مہنگائی کی تازہ لہر

ملک بھر میں پچھلے ایک ماہ کے دوران اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں غیرمعمولی اضافے سے پیدا ہوئے مسائل کے حل کیلئے صوبائی حکومتوں نے اپنے اپنے دائرہ اختیار میں اقدامات اُٹھائے مگر خاطرخوا نتائج بہرطور برآمد نہیں ہوئے۔ ایک تاثر یہ بھی دیا گیا کہ طلب ورسد میں عدم توازن کی وجہ سے مہنگائی بڑھی ہے حالانکہ وفاق اور چاروں صوبائی حکومتوں نے اشیائے ضروریہ کی ترسیل (منڈیوں سے دکانداروں تک) میں ہر ممکن سہولت فراہم کی۔ مہنگائی کے اس اضافی بوجھ سے پریشان شہریوں پر قیمتوں میں اضافے کا ایک نیا بوجھ پچھلے دو تین دن میں ڈال دیا گیا۔ سبزیوں، دالوں اور دیگر اشیاء کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ رمضان المبارک کی آمد سے قبل دیکھنے میں آرہا ہے۔ پچھلے تین دنوں کے دوران سبزیوں کی قیمت میں 10سے25روپے فی کلو اضافہ ہوا جبکہ فروٹ بھی مہنگے داموں فروخت کیا جارہا ہے، اسی طرح میدہ، چینی، چائے، آٹا اور دالوں کی قیمتوں میں بھی اضافہ کر دیا گیا ہے، مرے کو مارے شاہ مدار والی صورتحال ہے۔ صوبائی حکومتوں کا فرض ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں اضلاع کی انتظامیہ کو مہنگائی کی حالیہ لہر کی روک تھام اور قیمتوں کو معمول پر لانے کیلئے فعال کردار ادا کرنے کا حکم دیں اور اس امر کو یقینی بنائیں کہ پہلے سے موجود مسائل سے پریشان حال شہریوں کی زندگی منافع خور اجیرن نہ کرنے پائیں۔
آرمی چیف کی فوج کو سول اداروں سے ہر ممکن تعاون کی ہدایت
آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے کہا ہے کہ پاک فوج سول اداروں سے ملکر رمضان المبارک میں شہریوں کو سہولیات کی فراہمی اور کورونا کے پھیلاؤ کو روکنے کیلئے کام کریگی۔ بلاشبہ آفات ودیگر مسائل کے وقت پاک فوج نے ہمیشہ سول اداروں کیساتھ ملکر ریلیف کے عمل میں جو خدمات سرانجام دیں وہ مثالی ہیں، کورونا وباء کے حالیہ دنوں میں بھی ملک بھر میں سول اداروں کے شانہ بشانہ عوامی خدمت اور ریلیف کے عمل میں فوج کی شرکت سے کم وقت میں زیادہ کام اور نتائج کے حصول کیساتھ سول اداروں کے ذمہ داران کو سیکھنے کا موقع بھی ملا۔ ماضی کی طرح اس آفت سے نمٹنے کیلئے بھی بری فوج کے افسروں اور جوانوں نے حکومت کے خدمت خلق کے پروگرام میں عملی شرکت کرنے کیساتھ خطیر رقم عطیہ بھی کی۔ آرمی چیف کی طرف سے ماہ صیام میں سول اداروں کیساتھ تعاون کی ہدایت بھی خوش آئند ہے۔
اوسط آمدنی والے بیروزگار ملازمین بارے بھی سوچئے
وفاقی کابینہ کی اقتصادی رابطہ کمیٹی نے کم آمدنی والے 60لاکھ افراد میں 12ہزار روپے فی کس تقسیم کیلئے 75ارب روپے جاری کرنے کی منظوری دیدی۔ احساس پروگرام کے تحت دیہاڑی دار غریب خاندانوں کی امداد کا سلسلہ پہلے سے جاری ہے۔ یہاں ہم وفاقی حکومت کو اوسط درجہ کی تنخواہوں پر نجی اداروں ہوٹلوں، دکانوں پر کام کرنے والے لاکھوں افراد کے مسئلہ کی طرف بھی متوجہ کریں گے۔ یہ وہ افراد ہیں جو احساس کفالت پروگرام کیلئے بنائے قواعد کے تحت خود کو رجسٹر نہیں کراسکتے لیکن ادارے اور مارکیٹیں بند ہونے کی وجہ سے ان سفید پوش افراد کی مدد کیلئے خصوصی اقدامات کی ضرورت ہے جو سفید پوشی کا بھرم قائم رکھنے کیلئے سسک سسک کر جی رہے ہیں۔ حکومت کیساتھ ساتھ اگر سماجی شعبہ میں عوامی خدمت کیلئے سرگرم تنظیمیں بھی ایسے افراد کی مدد کیلئے آگے بڑھیں تو وہ زیادہ بہتر کام کر سکتی ہیں کیونکہ ان تنظیموں کے ذمہ داران اور رضاکاروں کا تعین خود اسی طبقے سے ہے اور وہ بہتر انداز میں متاثرہ خاندانوں کی شناخت ظاہر کئے بغیر ان کی دہلیز پر مدد فراہم کر سکتے ہیں۔