مشرقیات

یوم آزادی کے موقع پر آزاد خیالوں کی آزاد خیالی کا مظاہرہ ہوتا ہے معلوم نہیں کہ اسے کیا نام دیا جائے ٹک ٹاک کی ٹھیک ٹھاک آزادی کے مدعوئین نے ٹھیک ٹھاک آزادی کا جو مظاہرہ کیا اس کا تحرک تلاش کیا جائے تو یہ آبیل مجھے مار ہی پر منتج ہوگا اب اکھاڑے میں اتر کر کوئی بیل کو سرخ رومال دکھائے تو بیل نے تو مارنا ہی مارنا ہے ۔ بیل کو مارنے کی دعوت دے کر کھلاڑی اسے کتنا غچہ دے جاتا ہے یہ کھلاڑی کا کمال ہوتا ہے بعض اوقات کھلاڑی کے جتن الٹے پڑ جائیں تو جس بیل کو مارنے کی انہوں نے خود دعوت دی ہوتی ہے وہ بھی آزادانہ حملہ آور ہوتا ہے یوم آزادی پر ٹک ٹاک کے منظر میں ٹھیک ٹھاک اور آزادانہ کیا ہوا اس طرح تو ہوتا ہے اس طرح کے کاموں میں چودہ اگست کو یوم آزادی کے موقع پرتقریباً ہر سال حیات آباد میں ترنگا لہرا کر جس ترنگی کا مظاہرہ کیا جاتا ہے معلوم نہیں اس بار پولیس ان کی روک تھام کے لئے سنجیدہ اقدامات پر توجہ دے رہی ہے کہ نہیں مگر افغانستان کی یوم آزادی پر وہاں جا کر آزادی منانے کی بجائے حیات آباد کی سڑکوں پر کوئی گالی دے اور اپنی سرزمین پر ترنگا کی جگہ سفید پرچم لہرانے کا غصہ کوئی ہم پراتارے یہ قابل برداشت امر نہیں جس پر چم کو ایک آزاد ملک کی سرزمین پر اس مہمان ملک کو مطعون کرتے ہوئے کوئی اپنی ذات کا مظاہرہ کرے ان کو تو گھیسٹ کر طورخم بارڈر کے اس پار پھینک دینا چاہئے ہر سال کی طرح اس سال بھی اس بدتمیزی کا مظاہرہ کیا گیا تو پولیس اور انتظامیہ اس کی ذمہ دار ہو گی ہم نے قبل از وقت آگاہ کر دیا اب اقدامات کرنے کی ذمہ داری ان کی ہے جوخود اپنے وطن کے نہیں اور جب بھی موقع ملتا ہے اپنے ہی وطن سے بھاگنے کی فکر اور جتن میں ہوتے ہیں وہ ہمارے وطن کو برا بھی سمجھیں اور پھر یہیں پر ہی ڈیرے ڈالے رہیں ایک نسل ضعیف دوسری نسل جوان ہوجائے اور پھر بھی اس طرح نفرت کا کوئی اظہار کرے کیا کیا جائے سوائے افسوس کے کہ سانپ کو سالوں دودھ پلائو اس نے ڈسنا ہی ہے بچھو کی فطرت ڈنک مارنے کی ہوتی ہے اس طرح کے لوگ بھی ہوتے ہیں جن کو اپنے وطن کو چھوڑنے کی اتنی جلدی ہوتی ہے کہ ان کے آقا اپنے کتے تو ساتھ لے گئے مگر ان کو دھتکار گئے کرنا بھی ایسا ہی چاہئے تھا اس کا غصہ بھی وہ پاکستان کی سڑکوں پر نکالتے ہیں۔سوشل میڈیا پر ایک مرتبہ پھر ”کلہ بہ زے” کا ٹرینڈ چلنا چاہئے۔آزادی بڑی نعمت ہے لیکن آزادی کا یہ مطلب نہیں کہ سارے خدوخال کی ایسی نمائش کی جائے کہ باقی کچھ بچے نہ آزادی کا مطلب مادر پدر آزادی نہیں اور نہ ہی آزادانہ میل ملاپ ہے آزادی اگر حد سے بڑھ جائے تو پھر اگلوں کی آزادانہ یلغار کوکون روک پائے گا اس طرح جو لوگ سڑکوں پر اپنی آزادی کو دوسروں کے لئے باعث عار بنائیں گے اور اپنی مرضی کا اظہار دوسروں کی مٹی میں اس مٹی سے نفرت کا اظہار کرتے کیا جائے گا تویہ ہر گز ہر گز قابل برداشت نہ ہو گا۔

مزید دیکھیں :   اختلافات میں اعتدال کی راہ