پنجاب اور وفاقی حکومت آمنے سامنے

عمران خان کے چیف آف سٹاف شہباز گل کی گرفتاری کے بعد وفاقی اور پنجاب حکومت کے مابین محاذ آرائی شدت اختیار کرتی جا رہی ہے۔ عمران خان جو شروع میں شہباز گل کی گرفتاری پر محتاط رویہ اختیار کئے ہوئے تھے اور ان کے جملوں کو نا مناسب الفاظ کا چناؤ بھی قرار دیا تھا مگر اب ان کی حمایت میں کھل کر سامنے آگئے ہیں اور ان پر تشدد کا واویلا بھی کر رہے ہیں اسی طرح ان کی پارٹی کے سرکردہ رہنما جو شروع میں شہباز گل کے بیان سے لا تعلقی اختیار کرتے نظر آتے تھے اور پہلے دو روز کسی نے شہباز گل کو پوچھنے تھانے آنے کی زحمت بھی گوارا نہیں کی تھی مگر اب شہباز گل پر ہونے والے مبینہ تشدد کو عالمی سطح پر اٹھانے کا پرچار کر رہے ہیں۔ عمران خان نے تو جواب آں غزل کے طور پر25 مئی کا کیس کھول دیا ہے اور پولیس تشدد کا جواز بنا کر وزیرداخلہ رانا ثناء اللہ اور وزیراعظم کے معاون خصوصی عطاء اللہ تارڑ کے وارنٹ گرفتاری جاری کروا کر ان کے گھروں پر پولیس کے چھاپے بھی مروا دیئے جو عدالتوں سے اپنی ضمانتیں کروا کر گرفتاری سے بچ گئے ہیں۔کہا جا رہا ہے کہ عمران خان نے آج کل پنجاب کے وزیر داخلہ کے فرائض خود سنبھال لئے ہیںاور ان کی سرپرستی میں 25 مئی کو ہونے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کو روکنے پر مامور پولیس ملازمین کو انتقام کا نشانہ بنایا جا رہا ہے جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ پنجاب میں صرف تین دن میں سو سے زائد پولیس افسروں کے تبادلے کر دیئے گئے ہیں جن میں 18 ایس پیز اور24 ڈی ایس پیز شامل ہیں جب کہ 4 جیل سپرنٹنڈنٹس اس کے علاوہ ہیں ۔ بات یہاں تک نہیں رکی بلکہ اب تک تین اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز اور متعدد تحصیلوں کے اسسٹنٹ کمشنرز بھی تبدیل ہو گئے ہیں اور تا حال یہ سلسلہ جاری ہے۔ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق جس کے چیئرمین پی ٹی آئی رہنما سینیٹر ولید اقبال ہیں نے شہباز گل کے ڈرائیور کے گھر پر چھاپے اور اسکی اہلیہ سمیت دیگر کی گرفتاری کا جواز بنا کر سیکرٹری انسانی حقوق، سیکرٹری داخلہ اور آئی جی اسلام آباد سمیت دیگر کو جواب دہی کیلئے طلب کر لیا ہے۔ اسی طرح پی ٹی آئی کے25 مئی کے واقعہ کو جواز بنانے کے جواب میں وفاقی حکومت نے بھی تحریک انصاف سے بدلہ لینے کی ٹھان لی ہے۔ چنانچہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قواعد و ضوابط جس کی چیئرمین شپ ن لیگ کے پاس ہے، نے رواں سال مارچ میں جے یو آئی کے محافظ دستے انصارالاسلام کے کارکنوں کی موجودگی پر اسلام آباد پولیس کے چھاپے اور تشدد کو جواز بناتے ہوئے سابق وزیراعظم عمران خان اور سابق وزیر داخلہ شیخ رشید کو نوٹس کے ذریعے طلب کر لیا ہے۔ پنجاب اور وفاقی حکومت کے مابین اس وقت کشیدگی انتہاء کو چھو رہی ہے اور پی ٹی آئی و اتحادی جماعتوں کے درمیان لفظی گولہ باری بڑھتی جا رہی ہے لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب پرویز الٰہی اور ان کے کچھ وزیرشہباز گل کے معاملے پر عمران خان سے فاصلہ اختیار کرتے نظر آرہے ہیں۔ پرویز الہیٰ نے پہلے روز ہی دو ٹوک الفاظ میں شہباز گل کی گفتگو کو شر انگیزی قرار دیتے ہوئے عمران خان کو اس سے لا تعلقی اختیار کرنے کا مشورہ دیا تھا مگر اب جب عمران خان شہباز گل کو ریلیف دلانا چاہا رہے ہیں مگر پرویز الہیٰ ان سے متفق نہیں ہو رہے کیونکہ شہباز گل اِس وقت اڈیالہ جیل میں نظر بند ہیں جو کہ پنجاب حکومت کی حدود میں واقع ہے جبکہ اسلام آباد میں جیل نہ ہونے کی وجہ سے مجبورً انہیں اڈیالہ جیل میں رکھنا پڑ رہا ہے اور عمران خان اسی کا فائدہ اٹھانا چاہا رہے ہیں کیونکہ ڈاکٹروں نے شہباز گل کو ہسپتال میںایڈمٹ ہونے کا مشورہ دیا ہے اور عمران خان کی خواہش ہے کہ ان کو راولپنڈی کے کسی ہسپتال میں داخل ہونے کی اجازت ملے تاکہ شہباز گل اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ کی پہنچ سے دور ہو سکیں۔ بعض سرکاری ذرائع دعویٰ کر رہے ہیں کہ عمران خان نے اسی مقصد کیلئے حماد اظہر اور فواد چوہدری کو آئی جی جیل خانہ جات کے پاس بھیجا جنہوں نے ان سے ملاقات کر کے ان کو عمران خان کا پیغام پہنچایا لیکن آئی جی جیل خانہ جات نے موقف اختیار کیا کہ چونکہ شہباز گل وفاقی حکومت کے ملزم ہیں اس لئے ان پر وفاقی حکومت کے قوانین ہی لاگو ہوں گے لہذا ان کو اپنی مرضی کے ہسپتال بھیجنا میرے دائرہ اختیار سے باہر ہے ۔کہا جا رہا ہے کہ جب آئی جی پر زیادہ زور ڈالا گیا تو انہوں نے کہا کہ اس سلسلے میں آپ وزیراعلیٰ پنجاب سے بات کر سکتے ہیں جو میرے باس ہیں اور میں ان کے ہی حکم کا پابند ہوں۔ پرویز الہیٰ کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ شہباز گل کے معاملے میں عمران خان سے متفق نہیں ہیں کیونکہ پرویز الہیٰ اڈیالہ جیل میں شہباز گل پر تشدد کی بات سے بھی اتفاق نہیں کرتے اور ان کے وزیر جیل خانہ جات ہاشم ڈوگر نے تشدد کی تردید کرتے ہوئے ببانگ دہل کہا ہے کہ شہباز گل پر کسی قسم کا کوئی تشدد نہیں ہوا جبکہ عمران خان نے کہا ہے کہ شہباز گل کو ننگا کر کے مارا جا رہا ہے کہ تم کہو کہ بیان عمران خان کے کہنے پر دیا۔ عمران خان کو سوچنا چاہئے کہ شہباز گل جیسے فتنہ پرور کی حمایت میں کوئی بھی ذی شعورشخص کھڑا نہیں ہو گا جس کا منشور ہی ملک دشمنی ہو۔

مزید دیکھیں :   سول ملٹری تعلقات،ایک نیا آغاز وقت کا تقاضا