نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور

نیشنل ہاکی سٹیڈیم لاہور میں پی ٹی آئی کا جلسہ روکنے کی استدعا مسترد

لاہور ہائی کورٹ کی جانب سے نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کا جلسہ روکنے کی استدعا مسترد کردی گئی۔
ویب ڈیسک: لاہور میں واقع نیشنل ہاکی اسٹیڈیم میں پی ٹی آئی کا جلسہ رکوانے کے لیے دائر درخواست پر لاہور ہائی کورٹ میں سماعت ہوئی۔جسٹس مزمل اختر شبیر نے پاکستان مسلم لیگ (ن) کے رہنما اور وزیر اعظم کے معاون خصوصی عطااللہ تارڑ سمیت دیگر کی جانب سے دائر درخواستوں پر سماعت کی۔
درخواست گزار کے وکیل بیرسٹر حسنین نے عدالت میں دلائل دیے کہ پی ٹی آئی نے جلسے کے لیے ڈپٹی کمشنر سے رجوع کیا اور تحریک انصاف کو لاہور کے ہاکی گراونڈ میں جلسے کی اجازت دے دی گئی جبکہ اسپورٹس بورڈ کے آئین کے تحت گراؤنڈ کو کسی اور مقصد کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا، گراؤنڈ میں شادی فنکشن یا سیاسی جلسے نہیں ہو سکتے.
سپورٹس بورڈ نے اجلاس کیے بغیر ہی ہاکی گراؤنڈ میں جلسے کی اجازت دے کر اختیارات سے تجاوز کیا، ہاکی اسٹیڈیم ہمارا اثاثہ ہے ، جلسے کی اجازت نہیں ہونی چاہیے۔
جسٹس مزمل اختر شبیر نے ریمارکس دیے کہ مال روڈ بھی تو اثاثہ ہے اس پر تو آئے روز جلسے جلوس منعقد کیے جاتے ہیں۔
پنجاب حکومت کے وکیل نے جلسہ رکوانے کی درخواستوں کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ایک پر امن جلسہ ہونے جا رہا ہے جس کی آئین بھی اجازت دیتا ہے، جو آسٹروٹروف اتارا گیا ہے وہ کسی اور گراؤنڈ میں استعمال ہو گا ہاکی گراؤنڈ میں نیا آسٹروٹروف لگے گا۔
لاہور ہائیکورٹ نے عطا اللہ تارڑ سمیت دیگر کی ہاکی گراؤنڈ میں جلسہ روکنے کی استدعا مسترد کرتے ہوئے کہا کہ پنجاب حکومت یقینی بنائے کہ جلسے کے دوران کوئی نقصان نہ ہو، ہاکی گراؤنڈ میں آسٹروٹروف جلد از جلد لگایا جائے.

مزید دیکھیں :   ڈالر کو 200 روپے سے نیچے لائیں گے، وفاقی وزیر خزانہ