ڈالر پر ڈرون حملہ

اُسامہ بن لادن کے دست راست 71 سالہ مصری نژاد ڈاکٹر ایمن الظواہری کابل کے پوش علاقے کے گھر میں امریکی ڈرون حملے کا نشانہ بن گئے ۔امریکی صدر جوبائیڈن نے اس کامیابی کا باضابطہ اعلان خود کیا اور یہ دعویٰ کیا کہ اس حملے میں کوئی عام شہری یا ایمن الظواہری کے گھر کا کوئی فرد مارا نہیں گیا ۔بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایمن الظواہری اپنے پوتوں پوتیوں کے ساتھ اس گھر میں مقیم تھے ۔یہ گھر افغانستان کے وزیر داخلہ سراج الدین حقانی کے ایک حمایتی کا تھا ۔ایمن الظواہری اُسامہ بن لادن کی موت کے گیارہ سال بعد امریکہ کا ہدف بنے ۔گیارہ برس قبل امریکہ کی ڈیموکریٹک پارٹی ہی کے صدر باراک اوباما نے فاتحانہ انداز میں اعلان کیا تھا کہ امریکہ نے پاکستان کے شہر ایبٹ آباد میں ایک آپریشن کے ذریعے اُسامہ بن لادن کو ہلاک کیا ہے ۔کہا گیا ایمن الظواہری جس گھر میں مقیم تھے وہ سفارت خانوں کے قریب واقع تھا ۔اُسامہ بن لادن کی طرح ایمن الظواہری کی موت بھی مسلمان دنیا میں کسی بڑی اتھل پتھل کی وجہ نہیں بنی مگر اس کے بعد پیدا ہونے والے حالات نے پاکستان کے لئے ایک نئی اور پرخطر کہانی کا آغاز کردیا ہے ۔ امریکہ نے ایمن الظواہری کو میزائل آر ایکس نائن کے ذریعے نشانہ بنایا ۔اس میزائل میں وار ہیڈز کی بجائے بلیڈ استعمال ہوتے ہیں اور زیادہ تیر بہدف ہوتا ہے ۔اس سے ٹارگٹ سے ہٹ کر زیادہ نقصان بھی نہیں ہوتا ۔یہی وجہ کہ کابل میں اس کارروائی کی زیادہ گونج سنائی نہیں دی۔اُسامہ بن لادن کی طرح ایمن الظواہری کی طرح موت کی خبر بھی عوامی سطح پر بے تاثر ہی سنی اور سن کر اُڑا دی گئی مگر اس کے بعد سوالات اور خدشات کا ایک سیلاب سا اُمڈ کر آیا ۔امارت اسلامی افغانستان نے ایک بیان میں اس کاروائی کو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی قرار دیا ۔دودن بعد امارت کی ویب سائٹ پر کہا گیا کہ امریکی ڈرون کو جن ممالک نے اپنی فضائی حدود استعمال کرنے کی اجازت دی ہے امارت اسلامی افغانستان کی حکومت اس کے متعلق تحقیقات کرے گی ۔الجزیرہ ٹی وی نے پہلے ہی خبر دی تھی کہ امریکہ نے پاکستان کے تعاون سے یعنی فضائی حدود استعمال کرتے ہوئے ایمن الظواہری کو نشانہ بنایا ۔ امریکہ کے ڈرون نے قطر کی فضائی حدود سے اُڑ کر کابل میں کاروائی کی تو اس کے لئے دوملکوں کی ائر سپیس ہی استعمال کی جا سکتی ہے اوروہ ہیں پاکستان اور ایران ۔ایران سے تو اس اجازت کی قطعی توقع نہیں لے دے کر اس سہولت کاری کے لئے پاکستان کا نام ہی آرہا ہے۔ڈمہ ڈولہ کے ڈرون حملے میں کئی دن تک یہ کنفوژن موجود رہا کہ یہ امریکہ کی کاروائی ہے یا پاکستان کی ۔