امریکہ کی بڑی کارروائی

القاعدہ میں اسامہ بن لادن کے بعد سب سے سرکردہ رہنما ایمن الظواہری کو حملے میں نشانہ بنانا القاعدہ قیادت کے خلاف امریکہ کی ایک اوربڑی کارروائی ہے اور عسکریت پسند تنظیم کے لیے سب سے بڑا دھچکا ہے۔برطانوی خبر رساں ادارے رائٹرزکی رپورٹ کے مطابق ایمن الظواہری اتوار کی صبح 6 بج کر 18 منٹ پر افغانستان کے دارالحکومت کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے۔انہوں نے11ستمبر 2001کے حملوں کو منظم کرنے میں مدد کی جس میں تقریباً 3ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔حالیہ برسوں میں متعدد بار القاعدہ رہنما کی موت کی افواہیں سامنے آئیں اور طویل عرصے سے ان کی صحت کی خرابی کی اطلاعات تھیں۔ایک بیان میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے حملے کی تصدیق کی ایمن الظواہری کا جسد خاکی بھی اسامہ بن لادن کی جسد خاکی کی طرح پراسرار انداز میںسامنے نہیں آئے گا یا پھر اسے سامنے لا کراس کے موت کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا ہونے نہیں دیا جائے گا اس حوالے سے ابھی بہت کچھ سامنے آنا باقی ہے البتہ ان کے جاں بحق ہونے کے تیسرے دن تک اس حوالے سے نہ تو طالبان حکومت نے کوئی بیان جاری کیا ہے اور امریکہ بھی اس حوالے سے خاموش ہے۔اگرچہ اس بات کی ابھی تصدیق نہیں ہو سکی کہ ان پر ڈرون حملہ کہاں سے کیاگیا لیکن خیال ہے اس کے لئے پاکستان کی سرزمین. استعمال نہیں ہوئی ہوگی البتہ پاکستان کی فضا سے ڈرون گزرا یا نہیں اس حوالے سے ابھی تک کوئی بات سامنے نہیں آسکی ان تمام عوامل سے قطع نظر ایمن الظواہری کے نشاہ بنائے جانے کے بعد امریکہ کوچیلنج کرنے والی ایک اور بڑی شخصیت دنیا میں نہیں رہا یہ امریکہ کی کامیابی ضرور ہے اگر کوئی اور ان کی جگہ نہ سنبھالے اور امریکہ کے لئے چیلنج بن کر سامنے نہ آئے۔

مزید دیکھیں :   مشرقیات