بعد از کورونا۔۔ معیشت؟

ملکی صنعت کا پہیہ مکمل نہیں تو زیادہ ترجام ہی ہے ایک بات آج تک سمجھ نہیں آئی کہ ہر کوئی اپنے کاروبار کو انڈسٹری قرار دینے کیلئے بے چین اور بیتاب نظر آتا ہے، انڈسٹری کا لفظ سامنے آتے ہی ذہن میں کسی چیز کی پیداوار کا خیال آتا ہے کہ یہ انڈسٹری فلاں فلاں چیز تیار کرتی ہے جو مارکیٹ میں بیچی جاتی ہے اور زیادہ بنا لیتی ہے تو بیرون ملک بھیج دی جاتی ہے جس سے زر مبادلہ کمایا جاسکتا ہے لیکن اگر ہوٹل کو انڈسٹری قرار دیدیا جائے تو وہ ہوٹل والا کیا چائے بنا بنا کر برآمد کریگا، تعلیم دینے والا کیا برآمد کرے گا؟ الیکٹرونک میڈیا والا کیا اپنی خبریں باہر کے ملکوں کو بیچے گا جس سے زرمبادلہ حاصل ہو۔ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے مکان فلیٹس اور دیگر ہائوسنگ اسکیموں کو انڈسٹری قرار دیدیا ہے کیا یہ لوگ مکان بنا بنا کر بیرون ملک بھیجیں گے؟ یہ کیسے انڈسٹری بن گئی؟ یہ بلڈرز حکومت سے چینی آٹا اور دیگر اجناس کی طرح ہائوس بلڈنگ میں بھی سبسڈی مانگنا شروع کر دیںگے یہ کیا تماشا اس ملک میں ہو رہا ہے کہ بلڈر صرف زمین خرید لیگا پھر عوام سے اربوں کی رقوم بٹورنے کے بعد اربوں کی سبسڈی بھی حکومت سے لے لیگا۔ اس ملک میں کم وبیش دو ہزار کے قریب ایسے سرمایہ دار ہیں جن کا پیسہ ہائوس بلڈنگ میں لگا ہوا ہے بلکہ قوم کے کھربوں روپے ان کی جیبوں میں مکان فلیٹ دکان کی مد میں جا رہے ہیں، ان کی تو صرف زمین ہی ہے باقی سارا سرمایہ تو عوام کا ہے۔ دو ارب کا پلاٹ لیکر دس ارب عوام کی جیبوں سے اینٹھنے والا خود کو صنعتکار کہلوانے پر بضد ہے جس نے قوم کو ایک ڈھیلے کا زر مبادلہ نہیں دلوایا وہ قوم کے اربوں روپنے اینٹھ کر صنعتکاروں کی صف میں کھڑا ہونے کو بیتاب ہے پھر اس پر مستزاد یہ کہ اس سے یہ بھی نہیں پوچھا جائیگا کہ وہ جو زمین اربوں کی خرید رہا ہے اس کا سرمایہ کہاں سے آیا۔ چلو ماناآپ کالا پیسہ سفید کرنے کا راستہ دکھانا چاہتے ہیں تو کم ازکم ان کو اس بات کا تو پابند بنائیں کہ وہ ایک کارخانہ لگائیں جس میں کچھ بن سکے، الیکٹرونک کے دیگر آلات بن سکیں اور اگر نہیں تو دنیا میں دیکھیں کہ کس چیز کی ڈیمانڈ زیادہ ہے مغربی ملکوں کو بھی چھوڑ دیں چھوٹے ملکوں کو ایشیا افریقا عرب ممالک میں اشیاء کی کھپت دیکھ کر وہی کارخانے لگانا شروع کر دیں تاکہ ان کے کارخانوں میں تیار ہونیوالا مال براہ راست برآمد کیا جا سکے جس سے قومی خزانے میں خطیر زر مبادلہ جمع کیا جا سکے۔ آج کل جو ایک زہر قومی خزانے میں آرہا ہے اور کچھ دئیے بغیر اس پر13فیصد سود کیساتھ واپس انہی کے پاس جا رہا ہے جو ہزاروں میل دور بیٹھ کر ہمارے زرمبادلہ کے ذخائر کو ریموٹ کنٹرول کی طرح کنٹرول کر رہے ہیں اور گاہے گاہے دھمکیاں بھی دیتے رہتے ہیں براہ راست یا آئی ایم ایف اور ایف اے ٹی ایف کے ذریعے میرا اشارہHot Money کی طرف ہے، جس کے ذریعے ایک غیرملکی اپنے سرمائے میں سے پانچ چھ ارب ڈالر اسٹیٹ بینک میں رکھ دیتا ہے اور اس پر سالانہ 13فیصد سود لیتا رہتا ہے اور ہم اسی میں خوش رہتے ہیں کہ چلو ہمارے زرمبادلہ کے زخائر میں بیٹھے بٹھائے پانچ چھ ارب جمع ہوگئے، اتنی سی عقل تو گلی کے باہر بیٹھے ہوئے چھوٹے سے دکاندار میں بھی ہے کہ اگر اس کی دکان پر جو چل بھی مشکل سے رہی ہو کوئی شخص دو لاکھ روپے رکھ جائے اور کہے اس پر سالانہ تیرہ فیصد سود مجھے دیتے رہو تو وہ کم پڑھا لکھا دکاندار بھی وہ دو لاکھ روپے اس کے منہ پر دے مارے گا کہ میری تو دکان خود مشکل سے دوچار ہے اور میں تم کو سال کے تیرہ فیصد سود کی مد میں ادا کرتا رہوں لیکن دنیا جہاں کی معیشت کی تعلیم حاصل کرنے والے ماہرین معاشیات کی سمجھ میں اتنی سی بات بھی نہیں آتی اس کے دو ہی مطلب ہو سکتے ہیں ایک تو یہ کہ اپنے بیرونی آقائوں کی خیر خواہی کر رہے ہیں اور ملکی خزانے کو ان بیرونی آقائوں کی ہوس زر کی بھینٹ چڑھا رہے ہیں۔ ہمارے ملک میں جو بھی معاشی اور فنانس پالیسیاں اپنائی جاتی ہیں ان کی مثال چائے کی پیالی میں طوفان سے زیادہ نہیں۔ ویتنام اور تائیوان جیسے چھوٹے چھوٹے ملک جن کو دنیا کے نقشے میں جگہ بھی نصیب نہیں اپنی بقا کیلئے الیکٹرونک کی اشیا برآمد کرکے خطیر زرمبادلہ کما رہے ہیں۔ آپ کو یقین نہیں آئیگا کہ فار ایسٹ کے ممالک بشمول چین نے کارٹیج انڈسٹری کی بنیاد پر ہی ترقی کی وہ آج امریکا جیسے ملک کے سینے پر مونگ دل رہے ہیں، یہاں تو بس یہ دیکھا جا رہا ہے کہ باہر سے امداد کب اور کتنی آئے گی اور ان کے حصے میں کیا ہوگا، آج کھالو اور دس بیس سال کے بعد جب کوئی تحقیقاتی رپورٹ شائع ہوگی اس وقت تک آج کا کھایا ہوا سو گنا زیادہ ہو چکا ہوگا اگر دینا بھی پڑگیا تو وہی اصل رقم ہی دینی پڑے گی کیونکہ سزا تو کوئی ہو نہیں سکتی۔ یہ تو تھی کورونا سے پہلے کی صورتحال اب جب کورونا پہلے جھٹکے میں اس قوم کو قریب قریب 60ہزار ارب کا مزید مقروض کر چکا ہوگا تو جو ملک پہلے کے حالات سے نمٹنے کی سکت نہیں رکھتا تھا وہ مزید اتنا ہی بوجھ اور کیونکر اُٹھا سکے گا۔ آئی ایم ایف جن شرائط پر قرض دیتا ہے اس کی جھلک تو قوم دیکھ ہی چکی ہے اس پر ایک اور ادارے ایف اے ٹی ایف پیچھے لگا دیا جاتا کہ کہیں ان کی دی ہوئی رقم پاکستان کی ترقی تعلیم ہنر مندی میں تو استعمال نہیں ہورہی چند ارب ڈالر لیکر پاکستان کی حالت کلاس کے اس کند ذہن بچے کی سی ہو جاتی ہے کہ وہ ہمہ وقت اپنے اُستاد کو لکھ لکھ کر اپنا یاد کیا ہوا سبق دکھاتا رہتا ہے اور اُستاد اس کو مزید بہتر کرنے کا کہتا رہتا ہے۔