جنرل مشرف نے اس کاروائی ذمہ داری اپنے سر لینے کی کوشش کی تھی مگر یہ حقیقت زیادہ دیر تک چھپی نہ رہ سکی کہ امریکہ پاکستان میں شمسی ائر بیس استعمال کرتے ہوئے افغانستان اور پاکستان میں ڈرون حملے کر رہا ہے ۔یوں ایمن الظواہری کے خلاف کاروائی میں ائر سپیس کے استعمال کا معاملہ بھی زیادہ دیر تک معمہ نہیں رہے گا۔امریکی خود اس حقیقت کو بیان کر تے چلے جائیں گے ۔ وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ نے پاکستان کی فضائی حدود کے استعمال کی تردید کی مگر حکومت کے ایک ہمدرد اخبار نویس نجم سیٹھی نے اس کاروائی کو پاکستان اور امریکہ کی مشترکہ کاروائی قرار دیا بلکہ جنرل باجوہ کے وینڈی شرمن کو کئے جانے والے ٹیلی فون کو بھی اسی کاروائی کے ساتھ جوڑا کہ اس مشترکہ کاروائی کے بعد جنرل باجوہ نے امریکہ کو آئی ایم ایف سے قرض دلوانے میں مدد کی اپیل کی ۔طالبان نے امریکہ کی اس کاروائی کو دوحہ معاہدے کی خلاف ورزی کہا گیا ۔امکان یہ بھی ہے کہ پاکستان کی طرح امارت اسلامی بھی اس کاروائی کی خاموش شراکت دار ہو۔اگر امریکہ طالبان حکومت کے خلاف اپنی سخت گیری میں کمی لاتا ہے تو اس بات کو رد کرنا ممکن نہیں رہے گا ۔ایمن الظواہری کے خلاف افغانستان میںامریکہ کی یہ پہلی کارروائی ہے نہ آخری گویا کہ ایک بار پھر پاکستان دوہزار کی دہائی میں واپس جا سکتا ہے جب پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ کے نام پر امریکہ کی بندوق اپنے کندھے پر رکھے ہوئے تھا اوراس کے بدلے میں وہ دہشت گردی کا نشانہ بن کر رہ گیا تھا ۔ پاکستان کو دہشت گردی کے اس عفریت سے جان چھڑانے کے لئے امریکہ سے فاصلہ پیدا کرنا پڑا تھا ۔وہ دوراس لحاظ سے قدرے مختلف تھا کہ امریکہ امداد کے ذریعے پاکستان پر مہربان تھا ۔اب تو آئی ایم ایف سے قرض دلوانے کی سفارش کو بھی ایک احسان عظیم بنا دیا گیا ہے ۔وہ قرض جو پاکستانیوں کو اپنا خون پسینہ گرا کر واپس لوٹانا ہے ایک خیرات اور احسان کے طور پر دلوایا جا رہا ہے ۔اس کا مطلب یہ ہے کہ پاکستان کی فیصلہ سازی کی حیثیت اور پوزیشن ماضی کے مقابلے میں مزید کمزور ہو کر رہ گئی ہے ۔ اگر پاکستان کی حدود ڈرون حملے کے لئے استعمال ہوئی ہے اور یہ سلسلہ آگے بھی چلنا تو پھر یہ امریکہ کی جنگ میں واپسی کے مترادف ہے اور اس کا مطلب اپنا حلیہ بگاڑنا اور ایک بار پھر چکی کے دوپاٹوں تلے پسنا ہے۔ فی الحال ڈرو ن اور ڈالر کے جھنجٹ میں پڑے بغیر مصنف اور مزاح نگا ر میجر ریٹائرڈ مقبول حسین کے اس ٹویٹ کا لطف ہی لیا جا سکتا ہے ”ڈالر کمبخت اتنا باغی ہوچکا تھا کہ بہت سمجھانے کے باوجودبھی نیچے نہیں آرہاتھا آخر میں ڈرون مار کر نیچے لانا پڑا”۔

مزید دیکھیں :   ہر حد کی ایک حد تو ہوتی ہے