قوم کو امتحان میں نہ ڈالیں

پاکستان کی معاشی ابتری کا کون ذمہ دار ہے، فرد واحد یا کسی ایک جماعت کو اس کا ذمہ دار قرار دینا قرین انصاف نہ ہو گا، البتہ معاشی بحران کو سمجھنے کیلئے گزشتہ چار ماہ میں پیش آنے والے تین واقعات کافی ہیں۔ اپریل 2022ء میں وزیر اعظم عمران خان کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کی گئی اور وہ کامیاب بھی ہوئی تو سیاسی بحران پیدا ہو گیا مگر حیرت انگیز طور پر جب شہباز شریف نے وزیر اعظم کے عہدے کا حلف اٹھایا تو معیشت مثبت دکھائی دینے لگی، حتیٰ کہ ڈالر کی قیمت بھی نیچے آ گئی۔ اس سے تاثر قائم ہوا کہ عمران خان جانے سے معیشت میں بہتری آئی ہے، اسی دوران عمران خان نے ملک گیر جلسوں کا آغاز کر دیا اور پورے ملک کے بڑے بڑے شہروں میں جلسے ہونے لگے۔ ان جلسوں کا سلسلہ اگرچہ طویل تھا مگر مزاحمتی سیاست کا معیشت پر کوئی منفی اثر نہ پڑا، ہاں آئی ایم ایف کی کڑی شرائط کی وجہ سے اتحادی حکومت کو مہنگائی میں اضافہ کرنا پڑا۔ اس سے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں اور ڈالر کی قدر بڑھ گئی لیکن عوام کو امید تھی کہ آئی ایم ایف پیکج ملنے کے بعد حالات جلد قابو میں آ جائیں گے۔ معیشت کو دوسرا دھچکہ ضمنی الیکشن کا اعلان ہونے اور انتخابی نتائج آنے کے بعد لگتا ہے، ضمنی الیکشن کے نتائج تحریک انصاف کے حق میں آتے ہیں لیکن اس کامیابی کے فوائد حاصل ہونے کے برعکس معیشت کی تباہی کی صورت سامنے آتا ہے، حمزہ شہباز کو وزات اعلیٰ کے عہدے سے ہٹائے جانے کے بعد معیشت کو ریورس گیئر لگ جاتا ہے اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی بے قدری شروع ہو جاتی ہے، دیکھتے ہی دیکھتے اوپن مارکیٹ میں ڈالر 250 روپے کی نفسیاتی حد عبور کر جاتا ہے۔ اس دوران عالمی مارکیٹ میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی ہوتی ہے مگر حکومت چونکہ شدید مالی بحران کا شکار ہوتی ہے اس لئے عوام کو اس کمی کا فائدہ نہیں پہنچانے سے قاصر ہوتی ہے۔ تیسرا واقعہ الیکشن کمیشن کی جانب سے تحریک انصاف کے خلاف فارن فنڈنگ کیس کا فیصلہ ہے یہ فیصلہ تحریک انصاف کے خلاف آیا ہے کیونکہ الیکشن کمیشن کے مطابق ممنوعہ فنڈنگ ثابت ہو چکی ہے۔ اس فیصلے کے اگلے روز سٹاک مارکیٹ بلندی پر پہنچ جاتی ہے اور ایک دن میں ڈالر14 روپے تک کم ہو جاتا ہے۔ ان تینوں واقعات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تاجر برادری اور سٹاک مارکیٹ تحریک انصاف پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ہے۔
ابوالکلام آزاد نے کہا تھا ”سیاست کے سینے میں دل نہیں ہوتا” اہل سیاست کے طرز سیاست کو دیکھتے ہیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ انہوں نے درست کہا تھا، سیاست دانوں کو ملک و قوم کی ذرا بھی فکر ہوتی تو اپنی انا اور ذاتی مفاد پر ملک کے مفاد کو ترجیح دیتے، مگر ایسا دکھائی دیتا ہے کہ کوئی بھی جماعت اپنے سیاسی مفاد سے بالا ہو کر سوچنے کیلئے تیار نہیں ہے۔ معاشی حالات میثاق معیشت کے متقاضی ہیں، ایسا میثاق جو کم از کم بیس برس کیلئے ہو، جس میں سیاسی جماعتوں کا اتفاق ہو کہ ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالنا ہے۔ اس وقت اتحادی حکومت میں تحریک انصاف کے علاوہ تقریباً تمام جماعتیں شریک ہیں، اگر یہی کام میثاق کے نتیجے میں ہو جائے تو اس میں کیا حرج ہے، اس میثاق کا اہم فائدہ یہ ہو گا کہ حکومت جو بھی پروگرام بنائے گی وہ متفقہ ہو گا، راستے میں کوئی رکاوٹ ڈالنے والا نہیں ہو گا۔ عمران خان مسلم لیگ ن، پیپلزپارٹی اور مولانا فضل الرحمان کے ساتھ بیٹھنے کیلئے تیار نہیں ہیں، سیاسی قائد کو یہ روش زیب نہیں دیتی ہے انہیں لچک کا مظاہرہ کرنا ہو گا، کیونکہ سیاستدان کبھی بھی اپنے دروازے بند نہیں کرتے ہیں۔ اگر بات ملکی مفاد کی ہو تو تمام تر اختلاف کو پس پشت ڈال کر حریفوں کے ساتھ بیٹھ جاتے ہیں۔ نیلسن منڈیلا کی سیاسی جدوجہد اور قید و بند کی صعوبتیں 29 برسوں پر محیط ہیں، جب وہ جیل سے رہا ہو کر باہر آئے تو ان کی مقبولیت سرچڑھ کر بول رہی تھی ان کے حریفوں نے مذاکرات کی پیشکش کی تو انہوں نے فوری حامی بھر لی، نیلسن منڈیلا کے حامیوں نے کہا کہ اب مذاکرات کیوں؟ اب تو کامیابی یقینی ہے، حریف گھنٹنے ٹیک چکے ہیں۔ نیلسن منڈیلا نے اپنے حامیوں کی بات سنی تو تاریخی جملہ کہا کہ میری قوم اور ملک کا بھلا اسی میں ہے کہ مذاکرات کئے جائیں انہیں مزید امتحان میں نہ ڈالا جائے۔ نیلسن منڈیلا چند سال بعد اس دنیا سے رخصت ہو گیا جب اس کی آخری رسومات ادا کی جا رہی تھیں تو پورا ملک سوگوار تھا بلکہ عالمی سطح پر اسے خراج تحسین پیش کیا گیا، آج بھی نیلسن منڈیلا کا نام احترام سے لیا جاتا ہے۔کاش! ہمارے سیاستدان بھی نیلسن منڈیلا کی طرح سوچیں اور قوم کو مزید امتحان نہیں ڈالیں، مگر اہل سیاست کے بیانات کو دیکھ کر لگتا ہے کہ قوم کی ابتلاء اور آزمائش ابھی باقی ہے۔

مزید دیکھیں :   ہر حد کی ایک حد تو ہوتی ہے