خیبرمیں تباہ شدہ سکول

خیبرمیں تباہ شدہ سکول پھر تعمیرنہ ہوسکے،ہزاروںبچے متاثر

ویب ڈیسک : دہشت گردی کے خلاف جنگ میں فرنٹ لائن پر رہنے والے قبائلی ضلع خیبر میں انفراسٹرکچر کی بحالی کئی سال گزرنے کے باوجود نہ ہوسکی۔ محکمہ تعلیم کے تباہ شدہ سکول تاحال بحالی کے لیے حکومت کا منہ تک رہے ہیں۔ خیبر میں دہشت گردی کے دوران 99 سکولوں کو نشانہ بنایا گیا جن میں 83سکولز مکمل تباہ ہوئے اور 16سکولوں کو جزوی نقصان پہنچا ان میں 78پرائمری سکول، 10مڈل اور 11ہائی سکولز شامل تھے۔

خیبر میں لڑکیوں کے سکولز پہلے ہی کم ہیں مگر دہشت گردی کے خلاف جنگ میں لڑکیوں کے43 سکول تباہ ہوئے جبکہ لڑکوں کے 56سکول غیر فعال ہیں۔ خیبر کی تین تحصیلوں میں تعلیم کے شعبے میں سب سے زیادہ باڑہ سب ڈویژن متاثر ہواجہاں 74سکولز تباہ ہوئے ۔ جمرود میں 14اور لنڈی کوتل میں 11سکولوں کی عمارتیں زمین بوس ہوئیں۔ چین کی مدد سے 50سکولوں کی بحالی کا کام شروع کیا گیا تاہم نامعلوم وجوہات کی بنا پر امداد روک دی گئی ہے اور سکولوں کی تکمیل تاحال نہ ہوسکی۔49سکولز ایسے ہیں جہاں پر تعیمراتی کام شروع ہی نہیں ہوسکا۔

ذرائع کے مطابق لڑکیوں کے جو سکول تباہ ہوئے ہیں وہاں اکثریتی علاقوں میں قریبی سکول نہ ہونے کے باعث بچیاں ابتدائی تعلیم سے بھی محروم ہیں۔ بعض علاقوں میں ٹینٹ سکول قائم کئے گئے ہیں جہاں موسم کی شدت کے باعث بچوں او بچیوں کو پڑھنے میں شدید مشکلا ت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث دو نسلیں تعلیم کے بغیر جوان ہوگئیں۔ قبائلی اضلاع کے انضمام کے بعد صوبائی حکومت کی جانب سے ان سکولوں کی دوبارہ تعمیر کیلئے کوشش تو ضرور کی گئی مگر تاحال کام شروع نہ ہوسکا۔ اس بارے میں علاقہ میں قائم خدمت خلق کمیٹی کے صدر شیخ گل آفریدی اور انچارج ایجوکیشن کمیٹی جاوید خان آفریدی چیئرمین ویلج کونسل سپین قنبر سے بات کی گئی تو ان کا کہنا تھا کہ باڑہ کے سرکاری سکولوں کے بچے نیا تعلیمی سال بھی خیموں میں شروع کرنے پر مجبور ہیں ۔

مزید دیکھیں :   بنوں:ڈبلیوایس ایس سی ملازمین نے شہریوں کاپانی بندکردیا

گرمی اور سردی برداشت کرکے بچے تعلیم حاصل کرنا چاہتے ہیں مگر حکومت کی طرف سے اب تک ایک سکول کی بلڈنگ کا بھی تعمیر نہ ہونا غفلت کی بدترین مثال ہے۔ باڑہ کے عوام سرکاری سکولوں میں بچوں کو داخلہ دلوانے کے لئے لاتے ہیں مگر خیمے دیکھ کر بچے بھی مایوس ہو جاتے ہیں بعض سکولوں میں خیموں کی عدم فراہم،بلڈنگ کے نہ ہونے، سٹاف کی کمی اور دیگر سہولیات کی عدم موجودگی کی بناء پر شدید مشکلات ہیں ۔

ایک طرف گرمی کا موسم جبکہ دوسری طرف مون سون کی بارشیں بچوں کی پڑھائی میں خلل ڈالنے کی بڑی وجہ قرار دی جاسکتی ہیں ۔گورنمنٹ مڈل سکول سپین قنبر میں 1200 طلباء جبکہ گورنمنٹ مڈل سکول گندائو میں تقریباً 700 کے قریب طلباء پڑھ رہے ہیں ۔ تحصیل باڑہ کا مرکزی اور تاریخی گورنمنٹ ہائی سکول عالم گودر بھی بند ہے اس لئے طلبہ خیموں میں پڑھنے پر مجبور ہیں۔ گورنمنٹ پرائمری سکول گلاب خیل باڑہ اور گورنمنٹ پرائمری سکول عبدالقطار کلے کے بچے کھلے آسمان تلے پڑھنے پر مجبور ہیں۔ اس حوالے سے محکمہ تعلیم کے حکام کا کہنا ہے کہ چین کی طرف سے فنڈز فراہم کئے گئے تھے جن پر کام شروع ہوا تاہم فنڈز روکے جانے کے بعد کام جاری نہ رہ سکا۔

مزید دیکھیں :   اسلام آبادہائیکورٹ نےعمران خان کے خلاف توہین عدالت کیس خارج کر دیا