صوابی میں ہیضہ کی وبا پھیل گئی ، ایک ہفتے میں دو بچے جاں بحق

ویب ڈیسک :ضلع صوابی میں ہیضے کی بیماری نے وبا کی شکل اختیار کر لی۔سینکڑوں بچے مختلف ہسپتالوں میں داخل کر دیئے گئے جب کہ ایک ہفتے کے دوران دو بچے ڈائریا کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے۔ جب کہ ایم ٹی آئی کے تر جمان کے مطابق جاں بحق ہونے والے بچوں کی تعداد آٹھ ہے۔
تفصیلات کے مطابق یکم جولائی سے مختلف اوقات کے دوران ضلع بھر میں موسلا دھار بارش کا سلسلہ جاری رہا اس دوران کنویں پانی سے بھر گئے آلودہ پانی پینے سے سینکڑوں کی تعداد میں لوگ قے اور دست کی بیماری میں مبتلا ہو گئے اور یہ سلسلہ تقریباً تین ہفتوں سے جاری رہا۔ لیکن اس دوران محکمہ صحت کی جانب سے کوئی عملی اقدامات نہیں اٹھائے گئے۔ اس سلسلے میں محکمہ صحت کے تر جمان کے مطابق ضلع کے تین تدریسی ہسپتالوں میں کل 200 بچوں کو لایا گیا۔تاہم ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر اور ان کا عملہ سنگین پیش رفت کے بارے میں خاموش رہا۔
رابطہ کرنے پر ڈی ایچ او ڈاکٹر عبداللطیف نے بتایا کہ بچے کہاں ہیں اور انہیں اس بارے میں کوئی علم نہیں۔ملازمین میں سے ایک نے سینئر صحافی کے ساتھ زبانی تکرار بھی کی تھی کہ اس نے یہ دعویٰ کیسے کیا اور اس نے اپنے میڈیا اداروں کے ساتھ معلومات کیسے شیئر کیں۔ان کا کہنا تھا کہ 200 بچے ڈائریا سے متاثر ہوئے جن میں سے 120کو تحصیل ٹوپی ہیڈ کوارٹر ہسپتال، 30 کو باچا خان میڈیکل کمپلیکس شاہ منصور اور 50 کو تحصیل چھوٹا لاہور ہیڈ کوارٹر ہسپتال لایا گیا، ان تمام ہسپتالوں کو میڈیکل ٹیچنگ اداروں میں تبدیل کر دیا گیا ہے۔
ایم ٹی آئیز کے ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں بتایا کہ تین ٹیچنگ ہسپتالوں میں ڈائریا میں مبتلا ساٹھ بچے زیر علاج ہیں، انہیں صحت کی مناسب سہولیات فراہم کی گئی ہیں اور متعلقہ حکام چوبیس گھنٹے صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔انہوں نے بتایا کہ اس وقت باچا خان میڈیکل کمپلیکس میں 48، چھوٹا لاہور میں 8 اور ٹوپی میں 4 بچے زیر علاج ہیں۔ انہوں نے کہا کہ تینوں ہسپتالوں میں کل 120 بچوں کا علاج کیا گیا اور انہوں نے مریضوں کی سہولت کے لئے ہر ممکن کوشش کی ہے۔

مزید دیکھیں :   15 اگست سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں کم ہونے کا امکان