غیر جمہوری رویے سے گریز کی ضرورت

تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اسلام آباد پریڈ گرائونڈ میں مہنگائی کے خلاف جلسہ میں سیاسی حریفوں پر شدید تنقید کی، اس موقع پر انہوں نے مقتدر حلقوں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ میں اپنے اداروں کے خلاف جنگ کرنے نہیں نکلا، ادارے ملک کو بچا لیں، ایسا نہ ہو کہ گیم ہاتھ سے نکل جائے، عمران خان نے عوامی جلسہ سے خطاب میں تاثر دیا کہ وہ اکیلے کرپشن کے خلاف کھڑے ہیں۔
تحریک انصاف ملک کی بڑی سیاسی جماعت ہے اور جمہوری عمل پر یقین رکھتی ہے، تاہم عمران خان کو جب سے اقتدار سے رخصت کیا گیا ہے وہ مسلسل قومی اداروں کو مخاطب کر کے کردار ادا کرنے کی بات کرتے ہیں، وہ کبھی نیوٹرلز کی اصطلاح استعمال کرتے ہیں، اور خود ہی کہنا شروع کر دیتے ہیں کہ وہ اداروں کو مضبوط دیکھنا چاہتے ہیں،کسی بھی سیاسی جماعت کے قائد کا یہ رویہ قطعی طور پر جمہوری نہیں کہلا سکتا، عمران خان جمہوریت پر یقین رکھتے ہیں تو پھر انہیں حکومت کو رخصت کرنے کیلئے جمہوری راستہ اختیار کرنا ہو گا انہیں اس بات پر یقین رکھنا ہو گا کہ جس طرح22سالہ سیاسی جدو جہد کے بعد وہ اقتدار تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے تھے اسی طرح عوام کا اعتماد حاصل کر کے وہ دوبارہ بھی اقتدار حاصل کر سکتے ہیں۔عمران خان اقتدار میں واپسی کیلئے جو راستہ اختیار کرنے کے خواہش مند ہیں وہ غیر جمہوری راستہ ہے، انہیں یہ بات ہرگز نہیں بھولنی چاہئے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت کارکردگی اور عوامی حمایت کی بنا پر ہی اقتدار میں واپس آ سکتی ہے، دیکھا جائے تو عمران خان کو اقتدار سے ہٹانے کیلئے اپوزیشن جماعتوں نے جمہوری راستہ اختیارکیا ہے، اگر عمران خان سمجھتے ہیں کہ ان کی جماعت کو عوام کی حمایت حاصل ہے تو پھر انہیں صبر کا مظاہرہ کرنا ہو گا، اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد ان کے پاس موقع ہے کہ وہ اپنے سابق دور میں کی جانے والی غلطیوں کا جائزہ لیں اور نئے الیکشن کی مہم میں عوام کو بتائیں کہ پاکستانی کے حقیقی مسائل اور ان کا حل کیا ہے کیونکہ آج تک ملک کے حقیقی مسائل کا ادراک نہیں کیا گیا ہے۔ نا مساعد معاشی حالات میں جب عمران خان عوام کے پاس جا کر انہیں مسائل سے باہر نکلنے کا پروگرام بتائیں گے تو عوام کی بڑی تعداد ان کی حمایت پر تیار ہو جائے گی، لیکن اگر انہوں نے شارٹ کٹ راستہ اختیار کرنے کی کوشش کی تو ان کے ہاتھ کچھ بھی نہیں آئے گا۔
شمسی توانائی کے فروغ کا مثبت فیصلہ
وزیراعظم شہباز شریف کے وژن کے تحت گرین پاور( ماحول دوست توانائی) تک عام رسائی کا عمل آسان بنانے اور وزیراعظم کے کلین اینڈ گرین پاکستان کے خواب کو عملی شکل دینے کیلئے وفاقی حکومت نے شمسی توانائی کے منصوبوں پر کام شروع کر دیا ہے۔ اس ضمن میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی سربراہی میں قائم ٹاسک فورس کے اجلاس میں سرکاری عمارتوں اور چھوٹے صارفین کو سولر انرجی پر منتقل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جسے توانائی بحران سے نمٹنے کے حوالے سے انتہائی مثبت اقدار قرار دیا جا سکتا ہے۔
