مالیاتی نظم و ضبط دیرآید درست آید

حکومت نے سخت مالیاتی کنٹرول کو یقینی بنانے کے لئے پہلی سہ ماہی میں تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس(ٹی جی ایس)کے لئے کڑی شرائط اور انتہائی ضروری اور غیر معمولی معاملات کے علاوہ پورے مالی سال کے دوران ترقیاتی اور موجودہ اخراجات کے لئے اضافی فنڈز پر پابندی عائد کر دی۔ وزارت خزانہ کی جانب سے کہاگیا ہے کہ منظور شدہ مختص بجٹ کے اندر رہنے کے لئے سپلیمنٹری گرانٹ کے ذریعے کسی اضافی فنڈز پر رواں مالی سال کے دوران غور نہیں کیا جائے گا، صرف انتہائی ضروری اور غیر معمولی حالات میں اس پر انتہائی سخت شرائط کے ساتھ غور کیا جا سکتا ہے’۔تمام سرکاری وزارتوں، ڈویژنوں اور متعلقہ محکموں کو بھیجے گئے ایک دفتری میمورنڈم میں وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں اور ڈویژنوں کے پرنسپل اکائونٹنگ افسران کو ضمنی فنڈز مختص کرنے سے پہلے مطلوبہ شرائط کی وضاحت بھی کی۔سپلیمنٹری گرانٹس طلب کرنے سے پہلے متعلقہ وفاقی سیکریٹریز یا دیگر پرنسپل اکائونٹنگ افسران کو تصدیق کروانی ہوگی کہ دوبارہ تخصیص اور تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کے ذریعے کوئی فنڈز دستیاب نہیں ہیں اور تمام آپشنز ختم ہو چکے۔اس کی تصدیق متعلقہ اکائونٹنگ افسران سے بھی کرنی ہوگی پرنسپل اکائونٹنگ افسر کو خصوصی گرانٹس کے مطالبے کے لئے درست جواز اور ٹھوس وجوہات فراہم کرنا ہوں گی۔وزارت خزانہ کا اخراجات ونگ یا متعلقہ ونگ اس کی جانچ کرے گا اور بجٹ ونگ کو سفارش پیش کرے گا، اسی طرح تکنیکی سپلیمنٹری گرانٹس کے معاملات پر رواں مالی سال کی پہلی سہ ماہی کے دوران غور نہیں کیا جائے گا۔مالی سال کے آخری ماہ کے دوران کسی بھی صورت میں تکنیکی سپیلمینٹری گرانٹس کے لئے کسی تجویز پر کارروائی نہیں کی جائے گی۔مزید برآں وزارت خزانہ نے تمام وزارتوں پر یہ بھی واضح کر دیا کہ فنڈز کی دوبارہ تخصیص کی اجازت صرف گرانٹ اور تخصیص کی منظور شدہ ڈیمانڈ کے اندر دی جائے گی جو کہ ایک سربراہ اکائونٹ سے دوسرے سربراہ اکائونٹ کو فراہم کی جائے گی۔ملکی مسائل اور حکومتی معاملات ومسائل کا ایک جائزہ لیا جائے تو اس وقت جہاں داخلی سیاسی انتشار اور اس سے پیدا شدہ حالات ہیں ان کے معاشی و اقتصادی مسائل اور بیرونی قرضوں کے حصول میں رکاوٹ ہونے کے علاوہ جو سب سے بڑا اور گھمبیر مسئلہ درپیش ہے وہ مالیاتی اور معاشی ابتری ہے دیکھا جائے توپاکستان کی معیشت اور مالیاتی معاملات کاحکومتی فیصلوں ‘ شاہ خرچیوں اور بیرو کریسی کی تعیشات کے ساتھ ساتھ کہیں نہ کہیں کسی نہ کسی طرح تعلق داخلی معاملات سیاست اور حکمرانی سے بھی جڑے ہوئے ہیں یہی وجہ ہے کہ جب ایک خاص انداز کے معاملات درپیش ہوں تو تمام تر اقدامات کے باوجود ڈالر کا ریٹ قابو میں نہیں آتا جیسے ہی دوسرے سمت کی ہوا چل پڑتی ہے ڈالر سرنگوں