ہائے زود پشیماں کا پشیماں ہو نا

پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین اور سابق وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ خطرناک سازش ہے کہ ملک کی سب سے بڑی جماعت کو فوج کے ساتھ لڑا دیا جائے۔ توشہ خانہ کیس میں وزرائے اعظم، آرمی چیف سمیت سب کو تحائف ملتے ہیں، ان سب کی تحقیقات ہونی چاہیے۔مخالفین پلاننگ کر رہے ہیں تحریک انصاف کو کمزور کیا جائے اس کے بعد نوازشریف آئے اور پھر الیکشن کروا دیئے جائیں ۔ بدھ کے روز نیوز کانفرنس کرتے ہوئے سابق وزیراعظم نے کہا ہے کہ بیرونی سازش کو میر جعفر ، میرصادق نے کامیاب کرایا، مجھے اقتدارسے ہٹانے پربھارت،مغرب میں خوشیاں منائی گئیں، خوفناک سازش کا پلان ہے فوج کیساتھ ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کو لڑایا جائے۔ اس پلان کے تحت تحریک انصاف کوفوج کے ساتھ لڑا دیا جائے، بھارت کو سب سے زیادہ تکلیف ہماری حکومت اورفوج کا ایک پیج پرآنے پرتھی، ڈس انفولیب کے ذریعے پاکستان کے خلاف بے بنیاد پروپیگنڈا کیا گیا۔پریس کا نفرنس میں حسب سابق اپنی مخالف جماعتوں کو بھی ہدف تنقید بنایا اور اپنی بات کو جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ممبئی حملوں کے دوران آصف زرداری نے بیان دیا پاکستان کے ڈی جی آئی ایس آئی کو ممبئی بھجوایا جائے، زرداری نے امریکیوں کو کہا ہمیں فوج سے بچاؤ، ممبئی حملوں پرنوازشریف نے حملہ آور کا نام بتایا وہ پاکستانی ہیں، ڈان لیکس میں کہا گیا پاکستانی فوج دہشت گردی میں ملوث ہے، بھارت راحیل شریف کو دہشت گرد کہا نواز شریف نے اسی مودی کو شادی پربلایا، آج یہ لوگ ہمیں کہہ رہے ہیں ہم غدارہیں، ان کی کرپشن، چوری کی بیرون ملک ڈاکیو منٹری چلی، آج محب وطن اور ہم غداربن گئے ہیں، یہ سازش بہت خطرناک ہے ملک کی بڑی جماعت کوفوج کے ساتھ لڑادیا جائے۔ میری پارٹی کے پاس سب سے زیادہ ووٹ بینک ہے ۔ صافی دانشور قلقلا خان کا کہنا ہے کہ چیئرمین پی ٹی آئی کے کہے پر کئی سوال اٹھتے ہیں تاہم ان کی اس بات کو تسلیم نہیں کیا جا سکتا کہ ان کی پارٹی ملک کی سب سے بڑی سیا سی جماعت ہے البتہ یہ مانا جا سکتا ہے کہ وہ ملک کا سب سے بڑا عمر ان خان شیدائی (فین ) کلب ضرور ہے ، کیو ں کہ ان کے شیدائی یہ نہیں جا نتے کہ پی ٹی آئی کا منشور ومقاصد کیا ہے ، اس کے باوجو د کہ ممنوعہ فارن فنڈنگ کیس میں سب کچھ کھل گیا ہے ، برطانوی اخبار فنانشیل ٹائمز نے سب کچا چھٹا بیان کردیا ہے ، فنانشیل ٹائمز کے الزاما ت کے جواب میں انھو ں نے کوئی نہ تو کوئی تبصرہ کیا نہ ہی اخبار کو لیگل نو ٹس دیا ، اورنہ برطانیہ کی عدالت میں ان الزاما ت کے خلاف ہتک عزت کا دعویٰ کیا ، اسی طرح امریکا کی ایک عدالت میں بیٹی ٹریان کی والدہ کے ایک مقدمے میںمطلو ب ہیں اس لیے وہا ں بھی رخ نہیں کر سکتے اس کے باوجو د یو تھئیے شدائی عمر ان خان کو صادق امین سمجھتے ہیں اگر بابارحمتے کی عدالت خدا نخواستہ خائین قرار دیتی تب بھی یو تھیئے صادق امین کی حیثیت سے وہ دلو ں میں بستے ، یوتھئیوں کی حیثیت ان پروانو ں جیسے ہے جو شمع کی لو کے آگے یہ جانتے ہوئے بھی کہ اس کی لپٹ میں آجا نے سے جل کر بھسم ہو