تشکیل پاکستان کا ایک سبب سقوط خلافت

قیام پاکستان کو 75 سال ہو چکے ہیں، کئی روز سے سوچ رہا تھا کہ اس موضوع پر کیا لکھا جائے؟ ان پچھتر برسوں میں ہم نے بہ حیثیت قوم کیا کھویا اور کیا پایا، مشرقی پاکستان کھویا اور ایٹم بم پایا، اس موضوع پر اور بھی تفصیل سے بات ہو سکتی ہے لیکن یہ سوچ کر چھوڑ دیا کہ اس پر ہم سے بہتر تحریر آسکتی ہے پھر یہ خیال ہوا کہ تحریک پاکستان کے سلسلے میں ہونے والی جدوجہد بیان کی جائے۔
بیسویں صدی کے آغاز کی دو دہائیوں میں عیسائیوں اور یہودیوں کے گٹھ جوڑ نے مصر کے خلیفہ شاہ فاروق کے خلاف سازشوں کے جال بننے شروع کیے اس لیے کہ اس نے ارض فلسطین میں یہودیوں کے لیے ایک انچ زمین بھی دینے سے انکار کردیا تھا عربوں کو ترکوں کے خلاف اکسایا گیا عربوں کو ترکوں سے آزادی حاصل کرنے میں بہت زیادہ جدوجہد نہیں کرنا پڑی کہ برطانیہ جو اس وقت اسی طرح کی ایک عالمی طاقت تھا کہ جس طرح آج امریکا، روس اور چین ہیں برصغیر ہندوستان سمیت دنیا کے کئی ممالک پر برطانیہ کا قبضہ تھا لیکن بھارت سمیت ہر جگہ برطانیہ کے خلاف آزادی کی جدوجہد چل رہی تھی، نو آبادیاتی دور اپنے اختتام کی جانب تیزی سے بڑھ رہا تھا۔ 1914 ء میں جب مصر سے شاہ فاروق کی حکومت کو ختم کیا گیا اور خلافت کا سقوط ہوا تو پوری دنیا کے مسلمانوں کے اندر غم واندوہ کی ایک لہر دوڑ گئی لیکن برصغیر کے مسلمانوں میں اس کا بہت زیادہ غم ہوا کہ جیسے ہر گھر میں میت ہو گئی ہو۔
برصغیر کے مسلمانوں میں سقوط خلافت کے غم کی شدت بہت زیادہ ہونے کی دو اہم وجوہات تھیں ایک تو یہ کہ پوری دنیا کی تمام مسلمانوں کے مقابلے میں برصغیر کے مسلمانوں کا دینی شعور بلند تھا وہ خلافت کو خلفائے راشدین کی ایک نشانی سمجھتے تھے اور وہ یہ بھی جانتے تھے کہ یہ خلافت آئندہ کسی بھی موقع پر دنیا کے مسلمانوں کو ایک پلیٹ فارم پر متحد کرنے کا ذریعہ بن سکتی ہے، دوسری وجہ یہ تھی کہ برطانیہ جس نے خلافت کے خلاف سازش کی اسی برطانیہ نے ایسٹ انڈیا کمپنی کے ذریعے ہندوستان پر قبضہ کیا اور اس کی ساری دولت لوٹ کر لے گئے ،برصغیر کے باشندوں جن میں ہندو مسلمان دونوں شامل تھے کے دل میں برطانیہ سے یہ نفرت تو پہلے ہی سے چل رہی تھی لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے دلوں میں برطانیہ کے خلاف نفرت کی آگ میں مزید شدت اس وجہ سے بھی ہوئی کہ 1857 ء کی جنگ آزادی جس میں مسلمانوں کی تعداد اور ان کا جوش و جذبہ سب سے زیادہ تھا وہ تحریک ناکا م ہو گئی تو انگریز سرکار نے تحریک کے مجاہدین کو چن چن کر قتل کرنا شروع کردیا بہت سے مجاہدین پورے ہندوستان میں مختلف علاقوں میں چھپ گئے لیکن ہمارے اندر بھی کچھ لوگوں نے ذاتی مفادات کی لالچ میں ان کی مخبری کردی پھر انگریزوں نے ان مجاہدین کو پکڑ پکڑ کے توپ کے دہانوں پر باندھ کر ان کی لاشوں کے چیتھڑے اڑا دیے اس ظلم کو دیکھ کر عام مسلمانوں کے دل انگریزوں کے خلاف نفرت کی آگ میں سلگ رہے تھے پھر ترکی میں خلافت کے سقوط نے اس آگ کو مزید دو آتشہ کردیا۔
