پاکستان کی فوجی سفارتکاری اور مشرق وسطیٰ

پاکستان نے اپنے قیام کے بعد سے ہی دوسرے مسلمان ممالک خصوصا ً مشرق وسطی کے ملکوں کے ساتھ مضبوط کثیر الجہتی تعلقات استوار کئے ہیں، اس حوالے سے کوششوں میں پاک فوج نے پہلے بھی نمایاں کردار ادا کیا اور اب بھی یہ کردار جاری رکھے ہوئے ہے۔ سعودی عرب اور پاکستان کے درمیان باہمی اعتماد کی سطح اس حقیقت سے ظاہر ہوتی ہے کہ وہاں پاکستان کی برسوں سے ایک جامع ملٹری بریگیڈ موجود ہے جس کا خصوصی مشن تربیت اور مشاورت ہے۔ اس سے پہلے بھی پاک فوج نے سعودی عر ب میں ایک اہم کردار ادا کیا تھا جب اس کی سپیشل فورسز کو ایسے عناصر کو کچلنے کی ذمہ داری سونپی گئی تھی جنہوں نے 1979ء میں مسجد الحرام پر قبضہ کر لیا تھا۔ پاک فوج نے ایران اور عراق کی جنگ کے دوران بھی سعودی عرب کو سکیورٹی فراہم کی جب کہا جا رہا تھا کہ یہ جنگ سعودی عرب کو بھی لپیٹ میں لے سکتی ہے، پاکستان کے اعلیٰ فوجی افسران کو سعودی عرب اور مشرق وسطیٰ کے دیگر ممالک میں عارضی تعیناتی پر بھیجا جاتا ہے، پاکستان کے سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے سعودی قیادت میں بننے والے فوجی اتحاد کا سربراہ بنایا گیا ہے اور وہ اب بھی سعودی عرب میں یہ خدمات انجام دے رہے ہیں۔
1970ء اور 1980 ء کی دہائیوں کے دوران خلیج فارس میں تیل کی کھپت اور قیمتوں میں اضافے سے مشرق وسطیٰ کے ممالک کی اہمیت بڑھ گئی، تیل ہی تیز تر اقتصادی ترقی کا محور تھا چنانچہ اس نے خطے کی زمینی جغرافیائی تذویراتی اہمیت کو بڑھا دیا، اس عرصے میں اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے کئی خلیجی ریاستوں نے اپنی عسکری صلاحیتوں کی تشکیل میں تعاون کیلئے پاکستان کا رخ کیا، چنانچہ پاک فضائیہ، فوج اور بحریہ کے متعدد اہلکاروںکو سعودی عرب میں تعینات کیا گیا جس کا بنیادی مقصد مقامی سکیورٹی فورسز کو تربیت اور تکنیکی مدد فراہم کرنا تھا۔اسی طرح سعودی عرب پاکستان کا ایک انتہائی قابل اعتماد اور قریبی اتحادی رہا ہے اور وہ معاشی اور سٹریٹجک شعبوں میں خاص طور پر مشکل وقت میں پاکستان کی مدد کرنے کا ایک بڑا ذریعہ ثابت ہوا۔
پاک فضائیہ نے مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کے ہوا بازوں(پائلٹوں)کو تربیت دینے کے حوالے سے اپنی خدمات فراہم کیں۔ اسی طرح پاکستان نیوی اور رائل سعودی نیوی ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرتی ہیں اور ایک دوسرے کے تجربات سے استفادہ کے لیے متعدد بار مشترکہ مشقیں کر چکی ہیں۔ ماضی میں پاک بحریہ نے رائل سعودی نیوی کو تربیت فراہم کی، ابتداء سے ہی سعودی عرب پاکستان کا سب سے قریبی دفاعی شراکت دار رہا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان وسیع تر فوجی اور انٹیلی جنس تعاون قائم ہے۔
پاکستان کی برادر مسلم ممالک کے ساتھ مشترکہ فوجی مشقیں اکثر ہوتی رہتی ہیں،جن سے باہمی افہام و تفہیم اور فوجی صلاحیتوں میں اضافہ ہوتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے متعدد ممالک سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین، قطر اور دیگر ممالک کی افواج کے ساتھ پاکستان کا قریبی تعاون باہمی مفاد پر مبنی ہے، تیل کی طلب میں اضافے نے بلاشبہ خطے کی تزویراتی اہمیت کو تو بڑھایا لیکن ساتھ ہی ساتھ ان کے خطرات میں بھی اضافہ کر دیا تھا چنانچہ ان ممالک کو اپنے دفاع کو مضبوط کرنا تھا اور پاکستان نے اس میں کردار ادا کیا، ان میں سے بیشتر ممالک کے ساتھ پاکستان کے دفاعی تعاون کے دوطرفہ معاہدے ہیں، بٹالین، بریگیڈ اور ڈویژن کی سطح تک پاکستانی فوجی یونٹوں نے مشرق وسطیٰ کے کئی ممالک میں خدمات انجام دی ہیں اور اب بھی انجام دے رہی ہیں، اس کے سعودی عرب، اردن، متحدہ عرب امارات، عمان اور چند دیگر کے ساتھ دفاعی معاہدے ہیں۔
پاکستان اور کویت کے درمیان دفاعی تعاون 60 ء کی دہائی کے اواخر سے قائم ہے، پاکستان کی تینوں مسلح افواج کے افسران کویتی افواج کو تربیت دیتے رہے ہیں اور خلیجی جنگ کے دوران تکنیکی اور مشاورتی کردار ادا کرتے رہے ہیں، پاک فوج کا ایک چھوٹا دستہ قطر میں بھی تعینات ہے، مشرق وسطیٰ کے ممالک کی مسلح افواج کے ارکان پاکستان سٹاف کالج، نیشنل ڈیفنس یونیورسٹی اور انفنٹری سکول جیسے فوجی تربیتی اداروں میں پیشہ ورانہ کورسز میں شرکت کرتے ہیں۔
پاک بحریہ بحرین میں قائم اس مشترکہ ٹاسک فورس کی بھی فعال رکن ہے، جس میں زیادہ ترمغربی یورپی ممالک کی بحری افواج شامل ہیں اور اس بحری بیڑے کا بنیادی مقصد افریقہ میں دہشت گردی میں ملوث میری ٹائم شپنگ کو روکنا ہے، پاک فوج کے باہمی مفادات پر مبنی مضبوط تعلقات نے مسلم ممالک بالخصوص مشرق وسطیٰ کے ساتھ وسیع تر اور کثیر جہتی تعلقات کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا ہے، تاہم ان تعلقات کے مستقبل کا انحصار حکومت پاکستان کے سیاسی استحکام اور عالمی برادری میں اس کے تشخص پر ہو گا۔
(بشکریہ، عرب نیوز، ترجمہ: راشد عباسی)