الیکشن کمیشن کافیصلہ

الیکشن کمیشن آف نے بالاخرپاکستان آٹھ سال بعد ایک ایسے وقت میں پی ٹی آئی کی مبینہ ممنوعہ فنڈنگ کیس کا فیصلہ سنا دیا ہے جب تحریک انصاف کی اکثریت رکھنے والی دو صوبائی اسمبلیاں الیکشن کمیشن سے مستعفی ہونے کے مطالبے پر مبنی قراردادیں پاس کر چکی ہیں۔واضح رہے کہ پی ٹی آئی کے بانی رکن اکبر ایس بابر نے پی ٹی آئی کی مبینہ غیر ملکی فنڈنگ کیس14 نومبر2014کو الیکشن کمیشن میں دائر کیا تھا۔تحریک انصاف نے اس معاملے پر تاخیری حربوں سے اس معاملے کی سنگینی کا اظہار ہوتا رہا ہے جبکہ اس حوالے سے ثبوت ودستاویزات کوئی انکشاف نہیں حال ہی میں برطانوی اخبار میں پوری تفصیل شائع ہوئی تھی جس کے رپورٹر کا دعویٰ تھا کہ ان کے پاس الیکشن کمیشن سے زیادہ مواد موجود ہے ممکن ہے تحریک انصاف ان کے بیان اور تحریر کو برطانیہ کی عدالت میں چیلنج کرنے کا فیصلہ کرکے جھوٹا ثابت کرے ۔لیکشن ایکٹ کے آرٹیکل کے مطابق وفاقی حکومت جہاں قرار دیتی ہے کہ کوئی بھی سیاسی جماعت پاکستان کی خودمختاری یا سا لمیت یا امن عامہ کے برخلاف انداز میں تشکیل دی گئی ہے یا چل رہی ہے تو وفاقی حکومت ایسے ڈکلیریشن کے 15 دن کے اندر معاملہ سپریم کورٹ بھیجی گی اور عدالت عظمی کا ایسے ریفرنس پر فیصلہ حتمی ہوگا۔اس حوالے سے ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم اور مسلم لیگ(ن)کے رہنما شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے فیصلے میں یہ ثابت ہوگیا کہ دوسروں کو چور کہنے والا عمران خان اس ملک کا سب سے بڑا چور اور سب سے بڑی چور جماعت پی ٹی آئی ہے۔انہوں نے کہا کہ کیا آج کے فیصلے کے بعد عمران خان کو صادق اور امین کہا جا سکتا ہے جو جھوٹے فارم ون اور جھوٹے بیان حلفی جمع کرواتا رہا، یہ میں نہیں الیکشن کمیشن کہہ رہا ہے۔دوسری جانب سابق وفاقی وزیر اور عوامی مسلم لیگ کے سربراہ شیخ رشید نے کہا ہے کہ ممنوعہ فنڈنگ کے فیصلے کو عدالت پہلی ہی سماعت میں اڑا کر رکھ دے گی۔فیصلہ آنے کے بعد پی ٹی آئی کے رہنما فواد چوہدری نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔جن16اکائونٹس کو غیرقانونی قرار دیا گیا ہے، ان کو بھی قانونی ثابت کریں گے۔فواد چوہدری کے مطابق ہم شروع سے کہہ رہے تھے کہ یہ فارن نہیں ممنوعہ فنڈنگ کا کیس ہے، جس کو تسلیم کر لیا گیا کہ فارن فنڈنگ نہیں تھی۔انہوں نے غیرقانونی قرار دیئے جانے والے16کیسز کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں عمران خان نے اس لئے ڈیکلیئر نہیں کیا تھا کیونکہ وہ انہوں نے نہیں کھولے تھے اور ان کا عمران خان کے ساتھ براہ راست تعلق نہیں تھا۔اس موقع پر فرخ
