تخت لاہور پر کون کرے گا راج

تخت لاہور پر کون کرے گا راج؟ فیصلہ ہوگا آج

ویب ڈیسک: پنجاب میں حمزہ شہباز کی حکومت برقرار رہے گی یا نہیں اور کیا چودھری پرویز الٰہی پنجاب کا وزیرِ اعلیٰ بن پائیں گے؟ فیصلہ آج ہو گا۔ پنجاب کے 20 نشستوں پر انتخاب کے لیے ووٹنگ شروع ہوچکی ہے جو شام 5 بجے تک بلا تعطل جاری رہے گی۔ 20 نشستوں کے لیے 175 امیدوار میں مقابلہ ہو رہا ہے۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف میں کانٹے کا مقابلہ متوقع ہے۔
پنجاب اسمبلی میں ارکان کی مجموعی تعداد 371 ہے، جن میں سے تحریکِ انصاف کے منحرف ارکان کو نکال کر اس وقت ایوان 346 ارکان پر مشتمل ہے۔ کسی بھی جماعت کو اپنا وزیرِاعلیٰ بنانے کے لیے 186 ارکانِ اسمبلی کی حمایت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ایوان میں تحریک انصاف کی مجموعی طور پر 163 نشستیں ہیں جب کہ 10 نشستیں مسلم لیگ(ق) کی ہیں۔ ان دونوں اتحادی جماعتوں کی کل نشستوں کی تعداد173 ہے۔ دوسری جانب حکمران اتحاد مسلم لیگ(ن) کے 165، پیپلزپارٹی کے 7، چار آزاد امیدوار اور ایک رائے حق پارٹی کے رکن پر مشتمل ہے۔ جن کی مجموعی تعداد 177 بنتی ہے۔ مسلم لیگ(ن) کو یہ اتحاد برقرار رکھنے اور صوبے میں اپنی حکومت قائم رکھنے کے لیے 9 نشستوں کی ضرورت ہے، البتہ ضمنی انتخابات میں 9 نشستیں نہ ملنے پر اس کے لیے پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ برقرار رکھنا نا ممکن ہو جائے گا۔ اسی طرح پی ٹی آئی کو چودھری پرویز الٰہی کو وزیراعلیٰ بنانے کے لیے 13 نشستیں درکار ہیں۔

مزید دیکھیں :   سیلاب متاثرین کورقوم کی ادائیگی بائیومیٹرک تصدیق کے بعدہوگی

بشکریہ(۔۔۔۔)