جانا ہے پھر بھی چار سو رقص کنا ں رہتے ہیں چنا نچہ قلقلا خان کے بقول پی ٹی آئی کے سب سے بڑی سیا سی جماعت ہونے کا دعویٰ درست نہیں ہے ، ویسے عمر ان خان ہر روز نئے جامے میں پرانا بیانیہ لپیٹ لپٹا کر پیش کردیتے ہیں اس مرتبہ بھی انھو ں نے کچھ ایسا ہی کیا ہے کہ فرما دیا ہے کہ خوف ناک سازشی پلان کے تحت فوج کو ملک کی سب سے بڑی سیا سی جماعت کو لڑانے کی سعی ہورہی ہے ان کاکہنا ہے کہ اس پلا ن کے تحت تحریک انصاف کوفوج کے ساتھ لڑایا دیاجائے ، اس خوف نا ک پلا ن کے ذکر سے پہلے موصوف نے یہ فرمایا کہ بیرونی سازش کو میر جعفر ، میر صادق نے کا میا ب کر ایا ، مجھے اقتدار سے ہٹانے پربھارت مغرب میں خوشیاں منائی گئیں ، گویا ہنو ز وہ بیر ونی ساز ش اور میر جعفر اور میر صادق کا بیانیہ پکڑے ہوئے ہیں ، یہ میر جعفر اور میر صادق کون ہیں کھل کر بات کیو ں نہیں کرتے ، کیا انھی میر جعفر اور میر صادق نے ان کے بنی گالہ ہیڈ کوارٹر کے چیف آف اسٹاف شہباز گل کو بہلا پھسلا کر وہ بیان جا ری کر وایا جس کی پوری قوم مذمت کررہی ہے ، پھر ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ اگر شہبا ز گل نے کچھ غلط کہا ہے تو قوانین موجو د ہیں اس کے تحت کا رروائی کی جا ئے ، جب شہبا ز گل کو گرفتار کیا گیا تو ان کے بعض پارٹی لیڈروں نے بھی انھی کی طر ح بیانیہ دیا کہ شہبا ز گل کو ساد ہ کپڑوں میں ملبوس افراد گھسیٹ کر دوسری گاڑی میں بیٹھا کر لے گئے ہیں لیکن سی سی ٹی وی کیمروں نے سچ کا سارا پول کھول دیا کہ شہباز گل کی گرفتاری کسی غیر قانونی عمل کے تحت نہیں لائی گئی ہے ، پی ٹی آئی کی طرف سے شہباز گل کے بیانیہ کے بارے میںکوئی پارٹی پالیسی بیان نہ تو عمر ان خان کی طرف سے آیا اور نہ کسی بڑے کی طرف سے تاہم عمر ان خان کا پریس کا نفرنس میں یہ کہنا کہ اگر شہبا زگل نے غلط کہا ہے تو قانون مو جو د ہیں ، چیئرمین پی ٹی آئی کی بات سے یہ احسا س اجا گر ہو تا ہے کہ وہ شہباز گل کے بیانیہ کو غلط تسلیم نہیں کرتے ، اسی لیے قانو ن کو روبہ عمل لانے کا مطالبہ کررہے ہیں ،انھیں شاید یہ احسا س نہیں کہ جن قوانین کا وہ ذکر کررہے ہیں انھی قوانین کو بہ روکا رلایاگیا ہے کوئی غیر قانونی عمل نہیں کیا گیا ہے جیسا کہ پی ٹی آئی کی حکومت میں صحافیو ں کو دن دھاڑے لاپتہ افراد کے ذریعے اٹھا کرلا پتہ کر دیا جا تا تھا ، قانون کے مطا بق چوبیس گھنٹوں میں انھیں عدالت میں بھی پیش کردیا گیا ، دانشور قلقلا خان کا کہنا ہے کہ دراصل پی ٹی آئی کا پانی مانپا جا چکا ہے اب سے میں ابال نہیں آنے کا بلبلے ہی پھوٹتے ہی رہیں گے وہ بھی جلد بیٹھ جائیں گے ، اگر دیکھاجائے تو پی ٹی کے کسی مئوقف میں یکسوئی نظر نہیں آتی قوم اسمبلی سے استعفوں کا اعلا ن اس لیے کیا کہ وہ امپورٹڈ حکومت کے ساتھ اسمبلی میں بیٹھنے کو تیار نہیں سینٹ میں بیٹھے ہوئے ہیں شاید وہا ں امپورٹڈ حکومت موجو د نہیں ہے ، قومی اسمبلی سے اجتما عی طور پر مستعفی ہوئے لیکن اسی اسمبلی میں اپنی خالی کردہ نشستوں پر ضمنی الیکشن بھی لڑنے کو تیار ہیں ، اب تو زود پشیمانی بھی پشیمانی نہیںرہی ہے ۔

مزید دیکھیں :   سول ملٹری تعلقات،ایک نیا آغاز وقت کا تقاضا