آخر کب تک ہم ہی بیروزگار رہیں گے؟

پاکستان کا نوجوان ہاتھوں میں تعلیمی ڈگریاں کندھوں پر والدین کی خواہشات کا بوجھ اور آنکھوں میں سنہرے مستقبل کی امید سجائے اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کا متلاشی ہے مگر ملکی اشرافیہ اور حکمران طبقات ملک و قوم کے اس تابناک مستقبل کو بڑی بے رحمی سے مسلسل نظر انداز کرتے ہوئے انہیں ان کی صلاحیتوں سمیت ضاع کرنے پر مامور ہیں، یہ بھی ایک تلخ حقیقت ہے کہ ماسوائے چند حکمرانوں کے باقی تمام حکمران برادری نے ابھی تک ملک و قوم کے لیے پے در پے مسائل ہی پیدا کئے ہیں، ملکی سیاسی جماعتیں، ان کے سربراہان و رہنماؤں نے اور ملکی نظم و نسق چلانے والے بیشتر اداروں کے ذمہ داران نے مخصوص طبقے کو مراعات یافتہ بنانے اور وسائل کی تقسیم میں شامل رکھنے میں کوئی کسر باقی نہیں چھوڑی ۔ حکومتیں چاہیں وفاق کی ہوں یا صوبوں کی سبھی صرف عوام کی مشکلات میں اضافہ کرنے اور آئے روز لوگوں پر مہنگائی، بیروزگاری اور مختلف قسم کے ٹیکسوں کا بوجھ لادنے کے سوا کوئی کام نہیں کر رہی ہیں، عام آدمی کو اس وقت کسمپرسی، بے بسی اور لاچاری کی قابل رحم تصویر بنا دیا گیا ہے۔
ملک خداداد اسلامی جمہوریہ پاکستان کا شمار اسوقت بھی دنیا کے ترقی پذیر اور پسماندہ ترین ممالک میں ہوتا ہے حالانکہ ملک پاکستان کی تمام حکمران سیاسی جماعتوں کا گزشتہ ستر سال سے ایک مشترک نعرہ رہا ہے کہ وہ حکومت سنبھالتے ہی ملک میں سے بیروزگاری کے خاتمے کے لیے ترجیحی بنیادوں پر اقدامات کریں گی، غربت کا خاتمہ کیا جائے گا، انھیں یہ امید ہوتی ہے کہ انکے لیڈرز ان انتخابات سے قبل ان سے کیے گے وعدوں کو حکومت سنبھالتے ہی پہلی فرصت میں پورا کریں گے لیکن وہ یہ ہر بار بھول جاتے ہیں کہ ان کے یہ سیاسی رہنما و قائدین انتخابات کے بعد حکومت سازی کا عمل مکمل ہوتے ہی اپنے متعدد وعدے بالکل ایسے ہی بھول جاتے ہیں جیسے کو بھوکا شخص روٹی کھانے کے بعد بھوک کی تڑپ اور شدت کو نظر انداز کرتا ہے۔
پاکستان دنیا کا شاید وہ واحد ملک ہو گا کہ جہاں قدرت نے بہترین زرخیز زمین کے ساتھ ساتھ بہترین موسم درخت پہاڑ جنگل پانی کے وسیع ذخار کے ساتھ ساتھ محنتی لاق اور ذہین لوگ بھی پیدا کیئے مگر پاکستان کا نظام چلانے والے ان تمام قدرتی وسال سے فیض یاب ہونے سے قاصر ہی رہتے ہیں دوسری طرف اگر آپ جاپان کو دیکھیں تو جاپان کا شمار دنیا کی مضبوط ترین معیشت رکھنے والے ممالک میں شمار کیا جاتا ہے اور2014کی ایک تجزیاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق جاپان میں نوجوانوں کی تعداد بوڑھے افراد کے مقابلے میں کم ہے اور جاپانی بہت سارے دفتری اور گھریلو امور میں روبوٹ مشینوں کی مدد حاصل کرتے ہیں لیکن پاکستان میں نوجوانوں کی تعداد بھی زیادہ ہے اور نوجوان ذہانت محنت لگن جستجو اور پاکستان کے بہتر مستقبل کے لیئے بڑھ چڑھ کر کام کرنے کا جذبہ و جنون بھی رکھتے ہیں مگر حکمران چاہے کو بھی ہو وہ پاکستانی نوجوانوں کی صلاحیتوں سے فادہ حاصل کرنے میں ابھی تک ناکام ہی رہے ہیں۔
