن بعد رہا ہونے کے بعد وہ اور اشتعال پھیلانے لگا کیونکہ پولیس کی طرف سے کوئی جزا سزا نہ ہونے کی وجہ سے اس کا دل اور بھی بڑھ گیا تھا۔ چنانچہ اودے پور سے تعلق رکھنے والے دو مسلمان نوجوانوں ریاض عطاری اور غوث محمد نے28جون کو اسے اس کی دکان میں ہی چھریوں کے وار کر کے موت کے گھاٹ اتار دیا ۔انہوں نے نہ صرف اس واقعہ کی ویڈیو بنا کر انٹرنیٹ پر اپلوڈ کر دی بلکہ مودی کو بھی ایسے انجام کی دھمکی دے ڈالی۔ پولیس نے دونوں نوجوانوں کو گرفتار کر لیا ہے۔ کنہیا لال کے قتل سے بھارت میں حالات بہت خراب ہو گئے ہیں اور فرقہ ورانہ فسادات پھوٹنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔اودے پور سمیت بھارت کے کئی علاقوں میں کرفیو کا سماں ہے۔بھارتی میڈیا جلتی پر تیل کا کام کر رہا ہے ۔وہ نہ صرف مسلمانوں کے خلاف مہم چلا رہا ہے بلکہ اس واقعہ میں بھی پاکستان کا ہاتھ تلاش کر رہا ہے۔ہندوستان ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کنہیا لال کے دونوں قاتلوں کا تعلق پاکستان کی مذہبی تنظیم دعوت اسلامی سے ہے جو تحریک لبیک سے وابستہ ہے جبکہ پاکستانی دفتر خارجہ نے ہندوستان ٹائمز کی رپورٹ کو جھوٹ کا پلندہ قرار دے کر پاکستان کو خواہ مخواہ ملوث کرنے کی سازش قرار دیا ہے۔اگر بھارتی حکومت نو پور شرما اور نوین جندال کو گستاخی کی سزا دے دیتی اور انہیں نمونہ عبرت بنا دیتی تو آج نہ تو کنہیا لال جیسے ہندو مذہبی جنونی کو وہ گستاخانہ پوسٹ شیئر کرنے کی جرأت ہوتی اور نہ ہی کوئی مسلمان اسے جہنم واصل کرتا۔ بھارتی حکومت کو چاہئے کہ وہ بھارتی مسلمانوں اور پاکستان کو دہشت گرد قرار دینے بجائے ہندو مذہبی جنونیوں کو لگا م دے جو گستاخیوں کے ذریعے ملک میں خواہ مخواہ کا اشتعال پھیلا رہے ہیں مگر مودی سرکار سے اس کی توقع کرنا ہی فضول ہے کیونکہ وہ ہندو توا کا نعرہ لگا کر ہی اقتدار میں آیا ہے اور ہندو توا کے فاشسٹ نظریے پر عمل پیرا ہے۔

مزید دیکھیں :   جشن آزادی اور ہمارے رویے