کساد بازاری کے معاشرتی اثرات

خاتم النبیینۖنے مدینہ طیبہ میں جو ریاست قائم فرمائی تھی اُس کا ہر گوشہ، ہر قانون اور ہر ضابطہ انسانیت کی فلاح وبہبود پر مبنی ہے۔ مکہ مکرمہ سے جب نبیۖ نے ہجرت فرمائی تو صحابہ کرام کی بھی بڑی تعداد نے ہجرت اختیار کی، صحابہ کرام کی اکثریت کفار مکہ کی اذیتوں کے خوف سے چھپ چھپا کر مدینہ طیبہ کی طرف روانہ ہوئے تو گھر کا اثاثہ مکہ ہی میں رہ گیا۔ آپۖ نے مدینہ طیبہ کے مسلمانوں کو اپنے مہاجر بھائیوں کیساتھ اُخوت کا رشتہ قائم کرنے کی تلقین فرمائی، یوں مہاجرین اور انصار کے درمیان جو معاہدہ ہوا، تاریخ اسلامی میں اُس کا نام ''معاہدہ مؤاخاة، پڑ گیا۔ تاریخ انسانی میں اس سے پہلے اور بعد میں ایسا کوئی معاہدہ موجود نہیں البتہ مسلمان معاشروں میں آج بھی اسی معاہدے کے اثرات ضرور وقت پڑنے پر سامنے آجاتے ہیں۔ افغانستان پر روسی حملہ کے بعد پاکستان نے جس طرح افغانوں کو پناہ دی یا آج ترکی نے جس طرح شامی مہاجرین کیلئے سرحدیں کھولی ہیں، یہ اُن ہی تعلیمات کا اثر ہے۔ مدینہ طیبہ کی ریاست میں نبیۖ نے سود کی بیخ کنی اور مسلمان معاشرے کے افراد کے درمیان اُخوت کی مضبوطی کیلئے چند اشیاء کے تبادلے پر اضافہ ممنوع قرار دیا اور چند اشیاء کو ساروں کیلئے مشترک اثاثہ قرار دیا۔ گندم، جو، کجھور، نمک وغیرہ پر اضافہ ممنوع اور آگ(ایندھن)، چارہ گاہیں، پانی اور بعض دیگر چیزیں عام استعمال کیلئے مشترک قرار دیں۔ اُس زمانے میں چونکہ کاغذ کی کرنسی نہیں تھی اس لئے سونا چاندی وغیرہ بطور کرنسی(نقد) اور اشیاء کے تبادلے کے ذریعے بازاروں وغیرہ میں لین دین ہوتا تھا۔ اُس زمانے میں بھی خشک سالی وغیرہ کے سبب کساد بازاری آتی تھی لیکن عجیب کمال یہ ہے کہ معاہدہ اخوت کے سبب جو خوراک وغذا کی اشیاء دستیاب ہوتیں، وہ بیت المال کے ذریعے عدل وانصاف کیساتھ محتاج ومستحقین میں تقسیم ہوتیں، ایثار اُس معاشرے کی ایسی صفت تھی جس نے اشیاء کی کمی کبھی محسوس نہیں ہونے دی۔ آج اس عالمی وباء کے سبب ایک طرف انسانی جانوں کے اتلاف کا خوف اور دوسری طرف کساد بازاری کے سبب لوگوں کے بیروزگار ہونے اور اس کے نتیجے میں بھوک سے مرنے کے خدشات لاحق ہیں، یہی وجہ ہے کہ دنیا کی ہر حکومت اپنی بساط کے مطابق دیہاڑی دار مزدور طبقہ اور معذوروں اور ضعیفوں کیلئے الاؤنس، راشن اور نقد امداد کی مختلف صورتوں پر عمل کررہی ہیں اور یہ بہت اچھی بات بھی ہے اور حکومتوں کا فرض بھی ہے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ پاکستان بھارت اور بنگلہ دیش جیسے ملکوں میں اگر امریکہ، اٹلی، سپین وغیرہ (خدانہ کرے) جیسے حالات پیدا ہو جائیں تو پھر کیا ہوگا؟ ابھی ایک مہینہ کی لاک ڈاؤن نے پاکستان میں لاکھوں لوگوں کو بیروزگاری سے دوچار کر دیا ہے۔ دنیا بھر لاک ڈاؤن کے سبب ہماری برآمدات بری طرح متاثر ہورہی ہیں۔ بیرونی ممالک میںکما کر بھیجنے والے پاکستانی بے چارے بھی وہاں بیروزگاری کے شکار ہوکر گنجان علاقوں میں بند پڑے ہیں، اس لئے خدانخواستہ اگر یہ وباء نومبر وغیرہ تک طول پکڑی ہے تو کیا ہماری حکومت اور مقتدروں نے اس کیلئے بھی کوئی منصوبہ بندی کی ہے کہ نہیں۔ اس میں شک نہیں کہ وزیراعظم اور کابینہ اور اپوزیشن سب اس حوالے سے سوچ رہے ہوںگے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس وباء کی سختی اور خوف کو ہمارے سیاستدانوں اور اہل اقتدار نے اُس طرح محسوس نہیں کیا ہے جس طرح اس کا تقاضا ہے۔ اس کی وجہ صاف نظر آرہی ہے کہ ابھی تک اہل اقتدار اور اپوزیشن کے درمیان سارے اختلافات سے بالاتر ہوکر کرونا وباء کے حوالے سے یکسوئی اور مل کر کام کرنے کا مظاہرہ دکھائی نہیں دیتا۔ ان ہنگامی حالات میں اہل اقتدار کا فرض ہے کہ اپوزیشن کو اعتماد میں لیکر مستقبل میں پوشیدہ خطرات اور بالخصوص کساد بازاری کے حوالے سے انتظامات کریں۔ پاکستان زرعی ملک ہے اور اللہ پاک کا ہم پر بڑا کرم ہے کہ پنجاب اور سندھ سرزمین پورے پاکستان کیلئے اناج وغلہ کی کفالت کر سکتی ہے لہٰذا اس وقت غلہ وغیرہ کو اس انداز میں محفوظ رکھا جائے کہ وباء کی طوالت کی صورت میں لوگوں کو سوکھی روٹی سہی بہ آسانی مل سکے اور آئندہ کیلئے بھی زراعت پر خصوصی توجہ مرکوز کر کے برآمدات کے ذریعے مسلمان ملکوں کی مدد بھی کی جا سکے۔ عمران خان، سردست جتنے وسائل دستیاب ہیں اُن کو غرباء ومحتاج لوگوں پر خرچ کرنے کے انتظامات کرے کیونکہ پیٹ کا دوزخ انسان کو بے حال کرتا ہے اور اگر اس کا بندوبست نہ کیا گیا تو معاشرے میں انارکی وانتشار پھیلنے کے خدشات بھی پیدا ہو سکتے ہیں (اللہ نہ کرے)۔ یہ بات بھی ہم سب کو معلوم ہے کہ حکومت پاکستان کے وسائل بھی محدود ہیں اور ہماری آبادی بھی ماشاء اللہ بائیس کروڑ ہے۔ لہٰذا وزیراعظم یہ آپشن اپنے سامنے رکھے کہ کم ازکم کرپشن اور غیرقانونی آمدنیوں والوں سے اتنی اوگرائی تو کروالے کہ اس ہنگام میں پاکستانیوں کے کام آسکے۔ اس کے علاوہ اس وقت ایک ایسے تھینک ٹنک کی ضرورت ہے جو حکومت کو معاشی میدان میں تیز گامی کیلئے قابل عمل مشورے دیکر مستقبل کے خدشات کا ازالہ کرنے میں ممد ومعاون ثابت ہوں۔ مثلاً اس وقت پیٹرول ارزاں بلکہ مفت ہے لہٰذا کم ازکم ایک سال کی کیفیت کے برابر جلد ازجلد درآمد کیا جائے۔ اللہ ہمارا حامی وناصر ہو۔