کالعدم تنظیم کے ساتھ مذاکرات میں پیشرفت

کالعدم تحریک طالبان نے مذاکرات جاری رہنے تک فائر بندی کی یقین دہائی کرادی ہے جبکہ حکومت پاکستان کی جانب سے تحریک طالبان کے ساتھ مذاکرات کے لئے الگ الگ مذاکراتی کمیٹیاں تشکیل دے ی گئی ہیں ذرائع کے مطابق علماء کے وفد کے ساتھ مذاکرات کے دوران کالعدم تحریک طالبان نے یہ یقین دلایا ہے کہ جب تک مذاکرات جاری رہیں گے فائر بندی رہے گی جبکہ اس سے قبل صرف تین ماہ کے لئے فائر بندی کا اعلان کیا گیا تھا اسی طرح ذرائع کے مطابق کالعدم تحریک طالبان کے ساتھ ایک مذاکراتی ٹیم کام نہیں کر رہی بلکہ الگ الگ ٹیمیں کام کر رہی ہیں ایک ٹیم طالبان کی واپسی کے عمل کو دیکھ رہی ہے دوسری ٹیم اس حوالے سے سیکورٹی کے امور و تیسری ٹیم پارلیمانی امور یعنی درکار قانون سازی کا عمل اور چوتھی ٹیم ہر جانہ اور معاوضہ کے امور دیکھ رہی ہے ۔کالعدم تنظیم ٹی ٹی پی سے مذاکرات میں پیشرفت اور ڈیڈ لاک طالبان کی سخت اور ناقابل قبول شرائط کے حوالے سے مختلف اوقات و مراحل میں مختلف صورتحال سامنے آتی رہی ہے ایک مرحلے پر مذاکرات ناکام ہونے کی نوبت کا بھی تذکرہ سامنے آیا تھا بہرحال اس طرح کے پیچیدہ معاملات کا حل دنوں اور مہینوں میں نہیں سالوں میں سامنے آتا ہے جب امریکہ اور افغان طالبان کے درمیان برسوں کی جنگ اور سلسلہ جنبانی کا بالاخر حل یا پھر درمیانی صورت نکل آنے کی نظیر موجود ہے تو کالعدم ٹی ٹی پی اور حکومت کے درمیان مذاکرات میں بالاخر کامیابی اور کسی فارمولے تک پہنچنے کا امکان کم از کم امریکہ طالبان مذاکرات کے مقابلے میں زیادہ ہے ٹی ٹی پی کی قیادت کو جس دن یہ احساس ہو گیا یا پھر مذاکرات کار یہ احساس دلانے میں کامیاب ہو گئے کہ وہ خود اپنے ہی ملک و ملت اور اپنے ہی ہم قبیلہ لوگوں کے خلاف لڑ رہے ہیں اور انجام کار ان کی یہ لڑائی لاحاصل ہی رہ جائے گی اور ہونا بھی بالاخر یہی ہے طالبان اس نوشتہ دیوار کو جس قدر جلد پڑھ لیں اور صلح کے راستے کی طرف آئیں تو ان کے حق میں بہتر ہوگا اس وقت حکومت اور عسکری اداروں سے لیکر جید علمائے کرام تک بھی اپنی اپنی سطح پر طالبان سے مذاکرات میں پیش رفت اور کوئی باعزت و درمیانی راستہ نکالنے کی سعی میں ہیں اور اگر خدانخواستہ یہ سلسلہ ناکام ہوا تو پھر طاقت کا استعمال ہی واحد راستہ ہوگا ٹی ٹی پی زیادہ سے زیادہ دہشت گردی کے چند ایک واقعات اور کسی فوجی قافلے پر ممکنہ حملے کی منصوبہ بندی سے زیادہ کی سکت نہیں رکھتی اور ان کی یہ کوشش اسلامی وشرعی اصولوں کی خلاف ورزی اور اپنے ہی ملک و ملت اور اپنے ہی بھائیوں کا خون بہانا ہے یہ ساری صورتحال افغانستان میں علمائے کرام کی حکومت کے لئے بھی کسی بڑی مشکل سے کم نہیں اس لئے کہ افغان حکومت اس امر کی ضامن ہے کہ وہ اپنی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال ہونے نہ دے علمائے کرام کے وفد کے سامنے افغانستان کے حکمران جس عاجزی کے ساتھ بیٹھے نظر آئے اس سے صاف طور پر اس امر کا اظہار ہو رہا تھا کہ پاکستانی علمائے کرام کے وفد کی سفارشات اور مساعی کو نظر انداز نہیں کر سکتے اور وہ اس ضمن میں ضرور اپنا کردار ادا کریں گے اس کا ایک مظہر کالعدم ٹی ٹی پی کی قیادت کی علمائے کرام کے وفد کو دوران مذاکرات فائر بندی کی یقین دہانی ہے اور یہ یقین دہانی کسی خاص وقت کے لئے نہیںبلکہ لامحدود ہے جو ایک نہایت حوصلہ افزاء پیش رفت ہے جوں جوں وقت گزرتا جائے گا اور تصادم نہیں ہو گا تو فریقین میں کشیدگی میں کمی اور ایک دوسرے کی بات سننے اور سمجھنے کے جذبات میں اضافہ ہوتا جائے گا اور بالاخر فریقین کسی درمیانی راستے پر متفق ہو سکتے ہیں اس طرح کے معاملات میں کوئی درمیانی راہ نکالنا ہی فریقین کی کامیابی سمجھی جاتی ہے جس طرح کے ٹی ٹی پی کے مطالبات اور ان کا موقف ہے ضرورت اس امر کی ہے کہ کالعدم ٹی ٹی پی اپنے سخت موقف کے ان حصوں پر نظر ثانی کرے جو تقریباً ناممکن ہیں باقی معاملات پر حکومت کی جانب سے فراخدلی کا مظاہرہ فطری امر ہو گا۔ توقع کی جا سکتی ہے کہ علمائے کرام اور دیگر مذاکرات کار بالاخر کسی نتیجے پر پہنچیں گے اور کالعدم ٹی ٹی پی بھی حقیقت پسندانہ اور قابل عمل موقف اپنائے گی اور اس پیچیدہ و سنگین مسئلے کا بالاخر اختتام ہو گا۔

مزید دیکھیں :   سمگل شدہ ادویات کی ملی بھگت سے فروخت