صدقہ کے ذریعہ نعمتوں کو کیسے محفوظ بنایا جا سکتا ہے؟

سوار کہتے ہیں :’’میں خلیفہ مہدی کے پاس سے ہو کر گھر آیا اور کھانا منگوایا، مگر کھانے کو جی نہیں چاہا، باندی کو طلب کیا تا کہ اس کے ساتھ وقت گزاری کروں اس میں بھی دل نہ لگا قیلولہ کا وقت ہوا ،مگر نیند بھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ نہ کھانے میں دل لگ رہا تھا نہ نیند آرہی تھی اور نہ دل لبھانے والی چیزوں میں رغبت ہو رہی تھی۔تنگ ہو گیا تو میں اٹھا اور اپنے خوب صورت چت کبرے گھوڑے پر زین کسی اور بے مقصد گھر سے باہر نکل گیا۔

راستے میں مجھے میرا ایک وکیل (کاروباری بروکر)ملا،جس کے پاس میرے دوہزار درہم تھے۔ میں نے پوچھا :’’یہ کیا ہے ؟‘‘کنے لگا:’’آپ کے نئے گودام سے وصول کیے ہیں۔‘‘میں نے کہا :’’فی الحال اسے اپنے پاس ہی رکھو!اور ابھی تم میرے ساتھ چلو!‘‘سوّار کہتے ہیں:’’میں نے سواری کو اپنے حال پر چھوڑ دیا کہ وہ جس رخ پر چلے ہمیں کوئی پروارہ نہیں ہے ، سواری نے ہمیں پل عبور کرایا اور ’’شارع دار رقیق ‘‘پر پہنچایا ، یہاں تک کہ ہم اس کے بعد ایک کھلے صحرا میں پہنچ گئے وہاں ہم نے ’’باب انبار‘‘ کا چکر لگایا اور ’’باب انبار‘‘ والی شاہراہ پر چلتے رہے اور ایک تنگ دروازے کے نزدیک پہنچے جس کے قریب ایک درخت اور ایک غلام بھی ساتھ ہی کھڑا تھا ۔ مجھے شدید پیاس نے بے چین کر دیا تھا۔

غلام سے کہا:’’تمہارے پاس کوئی برتن وغیرہ ہے تاکہ پانی پی لیں۔‘‘ کہنے لگا :’’ہاں ہے۔‘‘ پھر اُس نے ایک چھوٹا سا پیالہ نکالا جس میں صاف شفاف اور ذائقہ دار پانی تھا اور رومال سے ڈھکا ہوا تھا۔ وہ ہم نے پیا اور سیراب ہوگئے، عصر کی نماز کا وقت ہوا تو ہم مسجد میں چلے گئے، نماز سے جوں ہی فارغ ہوئے تو ایک نابینا کو دیکھا جو کچھ ٹٹول رہا تھا۔ میں نے اس سے پوچھا:’’بڑے میاں کیا ڈھونڈ رہے ہو؟‘‘کہنے لگا:’’آپ ہی کو ڈھونڈ رہا ہوں‘‘ میں نے کہا :’’خیر تو ہے ،کیا بات ہے ‘‘ وہ ہمارے پاس آ کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا:’’میں نے خوش بو سونگھ کر اندازہ لگایا کہ یہاں مال دار لوگ آئے ہوئے ہیں ۔اس لیے میں تمہارے پاس چلا آیا ،تاکہ تمہیں اپنی کچھ بات بتائوں ۔‘‘ میں نے کہا:’’ضرور بتائیے!‘‘کہنے لگا:یہ سامنے آپ محل دیکھ رہے ہیں؟ میں نے کہا:جی ہاں !

