جہیز

کہتے ہیں کہ میر تقی میر نے اپنا گھر بیچ کر کے اپنی اکلوتی بیٹی کو جہیز دیا تھا۔شادی کے بعد بیٹی کو کسی نے کہا تیرے باپ نے اپنا گھر اجاڑ کر تیرا گھر بسا دیا، بیٹی بہت حساس تھی یہ سن کر وہ بیمار پڑ گئی اور اسی غم میں گھل گھل کر کچھ ہی دنوں میں انتقال کر گئی۔میر تقی میر بیٹی کا آخری دیدار کرنے گئے کفن اٹھا کر بیٹی کو دیکھا اور کیسا غضب کا شعر کہاجو ان کی زندگی کا آخری شعر کہا جاتا ہے
اب آیا ہے خیال اے آرام جان اس نامرادی میں
کفن دینا تمہیں بھولے تھے ہم اسباب شادی میں
جہیز ایک لعنت ہے یہ ہم سب بچپن سے پڑھتے آئے ہیں لیکن کیوں ہے؟ کتنے ہی لوگ اس بات کو سمجھ پائے ہیں؟شاید یہ پڑھا تو ہم نے ہے مگر انکی سمجھ ہر ماں باپ کو ہے اور ان ماں باپ کو سب سے زیادہ جو غربت کی وجہ سے دو وقت کی روٹی بھی بمشکل کھا لیتے ہو وہ جہیز کا بوجھ کہاں سے برداشت کریں۔ باپ ساری رات کروٹیں بدلتا ہے کہ کتنی مزدوریاں کر کے بیٹی کے جہیز کے پیسے پورے ہو سکتے ہیں اور ایک بیٹی کو جہیز بنا کہ رخصت کر بھی لیا تو باقی بیٹیوں کے جہیز کے لئے کیا کرینگے کسی سے قرض بھی لیا تو ساری زندگی جہیز کا قرض اتارتے اتارتے خود قبر میں اتر جاتا ہے ۔ جب ہم سب جانتے ہیں کہ یہ کتنا تکلیف دہ ہے تو ہم خود پے رحم کیوں نہیں کرتے ؟ ایک دوسرے کی پردہ پوشی کیوں نہیں کرتے؟ ایک دوسرے کے لئے جینا کیوں مشکل کر رہے ہیں؟ دوسروں پر نہیں تو خود پرہی رحم کر کے اس زنجیر اس نام نہاد روایت اور رسموں کو توڑ کیوں نہیں دیتے؟ کیا ہم سچ میں تعلیم یافتہ ہیں ؟ کیا ہم سچ میں باشعور ہیں یا صرف کچھ اوراق کے رٹے ہوئے طوطے ہیں؟۔کیا ہم اتنے کمزور ہیں کہ اس زنجیر کو نہیں توڑ سکتے؟ معاشرے ایسے نہیں بدلتے انقلاب لانا پڑتا ہے کسی ایک کو اٹھ کھڑا ہونا ہی پڑتا ہے۔ہمارے اندر کا مسلمان کہاں مر جاتا ہے اس وقت جب ہم مجبور ماں باپ پہ جہیز جیسی لعنت کا بوجھ ڈال کے کھڑے ہو جاتے ہیں لسٹ پکڑا دیتے ہیں، تب اسے زمانے کے رسم و رواج کا نام دے کے بات کو ختم کیا جاتا ہے۔جہیز صرف ایک لعنت نہیں بلکہ ایک ظلم ہے اور ہر وہ شخص بھی ظالم ہی ہے جو جہیز لیتا یا دیتا ہیں۔ظلم سہنے والا بھی ظالم میں ہی شمار ہوتا ہے۔میں لعنت جہیز کو اس معنی میں کہہ رہی ہوں کیونکہ اب یہ ایک فیشن بن چکا ہے ایک رسم چل پڑی ہے، باقاعدہ مطالبے کئے جاتے ہیں لسٹ پکڑائی جاتی ہے۔بیٹی کو جہیز دینا اور شرعی حصہ دینے میں واضح فرق ہے۔جہیز وہ تحائف ہوتے ہیں جو لڑکے والے مانگتے ہیں باقاعدہ مطالبہ کرتے ہیں جبکہ شرعی حصہ وہ ہوتا ہے جسکا اسلام نے حکم دیا ہے باپ کی جائیداد میں سے حصہ بیٹی کو دینا یہ حکم الٰہی ہے۔