اس کے نتیجے میں یہ ہوا کہ برصغیر کے مسلمانوں نے تحریک خلافت کا پرجوش آغاز کیا گاندھی جی کو اس تحریک کا سربراہ بنایا یہ شاید بڑی عجیب سی بات لگے کہ مسلمانوں کے جذباتی مرکز خلافت کے ادارے کی بحالی کے لیے جس خلافت تحریک کا آغاز ہوا اس کا سربراہ ایک ہندو کو بنایا گیا۔ چونکہ برصغیر میں برطانیہ سے آزادی کی جو تحریک چل رہی تھی وہ ہندو و مسلمان دونوں مل کر چلا رہے تھے اس لیے مسلمانوں نے یہ سوچا کے اس تحریک میں جو برطانوی سامراج کے خلاف تھی ہندوئوں کو بھی شامل کرلیا جائے دوسرا اہم نکتہ یہ تھا کہ اس تحریک خلافت کو مذہبی انتہا پسندی کے خانے میں نہ ڈال دیا جائے اور پوری دنیا کو یہ پیغام دیا جائے کہ برطانوی سامراج نے یہ سراسر آمرانہ اور غیر جمہوری قدم اٹھایا ہے اور مسلمانوں کے جذبات کو کچلا گیا ہے اس لیے تمام مذاہب کے لوگ برطانیہ کے اس ظالمانہ اقدام کو ناپسند کرتے ہیں۔ ترکی کے مسلمان برصغیر پاک و ہند کے مسلمانوں کو اسی لیے بڑے دل و جان سے چاہتے ہیں کہ ترکی کے بعد پوری دنیا میں برصغیر کے مسلمانوں نے خلافت کے احیا کے لیے ایک منظم تحریک چلائی تھی۔
پھر یہ تحریک بھی۔۔ جو اس شان سے اٹھی تھی کہ مولانا محمد علی اور مولانا شوکت علی جو عظیم لیڈر تھے ان کی والدہ بی اماں کا یہ جملہ بہت مشہور ہوا تھا جو انہوں نے اپنے بیٹوں کو مخاطب کرکے کہا تھا کہ بیٹا جان خلافت پہ دینا پھر تحریک خلافت بھی ناکام ہو گئی، برصغیر کے مسلمان 1857کی جنگ آزادی اور تحریک خلافت دونوں کی ناکامی سے شدید مایوسی کا شکار ہو گئے گو کہ تحریک آزادی کی جنگ میں جو جانی نقصان ہوا اس کے مقابلے تحریک خلافت میں کم نقصان ہوا۔ دوسری طرف انگریز سرکار بھی یہ طے کرچکی تھی کہ اب ہندوستان اور پاکستان کو آزادی دینا ہی پڑے گی۔ رات کی سیاہی جب گہری ہوتی چلی جاتی ہے تو طلوع سحر قریب آتی جاتی ہے یہی ہوا کہ مسلم لیگ نے جب تحریک پاکستان کا آغاز کیا تو غم و غصے کے جذبات سے لبریز لوگ دل و جان سے قائد اعظم محمد علی جناح کی قیادت میں متحد ہو گئے اور بالآخر پاکستان بنانے میں کامیاب ہو گئے اس لیے ہم سمجھتے ہیں برصغیر میں چلنے والی تحریک خلافت بھی تشکیل پاکستان کا ایک اہم سبب ہے۔

مزید دیکھیں :   سول ملٹری تعلقات،ایک نیا آغاز وقت کا تقاضا