ذرا ٹھہر کہ بلا کا غبار راہ میں ہے

جن قوتوں نے 70ء کی دہائی میں اس دور کی حزب اختلاف کی ایک توانا جمہوری سیاسی جماعت نیشنل عوامی پارٹی(نیپ) پر پابندی لگوانیکی غلطی کی کیااس کے بعد اس جماعت کو سیاست کے میدان سے نکالا جاسکا؟ یقینا نہیں’ اتنا اگرچہ ضرور ہو سکا کہ اس جماعت کے اندر سے کئی سیاسی جماعتیں برآمد ہوئیں اور بڑی جماعت کے طور پر این اے پی کے الفاظ کی ترتیب بدل گئی اور آج وہ اے این پی کے نام سے ایک اہم سیاسی دھڑے کے طور پر میدان میں ہے جبکہ سندھ اور بلوچستان میں اسی کے کئی دھڑے دوسرے ناموں سے سیاسی طور پر سرگرم ہیں ‘ اس سارے پراسس کا ایک نقصان البتہ یہ بھی ہوا کہ خصوصاً بلوچستان میں جمہوری قوتوں کو دیوار سے لگانے کی غلط پالیسی نے انہی جماعتوں یا دھڑوں کے اندر ایسے عناصر کو متحرک کیا جنہوں نے بزعم خود یہ سوچ اپنائی کہ ان کو سیاسی جدوجہد کے ذریعے ان کا جائز حق ملنا مشکل دکھائی دے رہا ہے ‘ اس لئے مٹھی بھر ان عناصر نے جمہوریت کو اپنے دکھوں کا مداوا نہ سمجھتے ہوئے غلط راستہ چنتے ہوئے مبینہ طور پر مسلح جدوجہد ہی میں اپنی بقاء سمجھی ‘ جس کے ساتھ کسی بھی طور اتفاق نہیں کیا جا سکتا اس لئے کہ یہ چند بد راہ جب منفی نظریات سے متاثر ہوئے اور معروف سیاسی جدوجہد کے بجائے بندوق کا سہارا لیا تو بیرونی دشمن قوتوں نے ان کا ہاتھ تھامنے کی سازشیں شروع کرکے ان کے اذہان پلٹنے میں اہم کردار ادا کیا ‘ نتیجہ آج سامنے ہے کہ مٹھی بھر یہ عناصر عوام کے دلوں میں وہ مقام حاصل کر پانے میں ناکام رہے ہیں اور آئندہ بھی نامرادی ان کا مقدر رہے گی ۔
اتنی طویل تمہید کا اصل مقصد ‘ مدعاء اور مطلب صرف یہ سمجھانا ہے کہ یہ جو آج کل تحریک انصاف کو”صفحہ ہستی سے مٹانے” کا بیانیہ سامنے آرہا ہے ماضی کے تلخ تجربات کو سامنے رکھتے ہوئے اگر اس سوچ سے گریز کیا جائے تو بہتر ہو گا ‘ ہاں اگر چند لوگ کسی ایسی کارروائی میں ملوث رہے ہوں جس کے پیچھے ملکی مفادات کے خلاف سوچ کارفرما ہو ‘ تو ٹھوس اور مکمل ثبوتوں کے ساتھ اس پر عدالتوں کی رائے طلب کرکے ان کو کیفر کردار تک پہنچانے میں کوئی امر مانع نہیں ہے ‘ تاہم بطور جماعت کسی بھی سیاسی پارٹی کو سیاسی میدان سے نکالنے کی کوششوں کا آنے والے دنوں میں کسی کو فائدہ ملنے کی امید دکھائی نہیں دیتی ‘ اگرچہ دوسری طرف بھی جو سوچ کارفرما ہے اس کو بھی اطمینان بخش قرار نہیں دیا جا سکتا ‘ گزشتہ چار سالہ دور میں تحریک انصاف کی پالیسی بھی کچھ ایسی ہی منفی سوچ پر کارفرما رہی ہے اور بعض قوتوں کی جانب سے مبینہ طور پر اس کو ہلہ شیری کا مقصد بھی یہی تھا کہ دوسری سیاسی جماعتوں کو ملکی سیاسی میدان سے مکمل طور پر رخصت کرکے گلیاں ہون سجنیاں تے وچ مرزا یا ر پھرے والی صورتحال بنا لی جائے ‘ یہاں ”مرزا یار” سے مراد کیا تھا اس حوالے سے سیانے بہت کچھ ا شارے کرتے رہے ہیں جن کی درست نشاندہی کرتے ہوئے جس طرح تبصرہ نگاروں کے ”پر” جلتے تھے اس سے سبق سیکھتے ہوئے ہم بھی کسی”جرأت رندانہ” کے متحمل نہیں ہو سکتے ‘ بہرحل وہ جو مبینہ دس پندرہ ‘ بیس یا تاحیات اقتدار کی سوچ پنپ رہی تھی الیکشن کمیشن کے حالیہ فیصلے نے اس کے غبارے سے ہوا خارج ضرور کردی ہے مگر کچھ لوگ اب بھی اسی آس پر جیتے ہیں کہ کچھ نہیں ہوگا ماہرین آئین و قانون یہ بھی کہہ رہے ہیں کہ اگر معاملہ عدالت پہنچ گیا تو اسے فل بنچ ہی سنے گا ۔