امر واقعہ یہ ہے کہ سرکاری عمارتوں میں بجلی کے استعمال میں سب سے زیادہ لاپروائی برتی جاتی ہے، چونکہ بل کی ادائیگی کسی نے اپنی جیب سے نہیں کرنی ہوتی بلکہ قومی خزانے سے ہوتی ہے اس لئے وہاں بجلی کی بچت پر کوئی دھیان ہی نہیں دیتا، پنکھے اور ائیرکنڈیشنز بلاضرورت چلتے رہتے ہیں۔ بجلی کا بے دریخ استعمال جہاں پر نعمتوں کے ضیاع کے زمرے میں آتا ہے وہاں پر سرکاری اداروں میں بجلی کے بل ادا نہ کرنے کا رحجان بھی پایا جاتا ہے، اس سے گردشی قرضوں میں اضافے کا باعث بنتا ہے۔ شمسی توانائی پر سرکاری اداروں کی منتقلی سے بجلی کی بجت اور گردشی قرضوںمیںکمی آئے گی۔ اسی طرح چھوٹے صارفین کو شمسی توانائی پر منتقل کرنے کا فیصلہ بھی نہایت اہمیت کا حامل ہے، اس حوالے سے حوصلہ افزاء بات یہ ہے کہ یہ صارفین اضافی بجلی گرڈ اسٹیشنز کو بیچ سکیں گے جس سے ان کی آمدن میں اضافہ ہوگا اور بجلی گھروں پر دباؤ بھی کم ہوگا۔گھریلو صارفین، دکاندار اور چھوٹے درجے کا کاروبار کرنے والے با آسانی سولر پر سسٹم چلا سکتے ہیں، انہیں سبسڈی اور رعایتی قرضے دینے کے منصوبہ بھی زیر غور ہے، یوں دھوپ کو بہتر استعمال میں لاتے ہوئے ہم نہ صرف بڑے پیمانے پر بجلی کی بچت کر سکتے ہیں بلکہ اس سے صنتعی شعبے کو اس کی ضرورت کے مطابق بجلی فراہم کی جا سکے گی۔ جب صنعتوں کیلئے وافر بجلی دستیاب ہوگی تو اس سے یقیناً ان کی پیداوار میں بھی نمایاں اضافہ ہوگا جس سے ملکی برآمدات کو فروغ ملے گا اور تجارتی خسارے میں نمایاں کمی آئے گی۔ اس لئے حکومت کو شمسی توانائی کے فروغ کے منصوبوں پر تندہی کے ساتھ عمل کرنا چاہیے تاکہ ملک کو درپیش توانائی بحران کا پائیدار، سستا اور آسان حل ممکن ہو سکے۔
پاک افغان تجارت میں اہم پیش رفت
حکومت پاکستان نے افغانستان سے نو اشیاء کی درآمد پر کسٹمز ڈیوٹی ختم کر دی ہے، ان اشیاء میں کوئلہ، تارکول، سلفر، شکرقندی، مصالحہ جات، پودوں کے اجزائ، پودوں کے بیج، پھل، دارچینی کے بیج، پسی ہوئی دارچینی، ثابت دارچینی شامل ہیں۔ حکومت کے اس اقدام سے ایک تو ان اشیاء کی ملک میں قیمتیں کم ہوں گی ، دوسرا دونوں ممالک کے درمیان تجارت کو بھی فروغ ملے گا۔
افغانستان پاکستان کا پڑوسی برادر ملک ہے، بدقسمتی سے دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان تجارتی بندشوں و دیگر وجوہات کی بناء پر غیرقانونی تجارت کا رحجان پایا جاتا ہے جس سے امن و امان کا مسئلہ بھی پیدا ہوتا ہے۔ پاکستان سے افغانستان میں زیادہ تر جانوروں، گندم و آٹے کی سمگلنگ ہوتی ہے اور جب فورسز کو اس کا پتہ چلتا ہے تو وہ کارروائی کرتی ہیں، اس دوران فائرنگ کے تبادلے میں جانی نقصان بھی ہوتا ہے۔ پھر غیرقانونی طریقوں سے ہونے والی تجارت سے صرف چند لوگوں کو ہی فائدہ پہنچتا ہے ریاستوں کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا۔
مذکورہ بالا عوامل کو مدنظر رکھتے ہوئے دونوں جانب کی حکومتوںکو چاہیے کہ وہ سرحد کے آر پار تجارت کو ممکنہ حد تک آسان بنائیں اور تاجروں کو زیادہ سے زیادہ سہولتیں اور مراعات فراہم کریں تاکہ غیرقانونی تجارت کی حوصلہ شکنی ہو اور قانونی تجارت سے دونوں ممالک صحیح معنوں میں فائدہ اٹھا سکیں۔ علاقائی تجارت پورے خطے کے مفاد میں ہوتی ہے کیونکہ ترسیل کی پابندیاں کم ہوتی ہیں، چنانچہ ٹیکسوں میں رعایت و دیگر آسانیوں کی فراہمی سے جب قانونی تجارت کو فروغ ملے گا تو اس کے مثبت اثرات پورے خطے پر مرتب ہوں گے۔

مزید دیکھیں :   منبر و محراب اور استاد کی اہمیت