عجیب تذبذب کی کیفیت

پاکستان میں جب سے کورونا وباء کی خبر پھیلی ہے اُس
دن سے لیکر آج تک نہ حکومتی سطح پر، نہ عوامی سطح پر اور نہ ہی علماء کی سطح پر کوئی متفقہ اورمعقول ردعمل سامنے آیا ہے۔ پاکستان کے سیاستدان بے چاروں کا تو کیا ذکر کریں کہ کوئی آٹا،چینی سکینڈل بلکہ اب تو ناجائز ڈیلنگ ثابت ہوگئی ہے، میں ملوث ہیں اور کوئی پاورسکنڈل کی زد میں ہے اور کسی کو عمران فوبیا ہے اور خود عمران خان کو بھی اپوزیشن سے عجیب الرجی ہے کہ اس نازک وقت میں بھی اُن سے کوئی مشورہ وغیر ہ نہیں لیتااور اب تو حالت یا نوبت بہ ایں جا رسید کہ جب ٹیلی تھون کے موقع پر ایک صحافی نے اپوزیشن کو بھی فنڈریزنگ میں شامل کرنے کا کہا تو وزیراعظم نے کوئی زیادہ سنجیدہ جواب نہیں دیا۔ ہماری عوام بے چاری تو انگنت مسائل سے دوچار ہیں اور ان میں سے سب سے بڑا مسئلہ روٹی کپڑا مکان ہے اور اب اس بیروزگاری کی حالت وعالم میںتو بس روٹی ہی کی تلاش ہے لیکن دوسری طرف عجیب کیفیت ملاحظہ کی جا سکتی ہے کہ امداد میں ملنے والا راشن دکانوں پر بکتا نظر آتا ہے، دیہاتوں میںبسنے والے نے ابھی تک کورونا کو کوئی مسئلہ سمجھا ہی نہیں ہے اوربعض یار لوگ اس وباء کو عام نزلہ زکام سمجھتے ہیںاور بعض اس کا علاج نسوار سونگھنے میں تلاش کرتے ہیں، شہروں میں بھی تاجر پیشہ،ٹریڈرز اور دیہاڑی داروں کا مطالبہ یہ ہے کہ کرونا اپنی جگہ لیکن ہماری بقا اور خاندانوں کی روزی روٹی کا دارمدار تو اس پر ہے کہ ہم دکانیں کھولیں اورکاروبار کریں۔ آخر مہینوں لاک ڈائون ہم کیسے برداشت کرسکتے ہیں۔
کراچی کی تاجر تنظیموں کے عہدیداروں نے تو باقاعدہ دھمکیاں دیتے ہوئے دکانیں کھولنے اور لاک ڈائون ختم کر نے کیلئے جلوس نکالے۔ سندھ کے وزیراعلیٰ نے ابتداء میں بہت سخت لاک ڈائون کروایا لیکن تابہ کے؟ آخر اپنی عوام کے ہاتھوں وہ بھی مجبور ہوئے اور طرفہ تماشا یہ بھی کہ وزیراعظم اور وفاقی حکومت سندھ کی صوبائی حکومت کی مکمل لاک ڈائون کیساتھ متفق بھی نہ تھی۔
نتیجہ اس کا تذبذب کے سوا کیا نکلتا۔ اب اوپر سے جب وزیراعظم نے فرمایا کہ سندھ کی حکومت نے گھبراہٹ کے سبب صحیح فیصلے نہیں کئے تو ظاہری بات ہے کہ مرادعلی شاہ کے حوصلے تو ٹوٹنے تھے سو ٹوٹ گئے اور اب کراچی میں اور پورے ملک میں بقول وزیراعظم کے سمارٹ لاک ڈائون ہوگا یعنی جہاں کرونا کے کیسز ہوں گے اُس علاقے کو لاک ڈائون کرنا ہوگا۔ لیکن پیما،پی ایم اے اور ڈاکٹروں کی بعض دیگر تنظیموں کے نمائندہ اور معروف ڈاکٹروں نے کراچی میں پریس کانفرنس میں حکومت اور عوام سے دردمندانہ انداز میں درخواست کی کہ مئی کے پہلے دوہفتوں تک سخت لاک ڈائون کی ضرورت ہے ورنہ حالات قابو سے باہر ہونے کے خدشات لاحق ہوسکتے ہیں اور انہی حالات میں رمضان المبارک کا مہینہ جلوہ فگن ہوا تو ہمارے مولوی صاحبان، حفاظ کرام اور علماء کرام نے تو گویا لگامیں توڑنے کی دھمکیاں دیں، حکومت بے چاری مرعوب ہوئی اور بھاگم بھاگ بیس نکاتی ایس او پیز تیار کروا کر علماء سے جان چھڑائی۔
اب ذرا تماشہ ملاحظہ فرمائیں کہ مولانا فضل الرحمن، مفتی تقی عثمانی اور مفتی منیب الرحمن گھروںمیں نماز اور تراویح پڑھیں گے لیکن ان کے پیروکار، مریدین اور متبعین مساجد میںگھروں سے وضوبنا کر، ماسک چڑھا کر چھ چھ فٹ کے فاصلے پر ایک دوسرے سے الگ الگ کھڑے ہوکر تراویح پڑھیں گے۔ مساجد میں قالین وغیرہ لپیٹ کر صاف کلورین شدہ صحن میں نمازی سربسجود ہوں گے جبکہ حرمین الشرفین، سعودی عرب، مصر، ترکی، امارات اور دیگر بہت سارے مسلم ممالک میں ائمہ ،مؤذن اور انتظامیہ کے چند افراد باجماعت پانچ وقتہ نمازیں اور تراویح پڑھیں گے۔ کیا واقعی پاکستان میں بیس نکاتی لائحہ عمل روبہ عمل ہو سکتا ہے، اللہ کرے ایسا ہی ہو۔ اگرچہ دل ماننے کو تیار نہیں کہ ہم ایمان، اتحاد، تنظیم پر گزشتہ ستر برسوں میں کس حد تک عمل پیرا رہے ہیں ایک دنیا جانتی ہے ۔ ہم جیسے لوگ صرف دعا ہی کر سکتے ہیںکہ اللہ ہمیں اس تذبذب سے اپنی قدرت کیساتھ نکلنے کی توفیق عطا فرمائے اور وہ یوں کہ کرونا کو کن فیکون سے ختم کردے۔آمین۔