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں ‘ مری عمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں جسے تم ہنسی میں ا ڑا گئے
اس معاملے کو ا لیکشن کمیشن لے جانے والے پی ٹی آئی کے اپنے ہی بنیادی رکن اکبر ایس بابر نے گزشتہ روز اپنے تازہ بیان میں کہا ہے کہ جب الیکشن کمیشن نے فیصلہ محفوظ کیا تو اس کے بعد بھی ان کوجہاں کچھ ترغیبات دی گئیں وہاں دھمکیوں سے بھی کام چلایا گیا مگر وہ اپنے موقف پر ڈٹے رہے ادھر یہ اطلاعات بھی ہیں کہ چیف الیکشن کمشنر کو بھی کسی”طاقتور” شخصیت نے فون کرکے اس فیصلے کو موخر کرنے اور اپنے اوپر ذمہ داری نہ لینے سے بچنے کے لئے مستعفی ہو کر گھر چلے جانے کی مبینہ ”تڑیاں” لگائیں مگر انہیں بھی ”ناکامی” ہوئی جس کے بعد وہاں بھی چپ اختیار کی گئی ‘ اب ہوا کیا یا تازہ (بدلتی ہوئی) صورتحال کیا ہے؟ کہ جیسے ہی فیصلہ سامنے آیا تو متعلقہ حلقے ناچنے لگے اور بغلیں بجاتے ہوئے فیصلے کو اپنے حق میں قرار دے کر اپنے کارکنوں کے حوصلے بڑھارہے تھے ‘ بڑے بڑے دعوے کئے جارہے تھے ‘ لیکن جیسے جیسے ہی ان پر اصل حقیقت آشکار ہونے لگی ان کے چہروں پر مایوسی کے سائے گہرے ہونا شروع ہوئے ‘ کیونکہ اس فیصلے کے جو اثرات آئندہ دنوں میں اس جماعت اور اس کے قائدین پر مرتب ہو سکتے ہیں ان کی تفصیل پریشان کن نتائج کی نشاندہی کر رہی ہے اگرچہ بعض رہنما اب بھی بقول مرزا غالب ‘ دل کے خوش رکھنے والے بیانات ضرور دے رہے ہیں مگر اندر سے ان کی جوحالت ہے اس پر یہی کہا جا سکتا ہے کہ یا میں جانوں ‘ یا میرا رب جانے ‘ پارٹی کے رہنماء نے تو یہاں تک کہہ دیا ہے کہ الیکشن کمیشن نے اپنی حدود سے نکل کر فیصلہ دیا ہے اگرچہ واقفان حال ایسی کسی سوچ کے حامی نہیں ہیں ‘ تاہم اگر پھر بھی کسی کو یہ گمان ہے کہ الیکشن کمیشن نے کسی قسم کا تجاوز کیا ہے تو پشتو کے ایک ضرب المثل کی مانند”دا گز دا میدان” یعنی عدالتیں موجود ہیں جایئے شوق پورا کیجئے لیکن اسے کیا کہیں گے کہ گزشتہ روز پی ٹی آئی نے چیف الیکشن کمشنر کے خلاف ریفرنس دائر کرنے کے کچھ ہی دیر بعد واپس لے لیا کیا اسے ایک اور یوٹرن سمجھا جائے؟ ادھر تحریک کے ایک اہم رہنما چوہدری فواد حسین نے دھمکی دی ہے کہ صدرمملکت میاں شہباز شریف سے اعتماد کا ووٹ لینے کا کہہ سکتے ہیں یقینا کہہ تو سکتے ہیں کہ آئینی طور پر صدر اس حق کے مکلف ہیں اور ویسے بھی موصوف نے کئی مواقع پر اپنے منصب کے تقاضوں کی دھجیاں اڑائیں ‘ اس لئے ان سے کوئی بھی کسی بھی قسم کی توقع کی جا سکتی ہے مگر ہندکو کے ایک مقولے کے مطابق”اگے نڈے دا ناں بی لالہ فدو وے ”مدمقابل جماعتوں نے کچی گولیاں نہیں کھیلیں اور ایک ہی ”بال” سے گیارہ کھلاڑیوں کو کلین بولڈ کرکے محولہ مفروضے کے غبارے کو پھاڑ کر رکھ دیا ہے جبکہ ممکنہ طور پر مزید اراکین اسمبلی کی نااہلی کو کنفرم کیا جا سکتا ہے۔

مزید دیکھیں :   سمگل شدہ ادویات کی ملی بھگت سے فروخت

بہرحال وہ جو پشتو میں کہتے ہیں کہ دمقدمے سر تہ گورہ یعنی مقدمے کے انجام پر نگاہ رکھو ‘ تو دیکھتے ہیں کہ بقول طاہر سلیم مغل
تمیز رہبرو رہزن ابھی نہیں ممکن
ذرا ٹھہر کہ بلا کا غبار راہ میں ہے