کہنے لگا ’’یہ میرے والد کا محل تھا وہ اسے فروخت کر کے خراسان چلے گئے میں بھی ان کے ساتھ تھا پھر ہمارے حالات بھی بتدریج بگڑتے ہی چلے گئے اور ایک ایک کر کے تمام نعمتیں ہم سے روٹھ گئیں اب میں یہاں واپس خراسان سے اس محل والے کے پاس چلا آیا ہوں ،کہ شاید یہ میری کچھ مدد کرے ،کیوں کہ ہم بہت سخت تنگی اور فقر و فاقوں میں مبتلا ہیں۔ اچانک مجھے خیال آیا کہ کیوں نا ’’سوّار ‘‘سے ملا جائے ،کیوں کہ وہ میرے والد کے دوست ہیں۔‘‘ میں نے کہا :تمہارے والد کون ہیں؟کہنے لگا :فلاں بن فلاں اور واقعی وہ میرے گہرے دوستوں میں سے تھا میں نے کہا :اللہ تعالیٰ خود ہی سوار کو تمہارے پاس لے آیا ہے ۔

یہی وجہ ہے جو نہ کھانے میں جی لگ رہا ہے نہ نیند میں اللہ تعالیٰ نے کھانے اور پینے سے طبیعت کو اچاٹ کروا کر کیسے تمہارے پاس پہنچا دیا اور تمہارے سامنے بٹھا دیا۔ میں نے وکیل سے دو ہزار درہم لئے اور اُسے دے دیے اور اُس سے کہا:کل تم دوبارہ میرے گھر پر آنا ۔وہاں سے میں واپس اپنے گھر آ گیا میرے جی میں آیا کہ خلیفہ مہدی کو سنانے کے لیے اس سے اچھا کوئی اور قصہ نہیں ہو سکتا ۔چناں چہ دربار میں حاضر ہوا اور اجازت ملنے پر خلیفہ کو پورا قصہ گوش گزار کیا تو خلیفہ بھی حیران ہوگیا دوہزار دینار مجھے دیے اورکہا:’’یہ اُس آدمی کو میری طرف سے دے دینا !‘‘وہ لے کر میں اٹھا اور جانے لگا تو خلیفہ نے واپس مجھے بلوایا اور مجھ سے کہا:’’کیا تم پر بھی کوئی قرض وغیرہ ہے؟‘‘میں نے کہا :جی ہاں !ہے کہنے لگا کتنا ہے؟میں نے کہا:پچاس ہزار دینار۔کہنے لگا وہ بھی لے لو !اور اس سے قرض چکا دو !میں نے وہ لیے اور گھر چلا آیا۔

دوسرے روز اس نابینا مفلوک الحال نے میرے پاس آنے میں دیر کر دی اور خلیفہ کا قاصد میرے پاس خلیفہ کا پیغام لے کرحاضر ہو گیا اور کہا :خلیفہ نے تمہیں یاد فرمایا ہے ۔ میں چلا گیا خلیفہ نے مجھ سے کہا :میں تمہارے مسئلے میں کل سے غور وفکر کر رہا تھا کہ پچاس ہزار دینار سے تو تمھارا قرض ادا ہوگا اس کے علاوہ کی بھی تو تمہیں ضرورت ہو گی نا!اس لیے میں مزید پچاس ہزار دینار کا تمہارے لیے اعلان کرتا ہوں۔ اس سے تم اپنے گھر یلو حالات کو درست کر لینا ۔ میں دوسرے پچاس ہزار دینار لے کر گھر چلا آیا اتنے میں وہ نابینا بھی پہنچ چکا تھا۔ میں نے اپنے جی میں کہا ۔ سوّار !اللہ تعالیٰ نے تجھے اس نابینا کی بدولت بے پناہ رزق عطا فرمایا ہے لہٰذا اس کا حق بھی زیادہ بنتا ہے ،چناںچہ میں نے اسے دوہزار دینار خلیفہ کی طرف سے اور دو ہزار دینار مزید اپنی طرف سے دیے۔ وہ خوش ہو گیا اور مجھے بے پناہ دعائیں دینے لگا اور پھر کہنے لگا:’’کہ میرا خیال تو یہ تھا کہ جس قدر آپ نے مجھے دیا ہے اُس کا دسواں حصہ بھی مجھے نہیں ملے گا ، بہر حال اللہ تعالیٰ آپ کو اس کا بہترین صلہ عطا فرمائے۔‘‘