ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں مزید استحکام

آئی ایم ایف سے قرض ملنے کی راہ ہموار ہونے کے ساتھ ساتھ دوست ممالک سے قرضوں کے ری شیڈیول ہونے کے امکانات کے باعث ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں استحکام کا سلسلہ جاری

انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر کی قدر اتار چڑھاو کے بعد 1روپے 52پیسے کی کمی سے 213روپے 97پیسے کی سطح پر بند ہوئی۔ اس طرح سے 28جولائی کے دو سو انتالیس روپے چرانوے پیسے کے مقابلے میں اب تک انٹربینک مارکیٹ میں مجموعی طور پر 25روپے 97پیسے کی کمی واقع ہوئی ہے۔

اسی طرح اوپن کرنسی مارکیٹ میں بھی فروخت کنندگان کی بڑھتی تعداد اور زائد سپلائی کے باعث ڈالر کی قدر 3روپے کی کمی سے 210روپے کی سطح پر بند ہوئی۔
مارکیٹ میں پیر کو آئی ایم ایف سے جاری سات ارب ڈالر مالیت کے قرض پروگرام کے علاوہ پاکستان کو مزید 2ارب 80کروڑ ڈالر کا فنڈ جاری کرنے کے لیے سعودی عرب کے ساتھ اجلاس سے متعلق خبریں زیرگردش رہیں لہٰذا معاشی افق پر یومیہ بنیادوں نت نئی ڈیولپمنٹس روپیہ کو بھی تگڑا کرنے کا باعث بن رہی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے لیے قرض پروگرام کی بحالی سے چین سعودی عرب متحدہ عرب امارات سمیت دیگر عالمی اداروں سے بھی مزید فنڈز جاری ہوسکیں گے جبکہ عالمی مارکیٹ میں پاکستان کے پانچ اور دس سالہ یورو بانڈز کی ایلڈ یا شرح منافع بھی 28فیصد کی کمی سے 21.44فیصد پر آگیا ہے۔

مزید دیکھیں :   عمران خان نے اسمبلی میں واپسی امریکی سائفر کی تحقیقات سے مشروط کردی

پاکستان کے کریڈٹ سواپ (سی ڈی ایس) جو کہ پاکستان کے ادائیگیوں کی استعداد ظاہر کرنے کا انڈیکس ہے وہ بھی 35فیصد سے گھٹ کر 17.4فیصد پر آگیا ہے اور یہ شرح پاکستان کے ڈیفالٹ رسک میں نمایاں کمی یا نادھندگی کا خطرہ ٹلنے کی نشاندہی کر رہا ہے لہٰذا ملک میں ان مثبت معاشی اشاریوں کے نتیجے میں روپیہ ڈالر کو بلڈوز کرتا جا رہا ہے۔