گربہ کشتن روز اول

خیبر پختونخوامیں تیرہ سال بعد کسی تھانے پر شدت پسندوںکے حملے کا واقعہ پیش آیا ہے اس کے ساتھ ساتھ سوات ‘ باجوڑ ‘ دیر اور شمالی وزیرستان میں اچانک شدت پسندی کے واقعات اور شدت پسندوں کی آمدوموجودگی اور ان کی کارروائیوں ٹارگٹ کلنگ کے واقعات بھتہ خوری اور ماضی کے مماثل واقعات پیش آنے لگے ہیں یہ ساری صورتحال طالبان سے افغانستان میں علماء کے وفد کی ملاقات اور پیغام رسانی ومعاملت کے بعدپیدا ہونا باعث تعجب امر ہے قبل ازیں بھی جرگہ کابل میں ٹی ٹی پی سے مذاکرات کرکے لوٹ چکا تھا اول الذکر اور موخر الذکر دونوں ہی امن کا سندیسہ نہ لاسکے بلکہ طالبان کے قبائلی اضلاع بارے نامناسب اور سخت موقف ہی کا عندیہ دیا گیا البتہ علماء وفد کی جانب سے مستقل فائر بندی یعنی مذاکراتی عمل کے دوران غیر معینہ مدت کے لئے فائر بندی پر اتفاق کا مژدہ سنایا گیا تھا اس دوران ٹی ٹی پی کے سخت گیر رویہ اختیار کرنے والے سرکردہ رہنما اور ان کے ساتھیوں کو افغانستان میں ایک نصب دھماکہ خیز مواد کا نشانہ بننے کا واقعہ ہوا جس کے بعد اچانک سے شدت پسندوں کاظہور ہوا اور صوبے میں اچانک حالات خراب ہونے کے واقعات رونما ہوئے۔اس صورتحال کے تناظر میں اگر صوبے کی سطح پر سول انتظامیہ اور حکومت کے کردار کا ایک طائرانہ جائزہ لیا جائے تو حکومت کا رویہ لچکدار نظر آتا ہے اور ایک بڑے واقعے کے باوجود حکومت کی جانب سے سرکاری سطح پر اور علی الاعلان کسی بڑے قدم کی تیاری کی کوئی اطلاع نہیں بلکہ ایک دوبڑے واقعات کے باوجود اس ضمن میں مصلحت سے کام لیا جارہا ہے صوبائی حکومت کے ترجمان بھی صورتحال کو شدید نوعیت کا نہیں سمجھتے بلکہ جزوی طور پر صورتحال کو تسلیم کر رہے ہیں ۔دریں اثناء ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان(ایچ آر سی پی) نے خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے بڑھتے واقعات پر تشویش ظاہر کی ہے ایچ آر سی پی نے اپنے بیان میں کہا کہ خیبر پختونخوا میں دہشت گردی میں قیمتیں جانیں ضائع ہوئیں اور لوگ صدمے کا شکار ہوئے ایچ آر سی پی کے مطابق ریاست کو محض دعوئوں کے بجائے حقیقی طور پر دہشت گردی پر قابوپانے کی پالیسی پر عمل پیرا ہونا گاہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان کا یہ بیان حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہے ان کی تشویش بے جا نہیں بلکہ حالات کے مطابق رد عمل ہے امر واقع یہ ہے کہ ماضی کے دوقبائلی علاقے باجوڑ اور میرانشاہ جبکہ بندوبستی اضلاع سوات اور دیر ‘ بونیر کے علاقے پہلے بھی اس طرح کی صورتحال سے دو چار رہے ہیں اور اب معاملہ ایک مرتبہ پھر معکوس صورت میں نظر آتی ہے اور وہ حالات و واقعات بن رہے ہیں جو قبل ازیں شدت پسندی کے سر اٹھانے کے دنوں میں سامنے آئے تھے اب تو باجوڑ اور میرانشاہ قبائلی اضلاع میں شمار نہیں ہوتے بلکہ بندوبستی اضلاع بن چکے ہیں اور وہاں کے حالات میں تبدیلی آئی ہے لیکن اگر کوئی چیز عود کر آئی ہے تو وہ تیرہ سال قبل کے واقعات کے مماثل حالات ہیں جو واقعہ مٹہ سوات میں پیش آیا اس سے واضح طور پر اس امر کا اظہار ہوتا ہے کہ پراسرار طور پر عدم پتہ ہونے والے عناصر ایک مرتبہ پھر پراسرار طورپر سامنے آگئے ہیں اس سارے عرصے میں وہ کہاں روپوش رہے افغانستان چلے گئے تھے یا پھر یہیں پر کہیں زیر زمین چلے گئے تھے بہرحال اب وہ ایک مرتبہ پھر نہ صرف سامنے آئے ہیں بلکہ انہوں نے اپنی کارروائیاں بھی شروع کر دی ہیں جس سے صوبے میں امن و امان کے لحاظ سے تشویشناک صورتحال کی نشاندہی ہوتی ہے عدم تحفظ کا احساس بڑھ جانے پر دیر کے عوام نے باقاعدہ سڑکوں پر نکل کر احتجاج کیا ہے جبکہ میرانشاہ ‘ میر علی اور شمالی وزیرستان میں عوام کی بڑی تعداد پہلے ہی صورتحال پر عدم اعتماد کا اظہار کرتی آئی ہے ٹارگٹ کلنگ کے مسلسل واقعات کی روک تھام میں بے بسی کا علاقہ وہاں انتظامیہ نے کھلے بندوں اعتراف بھی کیا ہے اس ساری صورتحال میں سول انتظامیہ کامتحرک نظر نہ آنا اور خاموشی اختیار کرنا سمجھ سے بالاتر امر ہے صورتحال کو اگر سول انتظامیہ کنٹرول نہ کر سکی یا وہ اس کی طاقت نہیں رکھتی تو لامحالہ فوج کو صورتحال سنبھالنے کے لئے ایک مرتبہ پھر تیرہ سال بعد دوبارہ سے اس طرح متحرک ہونے کی ضرورت پڑے گی جس طرح قبل ازیں حالات سنبھالنے کے لئے جدوجہد اور قربانیاں رقم ہو چکی ہیں۔صوبائی حکومت کے ترجمان کا جزوی طور پر صورتحال کو تسلیم کرنا کافی نہیں بلکہ ان کو پوری طرح صورتحال کی سنگینی کی سمجھ آجانی چاہئے اس کا اعتراف کافی نہیں بلکہ حفظ ماتقدم کے طور پر فوج کی مدد اور خدمات کی ضرورت کا اظہار کیا جانا چاہئے اور عسکری قیادت کو اعتماد کے ساتھ صورتحال سنبھالنے کے لئے آگے آنے کا موقع فراہم کرنے کی ضرورت ہے تاخیر کی صورت میں ماضی اپنے آپ کو دہرا سکتی ہے اور بعد از خرابی بسیار کے کسی نتیجے پر پہنچنے سے بہتر ہو گاکہ گربہ کشتن روز اول کے محاورے کے حالات کے مطابق قدم اٹھانے میں تاخیر نہ کی جائے تاکہ یہ سیلاب کی صورت اختیار نہ کر سکے اور ابتداء ہی میں محدود اور کم علاقے میں ان عناصر کو محدود کرکے ان کا صفایا کرنے کی ذمہ داری نبھائی جائے ۔ اگر وہ فائر بندی پر قائم رہنے پر اصرار کریں تو پھر محولہ واقعات سے صرف نظر کرتے ہوئے ان سے فائر بندی اور اس طرح کے واقعات سے دور رہنے کی ضمانت حاصل کی جائے جوبھی موزوں ہو اس سمت ٹھوس اور واضح قدم اٹھانے کی ضرورت ہے نیم دلی کا مظاہرہ اور اعتماد کی کمی کا مظاہرہ کیا گیا تو اس کے نتائج خدانخواستہ خوفناک ہو سکتے ہیں جس کا ایک بار پھر متحمل نہیں ہوا جا سکتا۔

مزید دیکھیں :   اختلافات میں اعتدال کی راہ