مشرقیات

ایک دوست سے ملاقات ہوئی وہ انتہائی افسردہ لگ رہا تھا میرے بار بار استفسار پر اس نے مجھے اپنے افسردہ ہونے کی وجہ بتا یا کہ صبح دفتر جاتے ہوئے وہ حسب معمول اپنے گھر سے نکلا اور ابھی اپنی گلی سے نکلا ہی تھا کہ دو موٹر سائیکل سوار آئے اور گن پوائنٹ پر موبائل اور پرس(بٹوا) چھین لیا۔ رقم کے لٹنے کا اور موبائل کے کھونے کا اسے افسوس اتنا نہیں ہوا جتنا کہ پرس میںموجود مختلف کارڈز اور موبائل میں موجود دوستوں کے نمبر اور بہت قیمتی تصاویر تھیں۔ کارڈز میں قومی شناختی کارڈ، ڈرائیونگ لائسنس، اے ٹی ایم کارڈ اور کچھ دیگر کارڈ تھے اب ایک ایک کارڈ کے لئے ایک تھکا دینے والا مرحلہ طے کرنا پڑے گا اور اسی طرح موبائل فون میں دوستوں اور کاروباری لوگوں کے نمبر کھو جانے سے بہت بڑا نقصان ہوگیا اب یہ سارے نمبر دوبارہ سے جمع کرنا تقریباً ناممکن ہے۔ مزے کی بات تو یہ بھی ہے کہ میں انٹرنیٹ پر دنیا بھر کے مختلف اخبارات و ٹی وی چینلز کی خاص خاص یا دلچسپ خبریں دیکھ رہا تھا تو میری نظر اس خبر پر پڑی کہ برطانیہ کے شہر آکسفورڈ میں ایک چور پکڑا گیا ہے کہ جس نے پانچ سو سائیکلیں چوری کیں اور جن کی سائیکل چوری ہوتی وہ تھانہ جاکر رپٹ لکھواتااور پاکستان کی طر ح برطانوی شہری کو بھی انتظار کا لالی پوپ دے کر گھر بھیج دیا جاتا اس سے بھی مزے کی بات یہ ہے کہ کئی بار اس54سالہ برطانوی چور کوبھی نامزد کیا گیا لیکن عدم ثبوت کی بنیاد پر کبھی بھی اس پر ہاتھ نہیں ڈالا جاسکا لیکن اس کی قسمت خراب تھی کہ ایک دن سیٹلائیٹ پر دیکھا گیا کہ اس کے گھر کے لان میں بہت زیادہ سائیکلیں پڑی ہیں اور پھر چھاپہ مار کر ساری کی ساری سائیکلیں برآمد کرلی گئیں۔ یہاں یہ بتا تا چلوں کہ برطانیہ میں سائیکل چوری کی یہ واردات پہلی بار نہیں ہوئی بلکہ برطانیہ میں سائیکل کی چوری عام سی بات ہے اور پھر اس کے شہر آکسفورڈ برطانیہ کا دوسراشہر ہے کہ جہاں سے بہت زیادہ سائیکلیں چوری ہوتی ہیں۔ 2018ء میں اس شہر سے 1816سائیکلیں چوری ہوئیں اور 2019ء میں734سائیکلیں چوری کی گئیں2020اور 2021ء میں چوری کی تعداد میں ذرا کمی اس وجہ سے آئی کہ کرونا کی وجہ سے لوگوں کے آنے جانے پر پابندیا ں تھیں اور مزے کی بات یہ ہے کہ یہ اطلاع بھی اخبار کو پولیس نے ہی فراہم کی ہے پولیس نے عوام کو یہ صلاح بھی دی ہے کہ یہ چوریاں اس وجہ سے ہورہی ہیں کہ ان کی سائیکل کو جو تالہ لگاہوتاہے وہ اچھے معیار کا نہیں ہے لہٰذا عوام اچھے معیار کا تالہ استعمال کریں۔ اور آخری بات پڑھ کر تو ہوسکتے ہیں کہ آپ لوٹ پوٹ ہی جائیں کہ سال بھر کی محنت سے برطانوی پولیس نے صرف اور صرف 22سائیکلیں ہی ڈھونڈ سکیں ان میں سے بھی زیادہ تر سائیکل کے مالکوں نے خود ہی ڈھونڈیں اور پھر پولیس کو بتادیں۔پاکستان میں خیر سے کوئی چیز چوری ہوجائے تو اول اول برآمد نہیں ہوتی اوراگر برآمد ہو بھی جائے تو مالک کی نہیںپولیس کی ہوتی ہے پولیس کی نہ ہو تو موٹرسائیکل اور گاڑی ہونے کی صورت میں سپرداری پر اپنوں اور ہمارے صحافیوں کو دے دی جاتی ہے کیونکہ یہ پشاور ہے لندن نہیں۔

مزید دیکھیں :   سیلاب سے متاثرہ علاقوں کا سروے کرنے میں تاخیر