سوشل میڈیا کا منفی استعمال

ہماری قوم کے مخصوص شر پسند عناصر کو سوشل میڈیا تک مفت اور باآسانی رسائی کیا ملی کہ انہوں نے اس سہولت کا استعمال یوں بے دریغ کیا جیسے بندر کے ہاتھ استرا لگ گیا ہو۔ اس کا ایک مظاہرہ حال ہی میں بلوچستان میں ایک فوجی ہیلی کاپٹر کے حادثے کے موقع پر دیکھنے میں آیا۔ تاہم اب وفاقی حکومت نے بلوچستان میں ہلی کاپٹر حادثے میں شہید ہونے والے پاک فوج کے افسروں اور جوانوں کے خلاف سوشل میڈیا پر نفرت انگیز مہم چلانے والوں کے خلاف کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ضمن میں وفاقی تحقیقاتی ایجنسی کے سائبر کرائم ونگ کے ایڈیشنل ڈی جی کی سربراہی میں چار افسران پر مشتمل جے آئی ٹی تشکیل دے دی گئی ہے۔ تحقیقاتی ٹیم سوشل میڈیا پر منفی پروپیگنڈا کرنے والے عناصر کی نشاندہی، گرفتاری اور قانونی کارروائی کے امور انجام دے گی۔ یہ ضروری تھا اس لیے کہ یہ ہمارے شہداء کی قربانیوں کی توہین اور ان کا مذاق اڑانے والی مہم خوفناک ہے، ہمیں سوچنا چاہیے ہم کس راہ پر چل پڑے ہیں، یہ لمحہ گہرے غور و فکر کا تقاضا کرتا ہے۔ فوج یہ ملک کی سلامتی اور استحکام کی ضامن ہے۔ پاک فوج اور شہداء سے ہمارے دلی جذبات اس طرح جڑے ہوئے ہیں۔ مخصوص ذہنیت رکھنے والے سوشل میڈیا ٹرولرز نے افواج اور شہداء کے بارے میں جو منفی باتیں کی ہیں ان سے صرف فوجی خاندانوں اور شہداء کے لواحقین کی ہی دل آزاری نہیں ہوئی، بلکہ ساری قوم کا دل دکھا ہے۔ پاکستان کے لیے یقیناً ایک بہت بڑا نقصان ہے۔
پاکستان کا رقبے کے اعتبار سے سب سے بڑا صوبہ بلوچستان اس وقت شدید ترین بارشوں اور سیلاب کی زد میں ہے۔ گاؤں کے گاؤں پانی میں ڈوبے ہوئے ہیں، کھڑی فصلیں تباہ ہو گئی ہیں جبکہ لوگوں کے مکانات بھی سیلاب میں گرے ہوئے ہیں، اس مشکل وقت میں پاک فوج کے افسر اور جوان سیلاب زدگان کو محفوظ مقامات تک پہنچانے اور انہیں خیمے اور خوراک مہیا کرنے کی مشکل ذمے داریاں ادا کر رہے ہیں۔ بلوچستان میں چند دن پہلے امدادی سرگرمیوں کی نگرانی میں مصروف عمل پاک فوج کا ایک ہیلی کاپٹر ضلع لسبیلہ میں حادثے کا شکار ہو کر تباہ ہو گیا۔ ہیلی کاپٹر میں سوار کوئٹہ کے کور کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل سرفراز علی سمیت چھے فوجی افسران اور جوان شہید ہو گئے۔
شرپسندوں کے ایک گروپ نے اس دکھ کی گھڑی میں انتہائی سفاکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پاک فوج کے خلاف ایک زہریلی سوشل میڈیا مہم شروع کر دی۔ اس پروپیگنڈا مہم کی وجہ سے فوج اور شہداء کے لواحقین کی بے حد دل آزاری ہوئی بلکہ ملک کے سنجیدہ حلقوں نے اس پر دکھ کے ساتھ تشویش کا اظہار بھی کیا ہے کہ پاکستان میں یہ کیا ہو رہا ہے اور ایسے شرپسندوں کے سہولت کار فنانسر اور ہینڈلر کون لوگ ہیں؟ فوج کے خلاف مہم چلانے والے ایک سوشل میڈیا ایکٹیوسٹ کی ایک اعترافی ویڈیو بھی سامنے آئی ہے۔ اس ویڈیو میں اس نے اپنی حرکت پر معافی بھی طلب کی ہے۔ بہرحال پاکستان میں رہ کر ایسی دل شکن اور منفی مہم چلانا ایسی حرکت ہے جسے معاف کرنا مشکل ہے۔ بدقسمتی سے حالیہ چند ماہ میں سوشل میڈیا ٹرولرز نے نفرت انگیز پروپیگنڈا کی انتہا کر رکھی ہے۔ پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں بالخصوص پی ٹی آئی کی قیادت کو اس قسم کی حرکت کرنے والوںکی نہ صرف مذمت کرنی چاہیے بلکہ اگر کوئی سوشل میڈیا ٹرولر خود کو کسی پارٹی سے نتھی کرتا ہے تو اس سے علیحدگی کا اعلان کرنا چاہیے۔ اس امر کی تفہیم ضروری ہے کہ فوج نے اگر سیاسی معاملات کے ضمن میں غیر جانبدار اور غیر سیاسی رہنے کا کردار اختیار کیا ہے تو اسے سراہا جائے کیونکہ ملک کے آئین کا تقاضا بھی یہی ہے اور جمہوری کلچر بھی یہی سکھاتا ہے۔
قومی اداروں کو سیاسی یا ذاتی تنازعات کی زد میں لانا قومی مفاد کے منافی ہے۔ کسی بھی سیاسی جماعت کے سپورٹر یا چاہنے والے ایسا کرتے ہیں تو ان کے خلاف قانونی کارروائی ہونی چاہیے۔ ہم ففتھ جنریشن وار کے عمل سے گزر رہے ہیں جہاں ہمارے دشمن ڈیجیٹل میڈیا یا میڈیا کے محاذ کو بنیاد بنا کر ہمیں داخلی اور خارجی دونوں محاذوں پر کمزور بھی کرنا چاہتا ہے اور تقسیم بھی۔ وہ معاشرے میں ایک ایسی سیاسی، سماجی، مذہبی، فرقہ وارانہ اور لسانی بنیادوں پر تقسیم پیدا کررہا ہے جو ہمیں کمزور کرے۔ بد ماضی میں پاکستان مخالف قوتوں نے پاکستانی عوام اور فوج کے درمیان دراڑ پیدا کرنے کی پوری کوشش کی لیکن تاریخ گواہ ہے کہ دشمنوں کی ایسی کوششیں بری طرح ناکام ہوئیں۔ ایسے متعدد واقعات سامنے آئے جن میں دہشت گرد تنظیموں نے کسی دوسرے ملک کی سرزمین پر بیٹھ کر پاکستان میں ناپختہ ذہنوں کو ورغلا کر اپنے چنگل میں پھانسا۔ یہ امر واقعہ ہے کہ بیرون ملک مورچہ زن علیحدگی پسند دہشت گرد مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارموں کے ذریعے ریاست پاکستان کے خلاف جھوٹا پروپیگنڈا کر کے پسماندہ علاقوں کے نوجوانوں کو دہشت گردی کے لیے اکساتے رہے ہیں۔ پاکستان کو ایک ناکام ریاست کے طور پر پیش کرنے کے لیے سوشل میڈیا کے ذریعے جعلی معلومات پر مبنی مواد کی تشہیر کر کے عوام میں مایوسی اور غیر یقینی کی کیفیات ابھاری جاتی رہی ہیں۔ لسانی تعصب، فرقہ ورانہ تقسیم، سیاسی اختلافات، سفارتی تعلقات اور حساس مذہبی معاملات پر پاکستانی معاشرے میں تفریق پیدا کرنے کے لیے مسلسل غیر قانونی اور اشتعال انگیزمواد پھیلایا جا رہا ہے۔

مزید دیکھیں :   ہندو توا کی عالمی لہر