افسوسناک پروپیگنڈا

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل بابر افتخار نے کہا ہے کہ لسبیلہ میں ہیلی کاپٹر حادثے کے بعد سوشل میڈیا پر چند لوگوں نے غلط قسم کا پروپیگنڈا کیا، تضحیک آمیز اور غیر حساس تبصرے شروع کر دیے جو انتہائی تکلیف دہ ہے، بے حسی کا رویہ ناقابل قبول ہے اور ہر سطح پر اس کی مذمت کی جانی چاہئے۔انہوں نے کہا کہ اسی لئے ہم نے اس حوالے سے پریس ریلیز جاری کی ہے کہ بے حسی کا رویہ ہرگز ناقابل قبول ہے اور ہر سطح پر اس کی مذمت کی جانی چاہیے۔افغانستان میں القاعدہ سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت کے حوالے سے سوشل میڈیا پر چلنے والی مہم پر بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ’وزارت خارجہ نے اس حوالے سے مکمل طور پر وضاحت کر دی ہے کہ اس میں دوسری کوئی شک والی بات نہیں ہے، سوال ہی پیدا نہیں ہوتا کہ پاکستان کی سرزمین اس قسم کی چیز کے لئے استعمال ہوئی ہو’۔انہوں نے کہا کہ ‘ہمیں قیاس آرائیوں اور اس طرح کی چیزوں سے اجتناب کرنا چاہیے، جس کے دل میں جو آتا ہے وہ سوشل میڈیا پر لکھ دیتا ہے، خاص طور پر دشمن ممالک کی طرف سے یہ چیزیں فیڈ کی جاتی ہیں، ہم پہلے بھی کئی بار ففتھ جنریشن وار فیئر کی بات کرچکے ہیں۔ان کا کہنا تھا کہ اس سے نقصان صرف اپنے ملک اور قوم کا ہوتا ہے۔پاک فوج کو تضحیک کا نشانہ بنانے والوں میں سے بعض افراد کی گرفتاریاں بھی کی گئی ہیں ایک سیاسی جماعت کے طلبہ ونگ کے عہدیدار اور ان کے والد کا اعترافی بیان اور معافی کی درخواست کی ویڈیو بھی آچکی ہے علاوہ ازیں بھی اس وقت ملک میں بعض عناصر کی فوجی قیادت پرتنقید کا سلسلہ کوئی پوشیدہ امر نہیں اور یہ افسوسناک سلسلہ کچھ عرصہ سے جاری ہے جس میں حالیہ دو واقعات کو لیکر تیزی آگئی ہے۔ ان عناصر کی گرفتاری اور اعترافی بیان کے بعد اس کے پس پشت افراد کے حوالے سے اب کوئی غلط فہمی تو باقی نہیں رہی سوائے اس کے کہ اس میں ملوث جذباتی نوجوان کسی بہکاوے میں آئے ہوں گیایسالگتا ہے کہ شہدائے وطن اور مسلح افواج جیسے ادارے کی ساکھ پر حملے کے مرتکب عناصر کسی خاص مقصد کے تحت ایسا کر رہے ہیں جس کا مقصد سوائے اس کے کیا ہو سکتا ہے کہ ملک میں فوج کے خلاف نفرت پیدا کی جائے اور اسے ہوا دے کر عدم استحکام پیدا کیا جائے ان عناصر کے پس پردہ مقاصدجو بھی ہوں اس کا بالاخر مقصد عدم استحکام کو ہوا دے کر دشمن کے ایجنڈے کی تکمیل ہی ٹھہرتا ہے ۔یہ پروپیگنڈہ اس قدر شدت سے کیا گیا کہ اس کے باعث مسلح افراد کے سپریم کمانڈر اور صدر مملکت شہداء کے جنازے میں بھی شریک نہ ہو سکے ممکن ہے اس کی دیگر وجوہات بھی ہوں گی لیکن خیال کیا جاتا ہے کہ بڑی وجہ پروپیگنڈہ ہی تھا اس ضمن میں خود پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے
کہ میری شہیدوں کے جنازے میں عدم شرکت کو غیر ضروری طور پر متنازع بنایا جا رہا ہے۔ تمام خاندانوں کو اپنے شہدا پر ہمیشہ فخر ہوتا ہے، لیکن ہم سب اس دنیا میں غمگین اور ذاتی نقصان کو تسلیم کرتے ہیں۔خصوصی طور پر ان شہدا کے اہل خانہ سے تعزیت کرنا نہایت مشکل کام ہے جہاں ان کے لواحقین میں چھوٹے بچے ہوں۔ڈاکٹر عارف علوی نے کہا کہ مجھے اس بات پر کوئی شبہ نہیں کہ پاکستان ان کی لازوال قربانیوں کی وجہ سے ہی محفوظ ہے اوریہی بات میرا پاکستان پر فخر مزید بڑھاتی ہے۔ پاکستان ہمیشہ زندہ اور پائندہ رہے گا۔صدر مملکت کے بیان سے صورتحال اگر پوری طرح واضح نہیں تو کم از کم اس بات کا اندازہ ضرور ہوتا ہے کہ ان کی شرکت میں مشکلات اور رکاوٹیں کیا تھیں جملہ حالات سے قطع نظر من حیث المجموع شتر بے مہار سوشل میڈیا کے حوالے سے اب کوئی سنجیدہ اور ٹھوس پالیسی تشکیل دینے اور بے نامی و گمنام اکائونٹس کا پتہ لگانے اور ان کے ذریعے پروپیگنڈہ کرنے والے عناصر کو نکیل ڈالنے کی ضرورت ہے ماضی کی غلطیوں کا یہ جادو اب سر چڑھ بولنے لگا ہے اس طرح کے عناصر کی سرپرستی کرنے والے عناصر کو اس بات کا بہرحال جائزہ لینے کی ضرورت ہے کہ ان عناصر کے پروپیگنڈے سے ملک و قوم اور عسکری اداروں ا ور دیگر افراد کو کس طرح کے حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سے قطع نظر یہ نامناسب عمل خودان کے لئے کس قدر خجالت کا باعث بن سکتا ہے پروپیگنڈہ میں ملوث عناصر کے روابط پوشیدہ رہ سکتے ہیں اور نہ ہی ان کا کھوج لگانا زیادہ مشکل ہے کم از کم ملک کے اندر پروپیگنڈے کا کھوج لگانا اور ان عناصر تک پہنچنا ناممکن امر نہیں ان کی گرفتاری سے پس پردہ عناصرکے چہرے سے خود ہی نقاب اتر جاتا ہے یہ ایک کار لاحاصل اور گناہ بے لذت ہے لیکن اس کاکسی کو ادراک نہیں اس سے نہ صرف اداروں اور افراد کی عزت محفوظ نہیں بلکہ معاشرے میں گالم گلوچ ‘ بہتان طرازی اور انتشار پھیل رہا ہے ہماری نوجوان نسل پر خاص طور پر اس کے منفی اثرات پڑ رہے ہیں بنا بریں جہاں ان عناصر اور ان کے سرپرستوں کو ہوش کے ناخن لینے چاہئیں وہاں کی بورڈواریئرز کو بے نقاب کرنے کے لئے ہر سطح پر ادارہ جاتی تعاون اور مربوط و ٹھوس اقدامات کے ذریعے سائبر وار کا مقابلہ اور اس کا توڑ بلکہ ان کی بیخ کنی ہونی چاہئے ۔ سکولوں کالجوں اور جامعات میں طالب علموں کو سوشل میڈیا کو مثبت انداز میں استعمال کی خصوصی تربیت کا اہتمام ہونا چاہئے اور اس کے منفی استعمال کی روک تھام کے لئے تکنیکی اور ذہن سازی ہر دو سطح پراقدامات کی ضرورت ہے ۔ ملک میں سماجی ہم آہنگی اور عزت و احترام کی فضا کو فروغ دینے کی سنجیدہ مساعی کے ذریعے بھی پروپیگنڈہ کرنے والوں اور منفی طور پر استعمال ہونے والوں کو لگام دینے کی سعی ہو سکتی ہے ۔ قوم جس طرح پہلے ہر مشکل مرحلہ پر پاک فوج اور خاص طور پر شہداء کے خاندانوں کے ساتھ کھڑی ہے اور قوم ان شہداء اور
ان کے خاندانوں کی شکر گزار ہے جنہوں نے اپنی جانوں کی پرواہ کئے بغیر قومی جذبے کے ساتھ اپنی خدمات کی انجام دہی کے دوران شہید ہوئے ۔ شہداء کی قربانیاں ناقابل فراموش اور انمول ہیں جن کا احترام و تکریم اور اس کا اعتراف ہر محب وطن پاکستانی کا فرض ہے جس میں کوتاہی کی گنجائش نہیں۔

مزید دیکھیں :   اختلافات میں اعتدال کی راہ