حبیب کا کہنا تھا کہ آج پی ڈی ایم کے لئے مایوسی کا دن ہے۔ جو کہتے تھے کہ پی ٹی آئی پر پابندی لگ جائے گی اور انتخابی نشان واپس لے لیا جائے گا۔آٹھ سال کے طویل انتظار کے بعدالیکشن کمیشن کا فیصلہ بالاخر سامنے آگیا ہے تحریک انصاف نے نہ صرف اس کیس کو الجھائے رکھنے کی پوری کوشش کی بلکہ چیف الیکشن کمشنر کو ہر طرح سے دبائو میں لانے کی بھی کوشش کی گئی جس سے قطع نظر اب بال وفاقی حکومت کے کورٹ میں آگئی ہے جو حکومت کے لئے بھی امتحان سے کم نہیں دیکھنا یہ ہو گا کہ وفاقی حکومت اس ضمن میںاپنی ذمہ داریوںسے کس طرح اور کس حدتک عہدہ برآ ہوتی ہے ۔ اس فیصلے کے حوالے سے بعض مبصرین کے جو براہ راست اندازے تھے وہ تو پورے نہیں ہوئے لیکن وہ جس جانب اشارہ کرتے رہے ہیں اس سے ایک باب تو بہرحال کھل گیا ہے اور یہ وقت تحریک انصاف اوراس کی قیادت کے لئے بہرحال مشکل وقت ہے سابق وفاقی وزیر شیخ رشید اور تحریک انصاف کے ترجمانوں کو فیصلے کے مرضی کی نکات سامنے لانے کا حق حاصل ہے لیکن جب معاملات عدالت میں پیش ہوں گے تواس وقت آئین اور قانون کے مطابق حتمی فیصلہ کیا ہو گا وہ یقینا اہمیت کا حامل اور مرکزی نکتہ اور اختتامی باب ہو گا اس مقدمے کے حالات و واقعات سابق وزیراعظم نواز شریف پرمقدمات سے پوری طرح تو مماثل نہیں اتنی مماثلت ضرور ہے کہ فیصلے سے قبل ایک غیر ملکی اخبار میں اس کی تفصیلات آئیں نواز شریف کے حوالے سے تو پانامہ پیپرز میں براہ راست کوئی الزام نہیں تھا جبکہ یہاں معاملہ سراسر برعکس اور سنگین ہے بہرحال یہ اہم نہیں اہمیت رکھنے والی مماثلت یہ ہے کہ انہیں بھی عدالتوں میں گھسیٹا گیا اور اب سابق وزیر اعظم کے خلاف ایک آئینی ادارے کی آٹھ سال کی عرق ریزی اور وکلاء کی بحث مباحثہ اور تسلیم شدہ دستاویزی ثبوتوں کو مد نظر رکھ کر کیس کا فیصلہ سامنے آیا ہے اور معاملے کی حتمی منزل سپریم کورٹ کی عمارت ہے جس کے مکینوں کے حوالے سے فضاپہلے ہی مکدر سی بنا دی گئی ہے اور کچھ اندرونی معاملات بھی زیر بحث ہیںجو مجموعی ماحول پر اثرانداز ہوسکتے ہیں بہرحال اس جملہ معترضہ سے قطع نظردوران انتخابات انہی الزامات پر سپریم کورٹ پہلے ہی کہہ چکی ہے کہ اس کا انحصار الیکشن کمیشن کی تحقیقات اور فیصلے پر ہو گا الیکشن کمیشن کے فیصلے کاایک اجمالی جائزہ لیاجائے تو (F)(1) 62 کے تحت گویا فرد جرم عاید ہو چکی ہے بہرحال یہ ایک رائے ہی ہو سکتی ہے اصل بات قانونی ماہرین اور دفاعی وکلاء کے نکات اور دلائل کے بعد ہی عدالت عظمیٰ واضح کرے گی۔ بیان حلفی یا عدالت میں بیان جو تھے وہ درست تھے یا حقائق کے برعکس قوانین کی خلاف ورزی کس حد تک ہوئی اوراس خلاف ورزی کے نتائج اور اس کا قانونی پہلوکیا ہیں اس حوالے سے بھی بالاخر سپریم کورٹ ہی رجوع کا موزوں فورم ہے ۔ جاری صورتحال میں یہ بات بہرحال مسلمہ حقیقت ہے کہ تحریک انصاف اور اس کی قیادت کاامتحان شروع ہو چکا ہے اور یہ عمران خان کے لئے قانونی چیلنج کا آغاز ہے ممنوعہ فنڈنگ کاالیکشن کمیشن کا فیصلہ اختتام نہیںبلکہ ابھی اس کا دوسرا مرحلہ شروع ہونا ہے البتہ اس سارے عمل میں پارٹی فنڈنگ کے حوالے سے غلط بیانی وہ اہم نکتہ ہے جو عمران خان کے صادق اور امین ہونے کے عدالتی سند کو بھی برعکس ثابت کر سکتا ہے جبکہ ممنوعہ یا فارن فنڈنگ پر جوبھی قانونی اور عدالتی کارروائی ہونی ہے وہ بھی کوئی کم چیلنج نہیں ا لبتہ عوامی مقبولیت اور کارکنوں میں پارٹی قائد کے امیج کو زیادہ دھچکا لگتا نظر نہیں آتاتاہم اس سارے عمل کا دفاع بہرحال تقریباً ناممکن نظر آتا ہے جو الیکشن کمیشن کے فیصلے کا حوالہ دے کر شروع ہو چکا ہے ۔ امریکی برطانوی اور بھارتی کمپنیوں سے مبینہ فنڈنگ کا دفاع آسان کام نہیں اور یہ وہ نکتہ ہے جوملکی اداروں کے لئے بھی تشویش کا باعث اور ہضم نہ ہونے والا معاملہ ہوگا۔اس فیصلے کے قانونی اور عدالتی حکومتی فیصلوں اور اقدامات سے قطع نظر ملکی اور عوامی سطح پربھی یہ بڑا چیلنج ہے البتہ ممکنہ رد عمل پرقانون کے نفاذ اور احتجاج کے ضمن میں دلچسپ صورتحال یہ ہے کہ پنجاب اور خیبر پختونخوا میں امن عامہ برقرار رکھنے کی ذمہ داری خود تحریک انصاف کی حکومتوں کی ہے بلوچستان میں ملی جلی کیفیت اور سیلاب کی تباہ کاریوں کے باعث ماحول ویسے بھی سوگوار ہے جبکہ سندھ میں تحریک انصاف کے لئے میدان گرم کرنا دشوار امر ہو گااسلام آباد میں الیکشن کمیشن کے سامنے احتجاج کے پروگرام کی کامیابی و ناکامی سے مرکزی حکومت وزیر داخلہ اور خود تحریک انصاف کی قیادت کی حکمت عملی اور احتجاج کرنے میں کامیابی و ناکامی صورتحال پر اثر انداز ہو گی حکومت کے خاتمے کے بعد عمران خان کی احتجاج کی کال بہرحال ایک ناکام کوشش ثابت ہوئی تھی اس مرتبہ اس سے زیادہ مشکل صورتحال کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن اس وقت کی طرح عدالت سے ریلیف البتہ یقینی نہیں اس تمام صورتحال میں تحریک انصاف کی قیادت اور حکومت دونوں کے لئے بہتر اور موزوں راستہ یہی ہو گا کہ متاثرہ جماعت احتجاج میں ایک خاص حد سے آگے نہ بڑھے توڑ پھوڑ اور گھیرائو جلائو خدانخواستہ جانی نقصان کی نوبت نہ آئے دی جائے اور معاملات کو قانون اور عدالتوں پر چھوڑ دیا جائے وہاں سے جو بھی فیصلہ آئے اسے خوشدلی سے قبول کیا جائے فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگتا ہے اس دوران صبر کا دامن ہاتھ سے نہ جانے دیا جائے جوملک و قوم اور خود تحریک انصاف سمیت حکومت اور تمام فریقوں کے مفاد میں ہے ۔ سیاسی جماعتیں آزمائش کی بھٹی سے کندن بن کر نکلتی ہیں تحریک انصاف کو بھی اپنی حکمت عملی دبائو اور احتجاج پر مرکوز کرنے کی بجائے قانونی اور عدالتی جنگ میں سرخرو ہونے پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