یورپین اراکین پارلیمنٹ

یورپین اراکین پارلیمنٹ کامقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار

ویب ڈیسک: یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کی طرف سے 5 اگست 2019 کو بھارتی آئین کے آرٹیکل 370 کی منسوخی کے بعد سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

اپنے ایک خط میں یورپین پارلیمنٹ کے چودہ اراکین نے صدر اور نائب صدر یورپین کمیشن کی توجہ دلاتے ہوئے تشویش کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے لوگ گزشتہ سات دہائیوں سے بھارتی حکومت و فوج کے طرف سے ظلم و بربریت کا شکار ہیں انہوں نے کہا کہ بھارتی مسلح افواج کشمیریوں کی آواز کو دبانے کے لیے بنیادی انسانی حقوق کی کھلی خلاف ورزیاں کر رہی ہے۔

مزید دیکھیں :   روسی گولہ باری میں 10 یوکرینی ہلاک، متعدد زخمی

یہ تیسرا موقع ہے جب یورپی پارلیمنٹ کے ممبران نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی مسلح افواج کی طرف سے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر خط لکھا ہے۔
ان اراکین نے کہا کہ ہندوستانی حکام نے غیر قانونی سرگرمیاں ایکٹ کو ڈھال بناتے ہوئے بہت سے کارکنوں، صحافیوں اور انسانی حقوق کے لیے آواز اٹھانے والوں کو گرفتار کیا ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے تمام بڑے شہروں میں انٹرنیٹ کی مسلسل بندش گزشتہ سال سے جاری ہے۔

انہوں نے مزیدکہا کہ بھارتی مسلح افواج کے مظالم نے خطے میں شورش کو بڑھا دیا ہے جس کے نتیجے میں نوجوان تحریک آزادی میں شامل ہو رہے ہیں۔

مزید دیکھیں :   شہبازگل کے مزید جسمانی ریمانڈ کی استدعا مسترد

انہوں نے ایک بار پھر اس بات کا اعادہ کیا کہ کشمیر کو بین الاقوامی سطح پر دنیا کے سب سے زیادہ عسکری علاقوں میں سے ایک کے طور پر پہچانا جاتا ہے اور یہ دو ایٹمی طاقتوں کے درمیان ایک انتہائی خطرناک متنازعہ فلیش پوائنٹ ہے۔

انہوں نے یورپی کمیشن کے صدر اور نائب صدر سے مطالبہ کیا کہ وہ یورپی پارلیمنٹ کے ممبران کے گہرے تحفظات کو بھارتی حکومت تک پہنچائیں اور ان سے کہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں،کشمیریوں کے خلاف تشدد، بدسلوکی اور امتیازی سلوک کو فوری طور پر بند کریں اور ضمانت دیں کہ کشمیریوں کے بنیادی انسانی حقوق کا مکمل احترام کیا جائے گا۔

مزید دیکھیں :   باجوڑ میں کمرے کی چھت گرنے سے 2 بچیاں جاں بحق

(بشکریہ)….