کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی

ہندکو زبان میں وہ جو کہتے ہیں کہ ''گہل تا کج منڑیں والی نئیں'' یعنی بات پر یقین تو نہیں آتا مگر اس کے آگے ہمارے ایک مرحوم کرمفرما اور بابائے ہندکو مختارعلی نیر نے پی ٹی وی کیلئے ایک طویل عرصے تک جو ہندکو مزاحیہ پروگرام لکھا کرتے تھے اس میں اوپر کے الفاظ کیساتھ ایک خوبصورت جملے کا تڑکا لگا کر اسے ایک نئی جہت دی تھی اور ایک کردار کے الفاظ میں کہلوایا تھا ''مولا انوں تختہ کرے'' بات تو ماننے کی نہیں ہے مگر جو نہیں مانتا اللہ اسے غارت کردے، یوں یہ ڈائیلاگ اب ضرب المثل بن چکا ہے، اب یہ ہمیں کیوں یاد آیا تو اس کی وجہ تسمیہ آج یعنی ہفتہ کے ایک اخبار میں چھپنے والی ایک خبر ہے جس پر اخبار نے ڈیڑھ کالمی سرخی یوں جمائی ہے کہ ''سحری وافطاری میں لوڈشیڈنگ نہیں ہوگی'' اور جب ہم گزشتہ کئی برس کے رمضان مقدس کے مہینوں کا جائزہ لیتے ہیں تو اس خبر کو حسب روایات پیسکو ہی کے زمرے میں ڈال کر وقتی طور پر اس سے دل پشوری تو کر سکتے ہیں مگر یقین کے درجے پر اسے رکھنے کی غلطی نہیں کر سکتے کیونکہ بجلی کمپنیوں والوں کا وتیرہ ہی یہی رہا ہے کہ ہر سال وہ عوام کیلئے اس قسم کی سٹیریو ٹائپ خوشخبری سے انہیں طفل تسلیاں تو دیتے ہیں مگر پھریہ یقین دہانیاں نہ جانے کب سے یوٹرن کی اپنی ایک تاریخ رکھتی دکھائی دیتی ہیں اور اب تو ویسے بھی ملک پر ''یوٹرن'' کا راج ہے، سو تھوڑا سا انتظار کرلیں انشاء اللہ جلد ہی اس بیان کی حقیقت عوام پر عیاں ہو جائے گی یعنی بقول شخصے ''عیاں را چہ بیاں'' اور وہ جو ایک شاعر نے کہا تھا تو اس کی اہمیت سے کیسے انکار کیا جا سکتا ہے کہ
کیا کروں میں یقیں نہیں آتا
تم تو سچے ہو، بات جھوٹی ہے
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ترسیلات زر میں کمی آگئی ہے، کورونا کے معاملے پر امداد نہیں ملی اس لئے ہمیں قوم بن کر امتحان سے نبردآزما ہونا ہے، بات تو کسی حد تک درست ہے مگر اس کرونا نے صرف پاکستانیوں ہی کو مشکلات سے دوچار نہیں کیا دنیا کی تقریباً تمام قومیں اور ممالک ان دنوں کشکول بدست دکھائی دیتی ہیں تو پھر ہماری پھٹی ہوئی جھولی میں کیسے چند سکے ڈال کر ہماری مدد کر سکتی ہیں، اگرچہ گزشتہ روز ملک کے مختلف ٹی وی چینلز پر ٹیلی تھون نشریات کے دوران اندرون وبیرونی ملک سے عطیات ضرور وصول ہوئے اور لگ بھگ پونے تین ارب روپے جن کی مالیت بنتی ہے جبکہ اس موقع پر سابق کرکٹر جاوید میاں داد نے بھی وزیراعظم عمران خان سے فون پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ عمران خان انہیں ملاقات کا وقت دیں تو ان کے پاس ایک ایسا آئیڈیا ہے جس سے سارا قرضہ اُتر جائے گا، انہوں نے البتہ اس ''مانگنے'' کی قدیم روایت کے بارے میں یہ ضرور کہا کہ ''ہماری تو