حیلے تو کر کے دیکھ لئے

موجودہ حکومت کے حوالے سے مسلسل تنقید کسی نہ کسی صورت جاری رہتی ہے۔ اس تنقید میں کوئی نئی بات نہیں، یہ اس سیاسی تسلسل کا حصہ ہے جس کا نام جمہوریت ہے۔اسی تنقید سے حکومتیں اپنی غلطیوں کے سدھار کے راستے کشید کیا کرتی ہیں۔ اسی تنقید سے لوگوں کے عزائم معلوم ہوتے ہیں اسی تنقید کے پتھروں پر چل کر جمہوریت کی داسی ہر بار اپنے مندر پہنچتی ہے اور فتح کی گھنٹی بجا کر اپنی آمد کا اعلان کرتی ہے۔ اس تنقید میں کوئی برائی نہیں، اس کا کوئی بھی پہلو ہو وہ تنقید جسے مثبت تنقید کا نام دیا جاتا ہے یا وہ جسے تنقید برائے تنقید کہا جاتا ہے، ہر دو صورتوں میں اس تنقیدکا کسی بھی حکومت کو فائدہ ہو سکتا ہے اگروہ اس تنقید سے فائدہ اُٹھانا چاہیں یا ان کے نزدیک مثبت نتائج تک راہ تلاش کرنا اہم ہو۔تنقید اپنے ہر رنگ میں اپنے ہر لفظ میں اچھا ثابت ہوسکتی ہے۔ اگر وہ تنقید ہو جس کے بارے میںعموماً یہ کہا جاتا ہے کہ یہ محض تنقید برائے تنقید ہے اور اس کے پیش نظر کوئی اثبات کوئی تعمیری کام نہیں وہ تنقید بھی خاص فائدہ مند ہوتی ہے کیونکہ حکومت وقت کو نہ صرف اس سے یہ معلوم ہوتا رہتا ہے کہ آخر دشمنوں کو اپوزیشن والوں کو کن کن اقدامات سے کس قدر تکلیف پہنچ رہی ہے۔ ہماری سیاست اور سیاستدانوں کا کردار گزشتہ سالوں میں کچھ ایسا بن چکا ہے کہ انہیں عوام کی کسی بہتری سے کوئی وابستگی نہیں، نہ ہی کوئی غرض ہے کہ کسی حکومتی اقدام سے عوام کو کسی قسم کی تکلیف نہ پہنچے۔ ان کے پیش نظر محض ایک ہی بات رہتی ہے کہ کہیں ان کے مخالفین کے دور حکومت میں کوئی کام ایسا نہ ہو جائے جس سے عوام میں خواہ کتنی ہی معمولی کیوں نہ ہو اس حکومت کی کوئی پذیرائی جنم نہ لے یا لوگوں کے دلوںمیں ان کیلئے کوئی نرم گوشہ نہ پیدہوجائے۔ وہ محض اس امکان کو مٹانے کیلئے بھی اتنے جذباتی ہوسکتے ہیں کہ بے شمار شوروغوغاکریں۔اگر حکومت وقت ذرا بھی فراخ دلی کا مظاہرہ کرے اور بس ان پر نظر رکھے تو جان سکے گی کہ اصل معاملہ کیا ہے۔ اس فہم کیساتھ وہ اپنی راہ کی مزید درستگی کے اقدامات کر سکتے ہیں،ہاں اگر بات مثبت تنقید کی ہو تو وہ یوںہی حکومت وقت کو اپنی غلطیاں سدھارنے میں مدد فراہم کر سکتی ہے۔ اگر شورشرابا محض اسلئے بھی ہو کہ لوگوں کی رائے پر اثر انداز ہوا جا سکے کیونکہ ہمارے عوام خاصی معصوم ثابت ہوئے ہیں۔ سنی سنائی باتوں پر فوراًکان دھرتے ہیں تو بھی حکومت وقت کو کبھی گھبرانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ وہ جو طاقت میں ہوتے ہیں انہیں اپنی طاقت کا مکمل احساس ہونا چاہئے اور ایسے اقدامات کی طرف توجہ دینی چاہئے جس سے اپوزیشن کی بنائی ہوئی ہوا کا رخ موڑا جاسکے۔ یہ بھی حکومت میں ہوتے ہوئے کچھ ایسا مشکل نہیں ہوتا صرف حکومتیں کچھ نااہلی کے باعث کچھ عدم دلچسپی کی وجہ سے اور کچھ احتیاط نہ کرتے ہوئے ادراک کی کچھ کمی کے باعث معاملات کو اپنے لئے اُلجھا لیتی ہیں اور یوں اپوزیشن کی تنقید پر اُلجھنے لگتی ہیں جس کی کوئی ضرورت نہیں ہوتی، اس سے صرف وقت اور طاقت کا زیاں ہوتا ہے۔اس وقت کی حکومت کو بھی کچھ ایسی ہی مشکلات کا سامنا ہے۔ جناب وزیراعظم عمران خان کی سمت درست ہے، اُمید ہے اسی باعث آہستہ آہستہ ان کے ساتھیوں کی سمت بھی درست ہوتی چلی جائیگی۔ اس بار حکومت میں آنے کیلئے انہوں نے الیکشن جیتنے والوں کو ساتھ لیکر چلنے کا جو فارمولا استعمال کیا اس کے نتائج تو انہیں مل گئے لیکن الیکشن جیت سکنے والوں کی طبیعت کا کھوٹ بھی حکومت وقت کے اداروں میں مسلسل شامل ہو رہا ہے پھر اس حکومت میں ایک کمال کی کیفیت ہے، یہ خود فرشتوں کی ٹیم ہے اور باقی سب ہی چور ہیں ملک میں بد عنوانی اور کرپشن تو اتنی تہہ در تہہ ہے کہ ان کا خوف درست معلوم ہوتا ہے لیکن اس حکومت کو اپنی ٹیم منتخب کرنے کی کوئی تربیت لینی چاہئے تھی۔ یہ وہ کمال لوگ ہیں جو اپنی نااہلی کو بھی نہیں سمجھتے اور کسی اہل کی بات پر محض اس خوف سے کان نہیں دھرتے کہ کہیں وہ اہل اور یہ نااہل ثابت نہ ہو جائیں حالانکہ کوئی کتنا بھی نااہل ہو اگر اہل لوگوں کی معیتمیں رہیگا تو وہ اسے کسی نہ کسی پار لگا ہی دینگے۔ موجودہ حکومت کے وزراء کی اکثریت خود کو کامل عاقل سمجھتی ہے، نتیجہ ہمارے سامنے ہے۔ باتیں اچھی ہیں سمت درست ہے لیکن کہیں کوئی بہتری دکھائی نہیں دیتی، اُلٹا وہ لوگ جو انہیں ووٹ دیکر حکومت میں لانے والے تھے،خود سے اُلجھنے لگے ہیں کہ آخر ہم نے اس حکومت کو ووٹ ہی کیوں دیا ہے ان کی اُلجھن بھی ٹھیک ہے جس حکومت سے پڑھے لکھے ہونے اور فہم وفراست کی اُمید تھی ان کی عقل پر اپنے عاقل اور قابل ہونے کا پردہ پڑا ہے۔غلط لوگوں کا انتخاب ان کا طرہ امتیاز ثابت ہورہا ہے۔
اس حکومت پر خصوصاً وزیراعظم پر مسلسل تنقید ہوتی رہتی ہے کہ وہ جب سے آئے ہیں پوری دنیا سے چندہ مانگ رہے ہیں، کہنے والے تو درست کہتے ہیں ایک رائے اس حوالے سے یہ بھی ہے کہ وزیراعظم کی سیاست میں آمد کی خواہش کی زمین اسی چندہ مانگنے نے فراہم کی تھی۔پس منظر میں اس قدر چندہ ہے کہ اب تک وہ عادت نہیں چھوٹی۔معاشی معاملات میں آسانی کا آسان ترین طریقہ بھی یہی ہے خاص طور پر اس وقت جبکہ ملک کی جیب میں بے شمار چھید ہوں اور خزانے میں سکہ دکھائی نہ دیتا ہو، اس وقت آسان ترین طریقہ یہی ہے لیکن تشویش اس وقت جنم لیتی ہے کہ سمت کی درستگی کے باوجود کوئی دور اندیش دکھائی نہ دے اور حکمت عملی میں بس عطائی طریقوں کا زور دکھائی دیتا ہو۔ اس حکومت سے کسی پالیسی کی، کسی پروگرام کی، مستقبل کی کسی حکمت عملی کی اُمید تھی،یہ بھی اس حکمت عملی کے انتظار میں ہیں۔یہ خدا کی جانب سے ودیعت کئے جانے کے منتظر لگتے ہیں۔کرونا نے اس حکومت کی چندہ مانگنے کی صلاحیتوں کو دوبارہ دو چند کر دیا ہے اور لوگ بھی بیماری کے خوف میں اُلجھ گئے ہیں لیکن آخر کب تک یہ سب اسی طرح چلے گا۔اب پہلے سے زیادہ اس حکومت کو حکمت عملی کی ضرورت ہے لیکن افسوس کہ ان کی ٹیم میں آج بھی بیوروکریسی کے وہی کھوٹے سکے ہیں جو پہلے بھی اپنی کارروائیوں کے باعث مشہورتھے اور کیفیت یہ ہے کہ
نہ تم بدلے نہ دل بدلا نہ دل کی آرزو بدلی
میں کیونکر اعتبار انقلاب آسماں کر لوں
اور ہم جیسے لوگ خاموشی سے بس دُعا کر رہے ہیں کیونکہ اب دعا کا ہی آسرا ہے،حیلے تو سب کر کے دیکھ لئے۔