پھر بات آتی ہے تحائف اور جہیز کی۔تحائف وہ ہوتے ہیں جو لڑکی کا باپ اپنی طرف سے لڑکی کو دیتا ہے مگر اسکا ہرگز یہ مطلب نہیں کہ اسکو جائیداد میں اب حصہ نا دیا جائے۔جائیداد میں حصہ دینا شریعت کا حکم ہے جبکہ تحائف دینے کی کوئی پابندی نہیں اگر باپ اپنی طرف سے اپنی بیٹی کو کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے مگر وہ دکھائوے کے لئے نا ہو اور وہ تب ہی دے سکتا ہے جب وہ اتنا افورڈ کر سکتا ہو قرض لینے کی ضرورت نا پڑے ان سب صورتوں کے علاوہ چیزیں دینا لینا غلط ہے اور اسکی ممانعت اسلام اور پاکستانی قانون دونوں میں ہوئی ہے۔پاکستان میں حکومت نے جہیز کو کنٹرول کرنے کے لیے ”ڈاوری اینڈ برائڈل گفٹس ریسٹریکشن ایکٹ 1976” منظور کروایا تاکہ جہیز کی لعنت کو معاشرے سے ختم کیا جا سکے ۔ اس قانون کے تحت جہیز پانچ ہزار روپے سے زیادہ دینے پر پابندی عائد کردی گئی اور اس کی خلاف ورزی کی صورت میں چھ مہینے قید یا جہیز کی مناسبت سے جرمانہ مقرر کیا گیا ۔ اس ایکٹ میں حکومت کو یہ بھی اختیار دیا گیا کہ وہ جہیز کے لمٹ سے زیادہ سامان کو بحق سرکار ضبط بھی کر سکتی ہے اور قانون کی رو سے یہ قبضے میں لئے جانے والا سامان کسی غریب لڑکی کی شادی میں حکومت کی طرف سے دیا جائے گا ۔میرا تعلق جس علاقے سے ہیں تو وہاں جہیز کا کوئی تصور نہیں وہاں بیٹی کا رشتہ دینا ہی سب سے بڑی بات سمجھی جاتی ہیں وہاں بیٹی سے بڑھ کے کوئی چیز قیمتی نہیں ہوتی کہ جہیز میں دی جائے۔ ہاں البتہ جو افورڈ کر سکتے ہو تو بیٹی کو تحائف دے دیتے ہیں مگر اس کی کوئی پابندی نہیں ہوتی نا لڑکے والوں کی طرف سے کوئی مطالبہ کیا جاتا ہے۔تقریباً جتنا میں نے دیکھا ہے لڑکی کو جائیداد کے حصے سے محروم نہیں کیا جاتا نا ہی جائیداد لینے دینے کے اس رسم کا کوئی وجود ہے اور اسی طرح لڑکی والے بھی حق مہر زیادہ نہیں رکھتے کہ لڑکے والوں کو دقت نا ہو۔ دونوں طرف سے خیال رکھا جاتا ہے۔ اس balance کی وجہ سے ہی ایک اچھی زندگی گزاری جا سکتی ہے کیونکہ بیلنس اس دنیا کا قانون ہے، کائنات کا سارا نظام اسی بیلنسکی وجہ سے قائم ہے۔
خدارا اب اس ظلم کو ختم کرنے کے خلاف اٹھو بند کرو یہ ظلم توڑ دو اس نام نہاد رسم و رواج کے زنجیر کو اگر اس زنجیر کو توڑنے کے لئے باغی کہلائے جا ئو تو یہ لقب باخوشی قبول کر لو مگر کسی کے جہیز کا لسٹ نہیں، خود سے شروعات کرلو یہ رسم آپ نے توڑنی ہے میں نے توڑنی ہے کوئی تیسرا نہیں آئے گا اس ظلم کو ختم کرنے، جہیز مانگا جائے تو انکار کرلو، جہیز مانگنے سے انکار کرلو دیکھو ایک بار کہ زندگی کتنی آسان ہو جاتی ہیں کتنی خوبصورت کتنی پرسکوں۔