قسمت ہی مانگنا رہ گیا'' خدا جانے اس جملے سے وہ قوم کو منگتا ثابت کر کے طنز کے تیر چلانا چاہتے تھے یا پھر واقعی افسوس کا اظہار کر رہے تھے، بہرحال جو بھی ہو وزیراعظم کو اپنے دیرینہ ساتھی کو ملاقات کیلئے ضرور وقت دنیا چاہئے کیونکہ جاوید میاں دادا جس زمانے میں کرکٹ کھیلا کرتے تھے ان دنوں کرکٹ کے کھلاڑیوں میں ایک بات پر اتفاق ہوا کرتا تھا کہ کسی بھی میچ میں کسی بھی کھلاڑی کو مین آف دی میچ یا مین آف دی سیریز قرار دیکر ٹرافی اور نقد رقم دی جاتی تو ٹرافی تو اس کی ذاتی ملکیت ہوتی البتہ نقد رقم تمام کھلاڑیوں میں تقسیم کی جاتی، مگر جاوید میاں داد نے اس فارمولے پر کبھی عمل نہیں کیا چونکہ اس قسم کے اعزازات زیادہ تر انہی کے حصے میں آتے اسلئے وہ نہ تو اپنی رقم میں کسی دوسرے کھلاڑی کو حصہ دیتا، نہ ہی کسی دوسرے کھلاڑی کو انعام ملتا تو اس سے اپنا حصہ طلب کرتا۔ بہرحال میاں داد سے ملنے میںکوئی حرج نہیں ہے، ممکن ہے وہ کوئی ایسا فارمولا بتا دیں جس کی بدولت فنڈز اکھٹے کرنے اور سارا قرضہ اُترنے کی کوئی صورت نکل آئے۔
خبر آئی ہے کہ مفتی شہاب الدین پوپلزئی نے وزیر سائنس وٹیکنالوجی فواد چوہدری اور مرکزی رویت ہلال کمیٹی کے سربراہ مفتی منیب الرحمن کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طنزیہ پوسٹ لگائی ہے جس میں انہوں نے لکھا ہے کہ ''24اپریل کا چاند دیکھنے کیلئے دوربین کے استعمال کی ضرورت پیش آئے گی'' چوہدری فواد حسین کو مخاطب کرتے ہوئے مفتی پوپلزئی نے لکھا کہ محترم فواد چوہدری مجھے اُمید ہے آپ کو چاند دیکھنے کیلئے دوربین کا استعمال نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ کل چاند کی رعنائیاں اندھوں کو بھی چکا چوند کریں گی۔ مفتی منیب الرحمن کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ہے کہ مفتی منیب الرحمن، بصد احترام کیا 24اپریل کے چاند کو دیکھنے کیلئے دوربین لگائیں؟ انہوں نے سب کو پہلی افطاری کی مبارکباد بھی دی ہے جہاں تک اس سوشل میڈیا کا تعلق ہے تو اس پر ہر قسم کی مخلوق سرگرم ہے اور دوسروں کے ناموں سے فیک اکاؤنٹس کے ذریعے نہ صرف اکاؤنٹ والے کو پریشانی سے دورچار کرتے ہیں بلکہ جھوٹ کے طومار سے دوسروں کیلئے بھی مسائل کھڑے کرتے ہیں، بہرحال اس کا پتہ تو تب چلے گا جب مفتی صاحب اس ضمن میں اپنی پوزیشن واضح کریں گے کیونکہ وہ جس خانوادے سے تعلق رکھتے ہیں ان کا یہ وتیرہ کبھی نہیں رہا کہ وہ فضول بحث میں خود کو اُلجھائیں، اس لئے ممکن ہے کہ جس نے بھی ان کے نام سے فیک اکاؤنٹ چلا رکھا ہو (ممکن ہے) تو اس کا مقصد ملک کے جید علمائے کرام کو ایک دوسرے کے سامنے صف آراء کرنا ہو، اگر واقعی ایسا ہے تو نہایت قابل افسوس ہے۔
کون کہتا ہے کہ ہم تم میں لڑائی ہوگی
یہ ہوائی کسی دشمن نے اُڑائی ہوگی