ہونا شروع ہوجاتا ہے اس وقت ڈالر کی قیمت کا تیزی سے زوال پذیر ہونا کسی بڑی اور قابل ذکر معاشی سرگرمی اور تبدیلی سے نہیں اگرچہ اسے آئی ایم ایف کے قرضوں کی قسط سے جوڑا جا رہا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ آئی ایم ایف سے سلسلہ جنبانی تو کافی عرصے سے جاری تھااس کے باوجود آخر کیا وجہ ہے کہ ڈالر کی قیمت میں کمی اور روپے کی قدر میں واضح نمایاں اور قابل ذکر اضافہ ہونے لگا ہے اس کی وجہ معاشی اقتصادی اور مالیاتی سے زیادہ سیاسی نظر آتا ہے شایداس کی وجہ یہ ہو کہ ملک کا کاروباری طبقہ ایک خاص ماحول دیکھنے کی خواہاں ہے جیسے ہی اس حوالے سے ان کو پیش رفت نظر آتی ہے وہ سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری اور ڈالروں میں تبدیل شدہ رقم کوواپس روپوں میں تبدیل کرتی ہے جس سے مارکیٹ میں ڈالر کی قیمت گرنے لگتی ہے غیر مستند اعداد و شمار کا اگر حوالہ دیا جائے تو یہ تعداد آئی ایم ایف کے قرضوں کی قسط کے برابر بتائی جاتی ہے جس سے قطع نظر بہرحال ڈالر کی قیمت گرانے اور سٹہ بازی کی روک تھام کے لئے اقدامات اپنی جگہ درست ہیں اس کے باوجود اسے سیاسی منظر نامہ سے جوڑنے کی گنجائش ہے ۔اس گھن چکر میں نقصان ملک و قوم کا ہی ہوتا ہے اور عوام کی پریشانی اور مہنگائی کے باعث پس جانے کی جو تکلیف دہ صورتحال ہے افسوس کہ اس کا کسی کو احساس و ادراک نہیں وطن عزیز میں سیاست اور حکمرانی اولین ترجیح اور عوام ملک و قوم شاید پہلی ترجیح نہیں ان تمام عوامل سے قطع نظر حکومت نے مالیاتی بہتری کے لئے جن اقدامات کی ٹھان لی ہے ہم سمجھتے ہیں کہ اس طرح کے اقدامات کی ضرورت کافی عرصے سے لازمی ہو گئی تھی مگر مشکل یہ تھی کہ ایک جانب ملک کے خدانخواستہ دیوالیہ ہونے کے خطرات کے پیش نظر سائرن بج رہے تھے تو دوسری جانب چادر دیکھ کر پائوں پھیلانے کی روش اختیار کرنے پر توجہ نظر نہیں آتی تھی مقررہ بجٹ سے کہیں بڑھ کر خرچ کرنا اور ضمنی بجٹ اور اضافی اخراجات کو باآسانی منوانا سرکاری اداروں میں معمولات کا حصہ بن چکا تھا جس کی روک تھام کے لئے جن ٹھوس اقدامات اور سخت مالیاتی نظم و ضبط کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اس پر توجہ کی ضرورت کا اب احساس ہونے لگا ہے دیر آید درست آید کے مصداق توقع کی جانی چاہئے کہ وفاقی حکومت مرکزی سطح پر اور صوبائی حکومتیں صوبائی سطح پر سخت مالیاتی نظم و ضبط کو یقینی بنائیں گی اور حکومتیں نہ صرف خود وزارتوں اور محکموں کی سطح پر بلکہ حکمرانان وقت خود بھی عملی مثالیں پیش کرکے بیورو کریسی کو بھی پابند بنائیں گی کہ کسی طور بھی مالیاتی نظم و ضبط کے اصولوں کی خلاف ورزی نہ ہونے پائے ۔ سخت مالیاتی نظم و ضبط اور سرکاری رقم کے جائز اور درست وباکفایت استعمال کے بعد ہی مالی مشکلات سے نکلنے کا راستہ مل سکتا ہے ۔

مزید دیکھیں :   شہباز گل اور پاکستان