حکومت کا پی ٹی آئی پر پابندی کیلئے ڈيکلیریشن سپریم کورٹ بھیجنےکا فیصلہ

حکومت نے ممنوعہ فنڈنگ کے معاملے پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی قیادت کے خلاف پولیٹیکل آرڈر 2002 کے تحت کارروائی کرنے اور پارٹی پر پابندی کے لیے ڈیکلیریشن سپریم کورٹ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے۔
ویب ڈیسک: وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت وفاقی کابینہ کا اجلاس ہوا، جس میں ملک کے مختلف علاقوں میں آنے والے سیلاب اور اس کے نقصانات پر جائزہ لیا گیا علاوہ ازیں الیکشن کمیشن کی جانب سے جاری کیے جانے والے ممنوعہ فنڈنگ کیس کے فیصلے پر بھی غور کیا گیا۔
اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے کہا کہ الیکشن کمیشن نے پی ٹی آئی کو غیر ملکی فنڈ لینے والی جماعت ثابت کردیا، پہلی بار کسی سیاسی جماعت پر غیر ملکی فنڈنگ کا الزام ثابت ہوا، پی ٹی آئی نے 16 اکاؤنٹس ظاہر نہیں کیے جبکہ عمران خان نے بیان حلفی دیا کہ ہم نے بیرونِ ملک سے کوئی فنڈ نہیں لیا
مریم اورنگزیب کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن نے 2002 پارٹی ایکٹ کے تحت فیصلہ جاری کیا، حکومت الیکشن کمیشن کے فیصلے پر ایکشن لینے کی پابند ہے، تحریک انصاف کے خلاف ڈیکلیریشن سپریم کورٹ بھجوانے کا فیصلہ کیا ہے، وزارت قانون کو تین روز دیے ہیں تاکہ معاملات قانون اور آئین کے مطابق سرانجام دیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ کابینہ نے ایف آئی اے کو منی لانڈرنگ اور جعلی اکاؤنٹس کے معاملے کی تحقیقات کے لیے ہدایت جاری کردیں ہیں، اسٹیٹ بینک، ایف بی آر اور ایف آئی اے کے نمائندے بھی ممنوعہ فنڈنگ کیس کی تحقیقات کریں گے

مزید دیکھیں :   پی ٹی آئی رہنما شہباز گل اسلام آباد سے گرفتار، بغاوت پر اکسانے کا مقدمہ درج