بھارت اسلاموفوبیا کا نیا مریض

کورونا وائرس کی عالمگیر وباء دنیا کیلئے جس انداز کا چیلنج بن کر سامنے آئی ہے بھارت میں صورتحال اس کے قطعی برعکس ہے۔ بھارت میں اس وائرس کو انسانی زاویۂ نگاہ سے دیکھنے کی بجائے اسے روایتی نفرت انگیز ہندوتوا ایجنڈے کو آگے بڑھانے کیلئے ایک اور موقع اور امکان کے طور پر لیا جارہا ہے ۔آج کے بھارت کا سب سے بڑا مسئلہ اکثریت اور دوسری بڑی اکثریت کے درمیان تیزی سے بڑھائی جانے والی خلیج ہے۔خلیج کو اس انداز سے بڑھا یاجارہا ہے کہ پہلے ڈرے اور سہمے ہوئے مسلمانوں کو مزید مجرم بنا کر دیوار سے لگادیا جائے ۔قیام پاکستان کے ''جرم'' کا بوجھ ہی کیا کم تھا اب بھارت میں کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا سارا بوجھ بھی انہی کے کندھوں پر ڈالا جارہا ہے۔ کورونا نے جہاں انسانوں کو متحد اور انسانیت کی متحدہ اساس سے دوبارہ جوڑا وہیں بھارت میں اس وباء کے دوران بھی انسانوں کے درمیان تفریق اور امتیاز کی ناقابل یقین واقعات سامنے آرہے ہیں۔ قیام پاکستان سے پہلے مسلمانوں کیساتھ تفریق کی جو کہانیاں ہندو پانی اور مسلم پانی کی صورت میں سننے اور پڑھنے کو ملتی تھیں اب کورونا بحران میں مسلمان وارڈ اور ہندو وارڈ کی تقسیم اور تفریق کی صورت دوبارہ زندہ حقیقت بن کر سامنے آرہی ہیں، گویا کہ تاریخ خود کو نئے انداز سے دہرا رہی ہے۔ بھارت کا اکثریتی طبقہ حقیقت میں انگریز راج کے خاتمے کے وقت سے ہی اسلاموفوبیا کے عارضے کا شکار تھا۔ فرق صرف یہ تھا کہ اس وقت ہندوؤں کے اندر ہی ایک تعلیم یافتہ اور سیکولر لابی اس سوچ کے آگے چھوٹے چھوٹے سپیڈ بریکر باندھتی تھی جس کی وجہ سے ہندوتوا سوچ پوری ریاست پر غلبہ حاصل کرنے میں ناکام رہتی تھی۔ ہندوتوا سوچ نے آل انڈیا مسلم لیگ کو کانگریس سے دور کیا اور اس کا منطقی نتیجہ دو الگ ریاستوں کی شکل میں برآمد ہوا۔ ہندوؤں کے اندر سخت گیر اور لبرل سوچوں کا فیصلہ کن معرکہ بھارتی آئین سازی کے دوران لڑا گیا جب پنڈت نہرو اور سردار پٹیل میں سخت جوڑ پڑا۔ بھارتی آئین میں کشمیر کو جو خصوصی شناخت دی گئی تھی وہ نہرو نے بڑی محنت سے حاصل کی تھی کیونکہ وہ کشمیری راہنما شیخ عبداللہ کیساتھ دوستی کے عہد وپیماں میں بندھے تھے اور شیخ عبداللہ کو مکمل داخلی خودمختاری کے نام پر ہی وہ اپنا ہمنوا بنانے میں کامیاب رہے تھے۔ سردارپٹیل کا نظریہ ایک ودھان ایک پردھان کی صورت میں یہ تھا کہ ایک ملک میں ایک دستور چلے گا۔ رفتہ رفتہ بھارت کا ہندوتوا کی جانب سفر جاری رہا اور اب یہ اپنے مقام عروج پر پہنچتا جا رہاہے۔ پانچ اگست کو کشمیر کی رہی سہی خصوصی شناخت کو ختم کرنے کے بعد مودی حکومت کے ماسٹر مائنڈ امیت شاہ پارلیمنٹ میں فخریہ انداز میں کہا تھا کہ ہم نے تقسیم کے وقت کی غلطیوں کو ٹھیک کر دیا ہے۔ انتہا پسند ہندوؤں نے ایک سوچی سمجھی سکیم کے تحت اسلام کو ہر برائی کیساتھ نتھی کرنے کا رویہ اپنایا ہے۔ رواں عشرے کے اوائل میں جب ہندو لڑکیاں مسلمان لڑکیوں کیساتھ پسند کی شادیاں کرنے لگیں تو اسے انتہا پسندوں نے ''لوجہاد'' کا نام دیا۔ دو افراد کے فیصلے اور قبول وایجاب کو ''جہاد'' کا نام دینے کا مقصد اس کے سوا کچھ اور نہ تھا کہ کسی فرد کے فعل کو اس کے مذہب کیساتھ جوڑ دیا جائے۔ یہ وہی مشق تھی جو مغرب نے ''اسلامک ٹیررسٹ'' کی اصطلاح گھڑ کرشروع کی تھی۔ اب کورونا آیا تو ہندو ذہن نے اس جہاد محبت کی طرح ''کورونا جہاد'' کا نام دیا اور مسلمانوں کو کورونا ٹیررسٹ کا نام دیا۔ کورونا کو مسلمانوں کیساتھ مستقل طور پر بریکٹ کرنے کیلئے دہلی میں ہونے والے تبلیغی اجتماع کو ہوا بنا کر پیش کیا گیا۔ بھارت کا میڈیا اس وقت حکومت کا ہمنوا اور طبلہ نواز ہے۔ایک خبر تخلیق کی گئی پھر اس کو سوشل میڈیا کے ذریعے جنگل کی آگ کی طرح پھیلایا گیا۔ مثلاً یہ کہ پہلے ایک افسانہ گھڑا گیا جس کا مرکزی کردار ایک مسلمان تھا پھر اسے افسانے میں سنسنی خیزی بھرنے کیلئے اس مسلمان کو کورونا کا مریض بنا کر پیش کیا گیا ساتھ ہی افسانے کو مزید دھماکہ خیز بنانے کیلئے کہا گیا کہ اس کورونا زدہ مسلمان نے فلاں ہسپتال میں نرسوں پر تھوکا یا فلاں مقام پر واٹر ٹینک میں تھوک دیا۔ یہ کہانی واٹس ایپ کے ذریعے ہندو گروپوں میں پھیلتی گئی اور یوں مسلمانوں کیخلاف نفرت کا لاوہ یا ہجوم کے تشدد کی صورت پھٹتا چلا گیا۔ نفرت اس قدر بڑھی کہ کئی ہسپتالوں میں ڈاکٹروں نے مسلمانوں کا علاج کرنے سے انکار کیا۔ کئی مقامات پر اخبارات میں اشہارات چھپوا کر مسلمانوں کو کہا گیا کہ وہ فلاں ہسپتال کا رخ نہ کریں۔ کئی ہسپتالوں میں مسلمانوں اور ہندوؤں کے وارڈ الگ کر دئیے گئے۔ جب پوچھا گیا کہ اس کی وجہ کیا ہے تو جواب ملا کہ ہندو مریضوں کا کہنا تھا وہ مسلمان مریضوں کیساتھ سہولت محسوس نہیں کرتے یا دوسرے لفظوں میں ان سے خوف محسوس کرتے ہیں۔ کئی جگہوں پر ہندوؤں نے مسلمان ریڑھی بانوں کا اپنی گلیوں میں داخلہ بند کیا۔ ان سے سامان خریدنے سے صاف انکار کیا۔ یوں نفرت ہندوستان کی جڑوں میں سرایت کرتی چلی گئی۔ ایسا ہرگز نہیں کہ یہ نفرت محض سیاسی اور انتخابی ضرورتوں کی خاطر پروان چڑھائی گئی۔ ایسا ہوتا تو اب انتخابات کے بعد حالات نارمل ہو جانے چاہئے تھے۔ بھارتیہ جنتا پارٹی ایک بار پھر پوری قوت کیساتھ برسراقتدار آچکی ہے۔ مودی جیسا سخت گیر ہندو ایک بار پھر وزیراعظم ہے۔ اترپردیش جیسی ریاست پر مودی سے دوہاتھ آگے سادھو وضع قطع کا انسان یوگی ادتیہ ناتھ پورے جاہ وجلال کیساتھ حکومت کر رہا ہے۔ اب نفرت کے ایجنڈے کو آگے بڑھانے پر اصرار کیا معنی رکھتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ انتخابی اور سیاسی ضرورت سے بہت آگے کا معاملہ ہے اور بھارت نے بطور ریاست یہ طے کر لیا ہے کہ وہ ایک ٹھیٹھ ہندو ریاست کے طور دنیا کے نقشے پر اُبھرنے کا ہدف اور منزل طے کر چکا ہے۔ ظاہر ہے کہ اس سفر میں مسلمانوں کا وجود یا بوجھ ہے یا بے معنی اور بھارت یہ سفر مسلمانوں کو مائنس کرکے طے کرنا چاہتا ہے۔ کروڑوں کی آبادی کو عملی طور پر مائنس کرنا تو ممکن نہیں مگر انہیں احساس کمتری اور دباؤ کے ماحول میں رکھنا چاہتا ہے کہ ان میں دوبارہ مجتمع ہونے کی قوت اور تگ وتاز باقی نہ رہے۔