ہم شام کے منظر میں سحر ڈھونڈ رہے ہیں

شدید سردی اور بارش میں بلی کو نہلانے والا وہ شخص یاد آگیا ‘ جسے وہاں سے گزرتے ہوئے ایک سیانے نے خبردار کیا کہ بلی مر جائے گی ‘ مگر سادہ لوح شخص نے سیانے کی وارننگ نظر انداز کرتے ہوئے اپنا کام جاری رکھا ‘ راہ گزر جب کچھ دیر بعد وہاں سے واپسی کر رہا تھا تو اس نے دیکھا کہ بلی مری پڑی ہے اس نے کہا میں نے آپ کو منع کیا تھا مگر آپ نے کوئی توجہ نہیں دی بلی نہلانے والے نے کہا ‘ یہ نہلانے سے نہیں ‘ نچوڑنے سے مر گئی ہے ‘ لطیفہ یاد آنے کا کارن سوشل میڈیا پر وہ بیانیہ ہے جو گزشتہ روز غیر ملکی ممنوعہ فنڈنگ کے حوالے سے الیکشن کمیشن کے فیصلے کے بعد تحریک انصاف کے حلقوں کی جانب سے اختیار کیا گیا ہے کہ پارٹی پر ممنوعہ فنڈنگ حاصل کرنے کے ثبوت دیئے گئے ہیں غیر ملکی فنڈنگ کا الزام نہیں لگایا گیا گویا سبحان اللہ کیا منطق ہے ‘ بلکہ یہ تو ایک اور لطیفے والی صورتحال ہو گئی کہ تیر تو جان لیوا ثابت ہوا لیکن شکر ہے تیر ماتھے پر لگا ‘ آنکھ تو بچ گئی’ حالانکہ یہاں تو آنکھ بچ جانے والی کوئی بات بھی دکھائی نہیں دیتی۔ بہرحال اتنا تو ہے کہ بلی کے مرنے کا اعتراف تو کیا گیا خواہ نہلانے سے تھا یہ پھر نچوڑنے سے ‘ جبکہ یہاں تو ممنوعہ اور غیر ملکی کے درمیان معاملہ لٹکا ہوا دکھائی دینے کے باوجود اب تازہ بیانیہ سامنے آیا ہے کہ یہ سب غلط ہے تسلیم نہیں کرتے بلکہ مسترد کرتے ہیں اور دو تین روز میں اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کریں گے یعنی ”مردے” کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں ”پوسٹ مارٹم” کے ٹیبل پر لٹا کر اس بات کا تعین کیا جائے گا کہ ”مردہ واقعی مردہ ہے یا ابھی اس میں زندگی کی کوئی رمق باقی ہے”ادھر حکومت نے تحریک انصاف پر پابندی سمیت تین آپشنز پر غور شروع کر دیا ہے کیونکہ قانونی حلقوں کے مطابق الیکشن کمیشن پارٹی رجسٹریشن منسوخ کر سکتا ہے ‘ پارٹی تحلیل نہیں کر سکتا ‘ جبکہ تحریک کے رہنمائوں کی جانب سے جو بیانات سامنے آرہے ہیں ان میں ایک صوبائی مشیر کا بیان بڑا معنی خیز یا مضحکہ خیز اس لئے ہے کہ اس سارے معاملے سے بقول ان کے ”امپورٹیڈ حکومت” کا کوئی لینا دینا سرے سے ہے ہی نہیں اور یہ معاملہ خود تحریک کے ایک بانی رکن اکبر ایس بابر نے الیکشن کمیشن کے سامنے لگ بھگ آٹھ سال پہلے رکھا تھا جسے حیلوں بہانوں سے ٹرخاتے ہوئے تحریک والوں نے تکمیل تک پہنچنے کی راہیں کھوٹی کرنے کی بھر پور کوششیں کیں ‘ اور جس مشیر نے اسے بقول ان کے ”امپورٹیڈ حکومت” کے کھاتے میں ڈال کر دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کی کوشش کی ہے خود وہ اس دوران میں لڑھکن کبوتر کی طرح قلابازیاں کھاتے ہوئے جنرل مشرف کے دور سے کئی پارٹیاں تبدیل کر چکے ہیں ‘ یہاں کہ انگلستان میں ”الطاف بھائی” کی پارٹی کے حصے کے طور پر عدالتوں میں ان کے حق میں پیشیاں بھگتنے کے دوران الطاف بھائی کو ”سہارا” دیتے ہوئے بھی دیکھے گئے تھے ‘ گویا بقول شاعر
اک عمر اجالوں کے تعاقب میں گنوا کر
ہم شام کے منظر میں سحر ڈھونڈ رہے ہیں
