میثاق معیشت کی پیشکش

وزیر اعظم شہباز شریف نے قوم سے خطاب میں ایک بار پھر میثاق معیشت کو وقت کی ضرورت قرار دیتے ہوئے پیشکش کی ہے کہ تمام سیاسی جماعتیں باہم مل بیٹھیں اور اتفاق رائے سے ایسا میثاق کریں جو ملک کو معاشی بحران سے باہر نکالنے میں معاون ثابت ہو۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے حالیہ سیلاب کی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ہماری قوم ہر مقصد کو حاصل کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ انہوں نے کسی کا نام لیے بغیر کہا کہ آج قوم کو تقسیم در تقسیم اور پارہ پارہ کرنے کی ناپاک کوشش کی جا رہی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے تحریک انصاف کے سابق دور حکومت میں لیا جانے والا ملکی تاریخ کا سب سے زیادہ43ارب ڈالر قرض کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حالات میں سود کی ادائیگی بھی محال ہو چکی ہے۔ وزیر اعظم شہباز شریف نے کہا کہ آج ہمیں کھلے دل کے ساتھ اس سچائی کا اعتراف کرنا ہو گا کہ ہم نئی نسل کو وہ کچھ نہیں دے سکے جس کے وہ اصل حقدار ہیں۔
قومی وحدت کسی بھی قوم کیلئے اس کا سب سے بڑا اثاثہ ہوتی ہے۔ بد قسمتی سے ہم1971ء میں مشرقی پاکستان کی علیحدگی کی صورت قومی وحدت کو پارہ پارہ ہوتا دیکھ چکے ہیں، دوسری بار ایسے سانحے کے متحمل نہیں ہو سکتے، وزیر اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں قوم کو تقسیم کرنے کی جانب اشارہ کیا ہے، اگر سیاسی مقاصد کے حصول کیلئے کوئی لیڈر قوم کو تقسیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے تو وزیر اعظم کا منصب اس امر کا متقاضی ہے کہ اس کا سدباب کر کے قابل عمل حل پیش کیا جائے، وزیر اعظم نے سابق حکومت پر ملبہ ڈالتے ہوئے مالی محتاجی اور آنے والی نسلوں کیلئے مستقبل محفوظ نہ بنانے کا اعتراف کیا، آگے بڑھنے کیلئے اعتراف کرنا اہم ہوتا ہے تاہم کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ مالی بحران سیاست دانوں کا پیدا کردہ ہے، فرق صرف یہ ہے کہ اہل سیاست جب حکومت میں ہوتے ہیں تو معاملات کو دیکھنے کا پیمانہ مختلف ہوتا ہے جب اپوزیشن میں ہوتے ہیں تو مختلف زاویے سے معاملات کو پرکھتے ہیں۔
محض دو روز قبل صدر مملکت نے اہل سیاست کو ایک میز پر لانے کے عزم کا اظہار کیا تھا، اب وزیر اعظم شہباز شریف بھی اس عزم کا اظہار کر رہے ہیں تو سوچنے کی بات یہ ہے کہ اہل سیاست کو ملک و قوم کی خاطر مل بیٹھنے میں کیا امر مانع ہے؟ اگر اہل سیاست کی باہم مل بیٹھنے سے مالی بحران ختم ہوتا ہے تو اس معاملے میں قطعی تاخیر نہیں کرنی چاہئے۔ گزشتہ ماہ جب پنجاب اسمبلی میں ہنگامہ آرائی ہوئی تو سیاسی عدم استحکام کی وجہ سے ڈالر250روپے کی نفسیاتی حد عبور کر گیا تھا، لیکن جونہی سیاسی استحکام پیدا ہوا ڈالر برق رفتاری کے ساتھ نیچے آیا ہے روزانہ کی بنیاد پر روپے کی قدر میں اضافہ ہو رہا ہے، اگر آئی ایم ایف سے اسی ماہ قسط مل جاتی ہے تو معیشت میں مزید بہتری آنے کے قوی امکانات ہیں۔ یہاں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ معیشت میں بہتری کے بعد ہی حکومت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہوگی اور جب تک عوامی سطح پر ریلیف فراہم نہیں کیا جاتا معیشت میں بہتری کے دعویٰ پر کوئی یقین نہیں کرے گا۔ موجودہ اتحادی حکومت پہلے مرحلے میں ان خساروں کو پورا کرنا چاہتی ہے جو ان کے بقول تحریک انصاف کی سابق حکومت چھوڑ کر گئی ہے، دوسرے مرحلے میں عوام کو ریلیف دینے کامنصوبہ ہے تاکہ جب عوام کو ریلیف فراہم کیا جائے تووہ وقتی ثابت نہ ہو، اس طویل المدتی منصوبے کا جائزہ لینے سے اندازہ ہوتا ہے کہ کم از کم ایک سال تک سیاسی استحکام کی اشد ضرورت ہے تاکہ آئی ایم ایف سمیت حکومت نے جن مالیاتی اداروں کے ساتھ قرض کے حصول کے معاہدے کر رکھے ہیں وہ پورے ہو سکیں۔ اس عرصے کے دوران اگر ملک میں سیاسی کشیدگی پیدا ہوتی ہے تو حکومت کیلئے منصوبوں کی تکمیل اور طے شدہ پروگرام کے تحت عوام کو ریلیف فراہم کرنا مشکل ہو جائے گا، اس لیے اہل سیاست کے درمیان میثاق معیشت کا ہونا بہت ضروری ہو گیا ہے۔ جمہوری معاشروں میں میثاق معیشت کی متعدد مثالیں موجود ہیں، یورپی ممالک کو ہی دیکھ لیں، طویل عرصے تک خانہ جنگی اور سیاسی کشمکش میں رہے۔ اب بھی اختلافات ہوتے ہیں لیکن سیاسی اختلافات کی وجہ سے کبھی بھی معاشی مسائل پیدا نہیں ہوتے ہیں، ہمیں بھی اسی طرز کے میثاق معیشت کی ضرورت ہے جس میں ہر جماعت اپنے سیاسی اہداف و مقاصد کے تحت اپنی جدوجہد بھی جاری رکھے اور جب بات ملکی معیشت کی آئے تو کسی جماعت کو ریڈ لائن کراس کرنے کی اجازت نہ دی جائے۔ چیئرمین تحریک انصاف کو میثاق معیشت کے لیے لچک کا مظاہرہ کرنا ہوگا کیونکہ اتحادی حکومت میں شامل سبھی جماعتیں میثاق معیشت کا تقاضا کر رہی ہیں، عمران خان نے اگر اس پیشکش کو قبول نہ کیا تو خدشہ ہے کہ معیشت میں جو بہتری دکھائی دے رہی ہے عوام اس بہتری کے ثمرات سے مستفید نہ ہو سکیں گے۔

مزید دیکھیں :   ہندو توا کی عالمی لہر