حکمران اور اشرافیہ طبقات کیلئے یہ بھی لمحہ فکریہ ہے کہ پاکستانی نوجوان جسے قدرت نے بیش بہا صلاحیتوں سے نوازا ہے، اب بیروزگاری اور غربت سے دل برداشتہ ہوکر اکثر اوقات خود کشی جیسے سنگین اور کرب ناک اقدام کرنے پر بھی مجبور ہے، اکثر نوجوان طلبا و طالبات صرف اس لیے بھی اپنی تعلیم مکمل نہیں پاتے کیونکہ انکے والدین یا گھر والے ان کے تعلیمی اخراجات ادا کرنے کی طاقت نہیں رکھتے اور ان طلباء وطالبات کو ان کے والدین کے ساتھ گھریلو معاشی حالات سدھارنے میں مدد کرنے کے لیے کو نہ کو ملازمت اختیار کرنا پڑتی ہے اور جب انہی طلباء کے گھروں میں ان کے خاندانوں برادریوں میں جب دیگر نوجوان ان کا حال دیکھتے ہیں تو وہ بھی تعلیم حاصل کرنے سے متنفر ہونے لگتے ہیں۔
تاریخ ہمیشہ ایسے حکمرانوں کو سنہرے الفاظ میں یاد رکھتی ہے جو اپنے ملک اور اپنے لوگوں کے لیے ایسے گرانقدر کارہائے نمایاں سرانجام دے کر جاتے ہیں جن کی بدولت ان کے ملک اور ان کے عوام خوشحال زندگی گزارتے ہیں ویسے بھی یہی دیکھا گیا ہے کہ دنیا میں وہ ممالک ترقی اور خوشحالی کی منازل کو چھو رہے ہیں جو اپنے عوام کو زیادہ سے زیادہ سہولیات دینے میں کامیاب ہیں، پاکستان کی اشرافیہ اور حکمران طبقہ کو یہ بات اچھی طرح ذہن نشین کر کے اس پر عمل پیرا ہونا پڑے گا کہ معاشی و اقتصادی بحرانوں اور تنزلیوں کے خاتمے کے لیے ملک میں سے غربت بیروزگاری اقرباء پروری ذاتی پسند و ناپسند کا خاتمہ کرتے ہوئے ایسے اقدامات کرنا ہوں گے جس سے ملک سیاسی استحکام کی جانب گامزن ہو کیونکہ سیاسی استحکام کے بغیر آپ نہ تو معاشی بدحالی کا خاتمہ کرنے میں کامیاب ہو سکتے ہیں اور نہ ہی غربت اور بیروزگاری جیسے اہم قومی مسئلے کو حل کر سکتے ہیں، آج پاکستانی نوجوان ہاتھوں میں تعلیمی ڈگریاں اپنے کندھوں پر ان کے والدین کی ان سے منسوب خواہشات اور سنہرے مستقبل کی امید اپنی آنکھوں میں لیے اپنی صلاحیتوں کے مطابق روزگار کے مواقع تلاش کرنے میں سرگرداں ہے مگر برس ہا برس سے تخت نشین اشرافیہ اور حکمران طبقہ ان باصلاحیت نوجوانوں کو مسلسل نظر انداز کر رہا ہے، اسی لیے راقم یہ پوچھنے پر بھی حق بجانب ہے کہ آخر ہم ہی کب تک بیروزگار رہیں گے؟

مزید دیکھیں :   جشن آزادی اور ہمارے رویے