الٹے بانس بریلی کو

سوات کی تحصیل مٹہ کے بالائی پہاڑی علاقہ کنالہ میں موجودچند شدت پسند پولیس آپریشن شروع ہونے سے پہلے ہی واپس افغانستان چلے گئے ۔ مقامی افراد کے مطابق گزشتہ روز چالیس سے پچاس تک مسلح شدت پسند اپنا سامان باندھ کر دیر کے راستے واپس افغانستان روانہ ہو گئے اس سے پہلے پہاڑی پر شدت پسندوں کی ا طلاع پر سوات کے مختلف علاقوں میں شدید احتجاج کیا گیا تھادریں اثناء سوات میں پائیدار امن کے لئے مظاہرہ اور مارچ کرنے والے افراد کے خلاف خوازہ خیلہ پولیس نے ایف آئی آر درج کرکے سیل کر دی۔شدت پسندوں کے خلاف گھرا تنگ کرنے کی بجائے ان کو افغانستان واپسی کا رستہ مصلحتاً دیا گیا ہے یاپھر اس کی کوئی اور وجہ ہے یہ معاملہ اپنی جگہ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ شدت پسندوں کو تومٹہ آپریشن سے قبل ہی بحفاظت واپسی کا رستہ دیا گیا لیکن سوات میں امن کے لئے مظاہرہ کرنے والوں کے خلاف مقدمات کا اندراج کیا گیا ہے چالیس پچاس شدت پسندوں کی دیر کے راستے افغانستان واپسی سیکورٹی فورسز کی ڈیڈ لائن کے بعد عمل میں آئی ہونا تو یہ چائے تھا کہ جن عناصر نے اچانک نمودار ہو کر ہمارے افسروں اور جوانوں کو یرغمال بنایا اور فائرنگ کرکے زخمی کی ا ن سے سختی سے نمٹا جاتا اور کسی صورت بھی ان کو نکلنے کا راستہ نہ دیا جاتا اب ان کی افغانستان واپسی سے صاف اور واضح طورپر یہ بات سامنے آچکی کہ افغانستان میں اب بھی پاکستان مخالف شدت پسند موجود ہیں اور ان کی افغانستان واپسی کی اطلاعات سے اس امر کو تقویت ملتی ہے کہ افغان حکومت اپنی سرزمین کو پاکستان کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے وعدے کی دہشت گردوں کو ٹھکانہ فراہم کرکے یا پھر افغانستان میں داخل ہونے کی اجازت دے کر خلاف ورزی کی مرتکب ہوئی ہے جو دوحا معاہدہ اور یقین دہانی ہی کی خلاف ورزی نہیں بلکہ ایک آزاد اور خود مختار ملک کے طور پر اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے میں ناکامی کا واضح ثبوت بھی ہے جس سے قطع نظر حیرت انگیز امر یہ ہے کہ ہمارے حکمران شدت پسندوں کو تو محفوظ راستہ دے سکتے ہیں لیکن جو لوگ ا من کے حق میں اور شدت پسندی کے خلاف احتجاج کرتے ہیں ان پر مقدمات کا اندراج کیاجاتا ہے اس مظاہرے میں بلاشبہ جذبات سے مغلوب ہو کر بعض افراد کی طرف سے کچھ اشتعال انگیز نعرے لگانے یا پھر جذباتی اظہار خیال کی گنجائش توجود ہے لیکن یہ شدت پسندی کے ارتکاب سے بڑا جرم نہیں بلکہ بدامنی پر احتجاج تھا جس کا سوائے حکام کی توجہ مبذول کرانے کے اور کوئی مدعا نہیں تھا ۔ دیر اور سوات کے عوام دودھ کے جلے ہیں جو چھاچھ بھی پھونک پھونک پر پینے پر مجبور اس لئے ہیں کہ وہ ایک نہایت بدترین تجربے سے گزر چکے ہیں جس کے وہ دوبارہ شائبہ سے بھی خائف ہیں اس علاقے کے لوگ مارگزیدہ ہیں جو رسی سے بھی ڈرتے ہیں ایسے میں یہ ان کا خوف اور احتجاج ان کا حق بنتاتھا جن کے خلاف مقدمات کا اندراج مناسب نہیں بہتر ہو گا کہ ان کے خلاف مقدمات واپس لئے جائیںیا پھر ان کی کمزور پیروی کرکے حالات کو سدھار کی طرف لایا جائے نیز ان کے خدشات دور کئے جائیں اور مستقل قیام امن و استحکام امن کی ذمہ داری کماحقہ پوری کرکے ان کو اطمینان دلایا جائے ۔
محکمہ تعلیم’ تیری کونسی کل سیدھی
محکمہ تعلیم خیبر پختونخوا کا انتظام وانصرام بھی لگتا ہے بچوں کے ہاتھ آگیا ہے جنہوں نے پہلے موسم گرما کی چھٹیوں میں توسیع کا اعلان کرکے دو تین بعد محکمہ موسمیات کی رپورٹ پر موسم بہتر ہونے کی پیشگوئی پر چھٹیوں میں توسیع کا فیصلہ واپس لیکر سکول کھولنے کا اعلامیہ جاری کر دیا اس کشمکش میں شاید ہی سکولوں میں پہلے دن اساتذہ کے علاوہ طالب علموں کی مناسب تعداد نے حاضری دی ہو ۔ محکمہ تعلیم کے حکام نجی سکولوں کے دبائو میں آئے یا ان کی ملی بھگت نے انہیں سکول کھولنے پر مجبور کر دیا اس امر کو خارج ازامکان اس لئے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ موسم کی پیشگوئی اور صورتحال میں اچانک کوئی تبدیلی نہیں آئی بلکہ سال کے اوائل میں ہی اس حوالے سے رپورٹیں شائع ہوئی تھیں مستزاد موسم کی صورتحال کی تفصیلی امکانی رپورٹ ویب سائٹس پر ہر کسی کو دستیاب ہیں محکمہ تعلیم کے حکام نے اگر واقعی محکمہ موسمیات کی رپورٹ پر فیصلہ تبدیل کیا تو کیا انہوں نے چھٹیوں میں توسیع کے وقت محکمہ موسمیات سے رابطہ کیا تھا یقینا ایسا نہیں کیا گیا ہو گا ورنہ محکمہ موسمیات ان کو پوری ممکنہ صورتحال سے آگاہ ضرور کرتی ایسے میں محکمہ تعلیم کے ہر دو اعلامیے متعلقہ حکام کی نا اہلی پر دال ہے اس طرح کی مضحکہ خیزی حکومت کے لئے بھی خفت کا باعث بنا ہو گا جس کا نوٹس لیا جانا چاہئے ۔ محکمہ تعلیم کے حکام کومعلوم ہونا چاہئے کہ طالب علموں اور والدین ان کے اشارہ ابرو کے لئے تیار نہیں بیٹھے ہوتے بلکہ ان کو تعطیلات سے واپسی اور سکول جانے کی تیاری بھی کرنا ہوتی ہے ایسے میں اچانک تعلیمی ادارے کھل جانے سے ان کی پریشانی اور طلبہ کے”معصوم ارمانوں” کا خون ہونا فطری امر ہے جس سے دانش مندی کے ساتھ اور سوچ سمجھ کر فیصلہ کرکے بچا جا سکتا تھا حکومت کو محکمہ تعلیم کے کرتا دھرتا عناصر سے باز پرس کرکے وضاحت جاری کر دینی چاہئے ۔

مزید دیکھیں :   انسداد منشیات کے ساتھ انسداد فحاشی کی بھی ضرورت