اب آگے کیا ہوگا؟ یعنی کہانی اپنی الجھی ہے کہ الجھائی گئی ہے ‘ ہمیں تو بس اتنا یاد ہے کہ پاکستان میں تادم تحریر ایک ہی جماعت پر پابندی لگی تھی ‘ نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کے نام سے موسوم جس کی قیادت اس دوریعنی بھٹو حکومت کے دوران قومی اسمبلی میں قائد حزب ا ختلاف خان عبدالولی خان کر رہے تھے ‘ اور ولی خان اور دیگر اپوزیشن رہنمائوں کے بھٹو کی فاشسٹ حکومت کے خلاف سخت بیانات نے بھٹو کو پریشان کر رکھا تھا اس صورتحال سے چھٹکارا پانے کا واحد حل نیپ پر بھارت سے فنڈز لینے کے الزامات لگا کر نہ صرف اس جماعت کو کالعدم قرار دیاگیا ‘ ٹریبونل کو حیدر آباد ٹریبونل کا نام اس لئے دیا گیا تھا کہ یہ مقدمہ حیدر آباد جیل کے اندر چلایا جارہا تھا اور استغاثہ کی جانب سے گواہوں کی ایک طویل فہرست دیکھ کر ولی خان نے جج سے یہ تاریخ الفاظ کہے تھے ”جناب گواہان کی اتنی بڑی تعداد اور ان کے بیانات جبکہ بعد میں ان پر جرح مکمل ہونے میں تو اتنی مدت لگے گی کہ آپ اور مجھے تین بار مرکر دوبارہ زندہ ہونا پڑے گا”۔ اور وہ جو کہتے ہیں کہ تدبیر کند بندہ ‘ تقدیر زند خندہ ‘ یعنی ظلم و جبر اپنے پنجے کس طرح گاڑتی ہے وہ ایک طرف مگر مقدر کونسی راہ اختیار کرتی ہے بھٹو کی حکومت کا تختہ الٹا کر جنرل ضیاء الحق نے حیدر آباد ٹریبونل کو جس طرح تاریخ کے کوڑے دان میں پھینک دیا تھا وہ بھی ہماری سیاسی تاریخ کا ایک اہم باب ہے ۔
یہ وقت کس کی رعونت پہ خاک ڈال گیا
یہ کون بول رہا تھا خدا کے لہجے میں
پرانی کہانی میں نئے کردار شامل ہو چکے ہیں ‘ تب کی سیاسی جماعت نیپ یعنی نیشنل عوامی پارٹی پرپابندی لگائی گئی تو اس کے بطن سے کئی جماعتوں نے جنم لیا ‘ غوث بخش بزنجو ‘ عطاء اللہ مینگل اور دیگر نے اپنی پارٹیاں بنائیں ادھر شیربازخان مزاری اور بیگم ولی خان نے پہلے این ڈی پی کی بنیاد رکھی ‘ اور حقیقت تو یہ ہے کہ حیدر آباد ٹریبونل کے خلاف جتنی قابل قدر جدوجہد این ڈی پی نے کی اتنی کسی اور کے حصے میں نہیں آئی تاہم جب ضیاء الحق نے حیدر آباد ٹریبونل کو ختم کرکے گرفتار رہنمائوں کو رہائی دلائی تو اس کے بعد نیپ کے اندر سے اے این پی یعنی عوامی نیشنل پارٹی برآمد کرکے سابقہ نیپ والوں نے سیاسی سرگرمیاں شروع کر دیں ۔ اب تحریک انصاف پر ممکنہ پابندی لگانے ‘ اس کے انتخابی نشان کو منسوخ کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں اگرچہ کچھ حلقے یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ عمران خان کو نااہل کرنے کی باتوں میں کوئی وزن نہیں ہے ‘ ماضی میں نیپ کا مقدمہ بھی (غالباً سترہ رکنی) فل بنچ نے سنا تھا اور اگر اب بھی ایسا ہوا تو حالات کیا رخ اختیار کر سکتے ہیں یقین سے کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا اس کے باوجود بھی اگر عمران خان کو”نااہلی” کی تلوار کوئی گزند نہیں پہنچا سکے گی تو پھر میاں نواز شریف اور جہانگیر ترین کے خلاف تاحیات نااہلی کے فیصلے بھی ریورس ہوں گے ۔ بہرحال دیکھنا یہ ہے کہ تحریک انصاف کا وجود برقرار رہتا ہے بلے کا انتخابی نشان بھی اپنی جگہ موجود رہتا ہے یا پھر نام تبدیل ‘ انتخابی نشان بقول کچھ تجزیہ کاروں کے وکٹ یا بال کی شکل اختیار کرتا ہے ‘ اس کے لئے بقول مرزا غالب
نفس بہ انجمن آرزو سے باہر کھینچ
اگر شراب نہیں انتظار ساغرکھینچ

مزید دیکھیں :   ملعون سلمان رشدی کا عبرتناک انجام